کامرس اور صنعت کی وزارتہ

جناب پیوش گوئل کا کہنا ہے کہ لیبر – انٹینسیو شعبہ جات جیسےکہ ٹیکسٹائل، پلاسٹکس، فوٹ ویئر، آٹو عناصر، کھیل کے سامان، زرعی/خوراک ڈبہ بندی شعبے میں کروڑوں نوکریاں پیدا کی جاسکتی ہیں


جناب گوئل کا کہنا ہے کہ بہت سے شعبہ جات ایسے ہیں جہاں مزدوری لاگت کا اہم عنصر ہے، یہ ہمارا مقابلہ جاتی اور موازناتی فائدہ ہے، جسے ہمیں بروئے کار لانا چاہئے

جناب گوئل کا کہنا ہے کہ مینوفیکچرنگ شعبہ میں ملک کو خوشحالی تک لے جانے کی طاقت ہے اور یہ لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکال سکتا ہے

جناب پیوش گوئل کا کہنا ہے کہ آنے والے سالوں  میں ہندوستان بین الاقوامی اقتصادیات کے احیا اوربحالی میں اہم کردار ادا کرے گا

جناب گوئل کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو کاروبار اور خدمات کی برآمدات میں ایک کھرب ڈالر کی خواست گاری کرنی چاہئے

جناب گوئل نے صنعتی برادری سے اپیل کی کہ لاجسٹک لاگت کو کم کرنے کے لئے گتی شکتی کا استعمال کریں

جناب گوئل نے سی آئی آئی مینوفیکچرنگ کانکلیو میں افتتاحی خطبہ دیا

Posted On: 24 FEB 2022 8:46PM by PIB Delhi

تجارت اور صنعت ، ٹکسٹائلز، امور صارفین اور خوراک اور عوامی تقسیم کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان بین الاقوامی اقتصادیات کی احیا اور بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ جناب گوئل نے آج سی آئی آئی مینوفیکچرنگ کانکلیو 2022 میں اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ کووڈ مابعد دنیا میں ہم ایک نیا عالمی نظام دیکھنے جارہے ہیں۔

جناب گوئل نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ہمارے سامنے بین الاقوامی جیو پولیٹیکل کی غیر یقینی صورتحال ہے، جیسا کہ آج ہم یوکرین- روس بحران میں دیکھ رہے ہیں، لیکن میں بہت زیادہ پراعتماد ہوں کہ ہندوستان آنے والے سالوں میں بین الاقوامی اقتصادیات کی احیا اور بحالی میں اہم رول ادا کرے گا۔ مابعد کووڈ دنیا میں ہم نیا عالمی نظام دیکھنے جارہےہیں ،  اگرچہ ہم آج 3 کھرب ڈالر کی معیشت ہیں، ہمیں اِس سے زیادہ بڑے اہداف کے لئے خواست گاری کرنی چاہئے۔ذاتی طور پرمیرا خیال ہے کہ 2026 تک ہم اب بھی 5 کھرب ڈالر معیشت کو اپنا ہدف بنا سکتے ہیں، لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک آپ حضرات پوری قوت سے اس بلند نظر منصوبے کو انجام دینے کے لئے شرکت نہ کریں‘‘۔

جناب گوئل نے صنعتوں کی بڑی شخصیتوں سے اپیل کی کہ وہ لیبر انٹینسو شعبہ جات میں زبردست سرمایہ کاری کریں۔

انہوں نے کہا کہ ’’  آپ کے اندر قوت ہے کہ لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکال سکیں اور پسماندہ لوگوں کو بہتر معیار زندگی عطا کریں۔ہم ایک ساتھ مل کر لاکھوں بلکہ کروڑوں نوکریاں  ٹیکسٹائل شعبے، پلاسٹکس، فوٹ ویئر، آٹو عناصر، کھیل کے سامان، زرعی/ خوراک ڈبہ بندی کے میدان میں پیدا کرسکتے ہیں۔بہت سے شعبہ جات ایسے ہیں، جہاں لاگت کا عنصر اہم ہے۔ یہ ہمارا مقابلہ جاتی اور موازناتی فائدہ ہے، جسے ہمیں بروئے کار لانا چاہئے‘‘۔

جناب گوئل نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہندوستان کی برآمدات رواں مالی سال میں 650 ارب ڈالر سے متجاوز ہوجائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ’’اس سال کے ہر مہینے میں اپریل سے ابھی تک یعنی جنوری تک اور آئندہ دو مہینوں کے بارے میں بھی امید ہے کہ ہم ہندوستان کی برآمدات کی تاریخ میں ایک ریکارڈ قائم کردیں گے۔ہر ماہ میں ایک ریکارڈ برآمدات ہوتی ہیں۔یہ ایک تاریخی حصولیابی ہوگی کہ کاروبار کے برآمدات میں 400 ارب ڈالر کو پار کیا جائے، بلکہ خدمات بھی انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ میرا اندازہ تھا کہ خدمات 225 سے متجاوز ہوجائیں گی، پھر میں نے اس کو 240 مقرر کیا۔ اب میں نے اپنے خدمات کی توقع 250 ارب ڈالرکے لئے  مقرر کیا ہے۔ ایک سال کے اندر ہدف پر2 مرتبہ نظر ثانی کی گئی ہے۔ یہ خدمات کی قوت ہے۔‘‘

جناب گوئل نے کہا کہ ’’دونوں جانب ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ 2030 تک خدمات زیادہ تیزی سے بڑھیں گی اور ہندوستان کو کاروبار کی برآمدات میں ایک کھرب ڈالر کے بقدر اور خدمات کے برآمدات میں بھی ایک کھرب ڈالر کی خواست گاری کرنی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خدمات کا انحصار مینوفیکچرنگ شعبے پر ہے اور اس لیے آپ میں قوت ہے کہ ملک کو خوشحالی تک لے جائیں۔‘‘

جناب گوئل نے کہا کہ 2026 تک ہندوستان کو 5 کھرب ڈالر کے بقدر معیشت کو اپنا ہدف بنانا چاہئے۔ کووڈ-19 نے عالمی سپلائی چین کی نزاکت کو بے نقاب کردیا ہے اور’  آتم نربھرتا ‘کو مرکزی مقام میں رکھ دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارے پاس ملک میں نمایاں ایف ڈی آئی کی آمد ہے۔ آج ہم دنیا میں موبائل ہینڈ سیٹ کی مینوفیکچرنگ میں دوسرے سب سے بڑے مینوفیکچرر ہیں۔ دنیا میں سب سے بڑوں میں ہونے کی وجہ سے ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ان کامیابیوں کو دوسرے اور نئے میدانوں میں بھی نقل کریں اور عالمی چمپئن بنیں۔ ‘‘ جناب گوئل نے کہا کہ ’’ہماری اسٹارٹ اپس ہمارے اندر فخر پیدا کررہی ہیں اور ہندوستان کی ٹکنالوجی کی کہانی کی چمپئن بنا رہی ہیں۔ ہمارے پاس  2022 کے 53 دنوں کے اندر 10 یونیکارنس تھے، وہ صرف بادام نہیں ہیں بلکہ بادام کی برفی ہیں۔‘‘

جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان کو عالمی مقابلے – اسکیل کی اقتصادیات، ڈیموگرافک ڈیویڈینڈ، میں ای ڈی جی ای پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور صنعت کو معیار اور کارکردگی پر توجہ دینی چاہئے۔  ’برانڈ انڈیا‘ کو ابھرنے کے لئے ہمیں پابندی سے شعور تک معیار کے تئیں اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ ’’البتہ، مابعد کووڈ 19 دنیا میں ہمیں اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم ہر چیز کے ماسٹر نہیں بن سکتے! مائیکل پورٹر کی مقابلہ جاتی فائدے کے نظریے اور ڈیوڈ ریکارڈو کے موازناتی فائدے کے نظریے کی اتباع میں ہمیں خاص میدانوں کی شناخت کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

وزیر موصوف نے نجی شعبے کی پی ایم گتی شکتی (این ایم پی) کے استعمال کے لئے  کثیر جہتی کنکٹوٹی کے لئے اور لاجسٹکس لاگتوں کو کم کرنے کی غرض سے ہمت افزائی کی۔

 انہوں نے کہا کہ ’’ آج ہمارے پاس 360 ڈاٹا کی سطحوں سے زیادہ جو کہ اے پی آئیز کے ذریعہ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں، اہم پی ایم گتی شکتی ہے۔میرے خیال میں یہ ایک انقلابی نظریہ ہے، جس کی آج تک دنیا میں کہیں اور کوشش نہیں کی گئی۔‘‘

جناب گوئل نے تمام صنعتی ایسوسی ایشنوں  کے لئے 3 نکاتی منصوبہ عمل پیش کیا:

  • بڑی کمپنیوں کو ایم ایس ایم ایز سے مربوط کرنے کے لئے ہمت افزائی کی جائے اور وقت پر ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔
  • ایک دوسرے کی گھریلو مینوفیکچرنگ میں سپورٹ کی جائے۔
  • جوان دماغوں کو مینوفیکچرنگ میں لانے کے لئے ٹرینڈ کیا جائے۔

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا حوالہ دیتے ہوئے ’’ہندوستان کے پاس اپنی شاندار ماضی اور مستقبل کا وژن موجود ہے، تاکہ وہ اِس اصطلاح کے ہر مفہوم کے اعتبار سے طاقت ور بنے۔‘‘ جناب گوئل نے کہا کہ ہمیں ہندوستان کو ہر مفہوم کے لحاظ سے مضبوط بنانے کے لئے ساتھ آنا چاہئے اور اِس جانب بڑا اور جرأتمندانہ اقدام کرنا چاہئے۔

*************

( ش ح ۔ اک ۔ ع ر (

 U. No. 1980



(Release ID: 1801020) Visitor Counter : 178


Read this release in: English , Hindi , Marathi