ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 FEB 2022 6:36PM by PIB Delhi
تمام قومی راجدھانی خطے (این سی آر) میں فضائی آلودگی کی لعنت سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے، 15فروری2022 تک این سی آر اوراس سے منسلک علاقوں (سی اے کیو ایم) میں ہوا کے معیار کے بندوبست سے متعلق کمیشن کے اڑن دستے نے کمیشن کے ذریعہ جاری کردہ قانونی ہدایات اور دہلی-این سی آر کی ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے موجودہ قواعد کے تحت عمل آوری نفاذ اور تعمیل کے لیے کُل 4890 مقامات کا معائنہ کیا ہے۔
کمیشن کے اڑن دستے نے کُل 407 یونٹس/ اداروں (بشمول انڈسٹریز، سی اینڈ ڈی سائٹس اور ڈی جی سیٹ) کا معائنہ کیا تھا اور انفورسمنٹ ٹاسک فورس (ای ٹی ایف) کے ذریعہ نوٹس جاری کیے گئے تھے۔یہ اڑن دستےخلاف ورزی کرنے والوں کا پتہ لگانے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کے لیے دہلی-این سی آر کے تمام حصوں کا معائنہ کر چکے ہیں۔15فروری 2022کوکُل 392 یونٹوں / اداروں کو عملی طور پر بندکردیا گیاتھا۔
دسمبر 2021 سے،سی اے کیو ایم نے 40 اڑن دستے(اتر پردیش، ہریانہ اور قومی دارالحکومت علاقہ دہلی کےاین سی آر اضلاع ہرایک کے لیے12 اور راجستھان کے این سی آر اضلاع کے لیےچار) تشکیل دئے ہیں۔ جومختلف علاقوں میں یونٹوں/ اداروں/ سرگرمیوں کا بڑے پیمانے پر معائنہ کر رہے ہیں۔مختلف شعبہ جات (بشمول صنعتی، ٹرانسپورٹ/ گاڑیاں، تعمیرات/ انہدامی کارروائیاں، سڑکوں اور کھلے علاقوں سے دھول اور دیگر منتشر ذرائع) فضائی آلودگی کی بڑھتی ہوئی فضا میں اضافہ کررہے ہیں۔
دہلی-این سی آر کی فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے مخصوص کوششوں کے ساتھ ، سی اے کیو ایم کے اڑن دستوں نے 15 فروری 2022 تک دہلی میں 94 مقامات، ہریانہ کے این سی آر میں 92 مقامات، اترپردیش میں 173 مقامات اور راجستھان کے این سی آر خطے 48 جگہوں کا معائنہ کیا اور انہیں بند کرنے کے نوٹس جاری کئے ۔جبکہ کل 407جگہوں میں سے، 187 یونٹوں / اداروں کو مناسب ماحولیاتی معاوضہ (ای سی) لگانے کے بعد دوبارہ کام شروع کرنے کی اجازت دی گئی ۔ مزید،برآں معمولی خلاف ورزیوں کو متعلقہ قوانین کے تحت مناسب کارروائیوں کے لیے ڈی پی سی سی /ایس پی سی بیز کو بھیجا جاچکا ہے۔
کمیشن کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، اڑن دستے مسلسل اچانک دورے کر رہے ہیں، صنعتی یونٹوں، سی اینڈ ڈی جگہوں، کمرشل/رہائشی یونٹوں، فضائی آلودگی کے ہاٹ اسپاٹ وغیرہ پر فیلڈ کی سطح کی گہری چھان بین کر رہے ہیں اور کمیشن کو اس کی تفصیلی رپورٹ کر رہے ہیں۔
سی اے کیو ایم نے ریاستی حکومت کے حکام،آلودگی پر قابو پانے کا مرکزی بورڈ (سی پی سی بی) اورآلودگی پرقابو پانے کے بورڈ (ایس پی سی بیز) سمیت عمل آوری سے متعلق متعلقہ ایجنسیوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی سختی کے ساتھ عمل آوری اور نفاذ کویقینی بنائیں۔
*************
ش ح ۔ ش ر۔ م ش
U. No.1877