الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سیمی کون انڈیا نے سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے فیب کے لیے اپلیکیشن  کی منظوری کے ساتھ آگے قدم بڑھایا


20.5 ارب  ڈالر (153,750 کروڑ روپے) کی کل سرمایہ کاری کے ساتھ  پہلے راؤنڈ میں پانچ تجاویز موصول ہوئیں

ایک کمرشیل فیب کے طور پر جدیدکاری  کے لیے ایس سی ایل موہالی کو الیکٹرانکس اوراطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے دائرے  میں لایا گیا

Posted On: 19 FEB 2022 5:10PM by PIB Delhi

 

ملک میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کو بڑھانے اور وسعت دینے اور ایک مضبوط اور پائیدار سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے ماحولیاتی نظام کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے، مرکزی کابینہ نے 15.12.2021 کو 76,000 کروڑ روپے  کے خرچ کے  ساتھ سیمی کان انڈیا  پروگرام کو منظوری دی۔

سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے فیب کے قیام کے لیے  پہلے راونڈ کی اپلیکیشنز 15.02.22 تک طلب کی گئی تھیں ۔ سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے مینوفیکچرنگ کے اس  گرین فیلڈ  سیگمنٹ  میں   اپلی کیشن  جمع کرنے کے لیے ایگریسیو ٹائم لائنز کے باوجود اسکیم کو اچھا رسپانس  ملاہے۔

سیمی کنڈکٹر فیب

      سیمی کنڈکٹر اسمارٹ فون اور کلاؤڈ سرورز سے لے کر جدید کاروں، انڈسٹریل آٹومیشن، اہم انفراسٹرکچر اور  ڈیفنس سسٹم  تک کے الیکٹرانک آلات کے بلڈنگ بلاکز  ہیں۔ بھارتی سیمی کنڈکٹر بازار 2020 میں 15 ارب  ڈالر کا تھا  اور 2026 تک اس کے 63 ارب  ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے۔ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹر ویفرز  بنانے کی ایک  پیچیدہ، سرمایہ کاتہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی عمل ہے۔

بھارتی سیمی کنڈکٹر مشن کی تشکیل   سیمیکان انڈیا پروگرام کے لیے  وقف ادارے کے طور پر  کی گئی ہے ۔ اس کو 20.5 ارب  ڈالر (153,750 کروڑ روپے) کے برابر کی کل سرمایہ کاری کے ساتھ سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے فیب کے لئے  پانچ   درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

تین کمپنیاں یعنی فاکسکان  کے ساتھ  مشترکہ منصوبے میں ویدانتا، آئی جی ایس ایس ونچرز پی ٹی آئی، سنگاپور؛ آئی ایس ایم سی نے سیمی کنڈکٹ فیب کے لئے درخواستیں جمع کی ہیں۔درخواستوں کو تقریباً 120000 ویفرز ہر مہینے کی صلاحیت اور 13.6 ارب  ڈالر کی تخمینہ سرمایہ کاری  کے ساتھ 28 این ایم سے 65 این ایم سیمی کنڈکٹر فیب  کے قیام کے لئے حاصل کیا گیا ہے جس میں مرکزی حکومت سے تقریباً 5.6 ارب ڈالر کی مالی مدد کی مانگ کی جارہی ہے۔

ڈسپلے فیب

      ڈسپلے الیکٹرانک مصنوعات کا ایک اہم حصہ ہے۔  بھارت کے ڈسپلے پینل مارکیٹ کے 7 ارب  ڈالر ہونے کا اندازہ ہے اور اس کے 2025 تک بڑھ کر 15 ارب  ڈالر ہوجانے کی امید ہے۔ بھارت میں ڈسپلے فیب  کے قیام کے لئے اسکیم کے تحت، جدید ایمولیڈ ڈسپلے پینل جن کا استعمال جدید اسمارٹ فونز میں کیا جاتا ہے ، کی مینوفیکچرنگ  کے لئے جین 6.8  ٹی ایف ٹی ایل سی ڈی ڈسپلے فیب اور چھٹی جنریشن  ڈسپلے فیب کے قیام کے لئے درخواستیں  دائر کی گئی ہیں۔

دو کمپنیوں یعنی  ویدانتا اور ایلسٹ نے 6.7 ارب ڈالر  کی تخمینہ سرمایہ کاری  کے ساتھ ڈسپلے فیب کے لئے درخواستیں جمع کی ہیں جن میں مرکزی حکومت سے تقریباً 2.7 ارب ڈالر کی  مالی مدد مانگی جارہی ہے۔

سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے فیب اسکیموں کے تحت اپلی کینٹ  کمپنیوں کو انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم) کے ذریعہ  اکنولجمنٹ جاری کی گئی ہے، جس میں سیمی کون انڈیا پروگرام کی قیادت کرنے کے لیے ایک خود مختار ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے ۔ آئی ایس ایم ان اپلیکینٹ  کمپنیوں کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا جو عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ریاستوں تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ 300-500 ایکڑ ڈیولپمنٹ اراضی، 100 کے وی اے  بجلی، 50  ایم ایل ڈی  پانی، قدرتی گیسوں کی دستیابی اور جانچ اور سرٹیفیکیشن کے لیے مشترکہ سہولیاتی مراکز کے ساتھ ہائی ٹیک کلسٹر ز کوقائم کرنے کے لئے ریاستی حکومتوں کے ساتھ  مل کر کام کرے گا۔

کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر/سلیکون فوٹوونکس/سینسر فیب اور سیمی کنڈکٹر اسمبلی، ٹیسٹنگ،  مارکیٹنگ اور پیکیجنگ(اے ٹی ایم پی )/او ایس اے ٹی  سہولیات

فیبریکیشن   اور  پیکیجنگ ٹیکنالوجیز کی اپلیکیشن  کے شعبوں میں قابل اعتماد الیکٹرانکس ویلیو چین قائم کرنے کے لئے بھارت میں کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر/سلیکون فوٹوونکس/سینسر فیب اور سیمی کنڈکٹر اسمبلی، ٹیسٹنگ، مارکیٹنگ اور پیکیجنگ (اے ٹی ایم پی)/ او ایس اے ٹی سہولیات کے قیام کے لئے اسکیم پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

  چار کمپنیوں یعنی ایس پی ای ایل سیمی کنڈکٹر لمیٹڈ، ایچ سی ایل، سرما ٹیکنالوجی اور ویلنکنی الیکٹرانکس اسکیم کے تحت سیمی کنڈکٹر پیکجنگ کے لئے رجسٹر ڈہوئی ہیں؛ اور روٹونشا انٹرنیشنل ریکٹیفائر لمیٹیڈ اس اسکیم کے تحت کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹرز کے لیے رجسٹرڈ ہوئی ہے۔

ایس سی ایل موہالی

      کابینہ کی منظوری کے مطابق، ایس سی ایل موہالی کو بھی خلا ئی محکمہ سے  ایم ای آئی ٹی وائی کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اسے بھارتی سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کمپنیوں کے ذریعہ وسیع  شراکت داری کے لیے تجارتی  ہب کے طور پر کھولا جا رہا ہے۔ اس میں سیمی کنڈکٹرز میں آتم نربھر بھارت کی کھوج کو مضبوط  کرنے میں مدد ملنے کی امید ہے ۔بھارت 50,000 سے زیادہ ڈیزائن پیشہ وروں کے ساتھ سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور کئی ڈیزائن سروسز کمپنیوں کے لیے سب سے پسندیدہ مقامات میں سے ایک ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں بھارت میں 2000 سے زیادہ آئی سی اور چپس ڈیزائن کی گئی ہے۔

سیمی کنڈکٹر ڈیزائن

      ڈیزائن سے منسلک ترغیباتی اسکیم بھارت سیمی کنڈکٹر مشن پورٹل پر رجسٹرڈ   درخواستوں کے ساتھ گھریلو کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس  کے بیچ دلچسپی پیدا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ تین کمپنیوں یعنی ٹرمینس سرکٹس، ٹرائی اسپیس ٹیکنالوجی اور کیوری مائیکرو الیکٹرانکس نے اس  اسکیم کے تحت درخواستیں جمع کی ہیں۔

  اپلیکینٹ کمپنیوں نے  درخواستوں کے حصے کے طور پر ٹیکنالوجی کے حصول، تحقیقی اداروں کے ساتھ  شراکت داری  اور اشتراک  کے لیے تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ سیمی کون انڈیا پروگرام کے تحت کمپنیوں کی پرجوش حصہ داری  اگلے 20 سالوں میں سیمی کنڈکٹرز میں ٹیکنالوجی کی قیادت کے ہدف کے ساتھ 'آتم نر بھر بھارت' کے عزت مآب  وزیر اعظم کے وژن کو تقویت فراہم کرتی ہے۔ اس سے بھارت کی معیشت کو فروغ ملے گا اور قابل ذکر روزگار پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ ہنرمند افرادی قوت کے پول  پیدا ہونے کی بھی امید ہے۔

      سیمیکان انڈیا پروگرام الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ڈیجیٹل انڈیا پروگرام   اورمیک اِن انڈیا پروگرام کی کامیابیوں پرمبنی ہے۔ ان قابل عمل اسکیموں نے سیمی کون انڈیا پروگرام کے لئے  ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے، جس سے ملک سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے مینوفیکچرنگ کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایک موزوں  اور مسابقتی ملک بن گیا ہے۔

 

************

 

ش ح ۔ ف ا  ۔  م  ص

 (U:1804)



(Release ID: 1799725) Visitor Counter : 112


Read this release in: English , Hindi , Bengali , Punjabi