ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
ملک میں ای –کچرے کا انتظام
प्रविष्टि तिथि:
10 FEB 2022 1:27PM by PIB Delhi
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبے نے آج راجیہ سبھا میں درج ذیل معلومات فراہم کیں۔
ای-کچرا(انتظام) کے ضابطے، 2016 کے تحت اکیس (21) قسم کے الیکٹریکل اور الیکٹرانک آلات (ای ای ای ) نوٹیفائی کیے گئے ۔ نوٹیفائی کردہ یہ ای ای ای اپنی زندگی کے خاتمہ پر ای –کچرا بن جاتے ہیں۔ ای- کچرا پیدا ہونے کے تخمینہ کا ان پٹ ڈیٹا صرف مالی سال 2017-18 کا ہی دستیاب ہے اور وہ بھی صرف قومی سطح پر پیدا ہونے والے کچرے کا۔ قومی سطح پر ای –کچرا پیدا ہونے کی معلومات مالی سال 2017-18 ، 2018-19 اور 2019-20 کے لیے دستیاب ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
نمبر شمار
|
مالی سال
|
پیدا ہونے والا کچرا (ٹنوں میں)
|
-
|
2017-2018
|
7,08,445
|
-
|
2018-2019
|
7,71,215
|
-
|
2019-2020
|
10,14,961.2
|
خطرناک اور دیگر کچرےکی درآمد اور برآمد کی نگرانی وزارت کے ذریعے نوٹیفائیڈ خطرناک اور دیگر کچرے (انتظام اور بین سرحدآمدورفت ) کے ضابطے، 2016 کے تحت کی جاتی ہے۔ حکومت نے ملک میں ای-کچرا کی درآمد پر 4 اپریل 2016 سے پابندی لگا رکھی ہے، جس کے تحت مذکورہ بالا ضابطوں کے شیڈول -6 (بیسل نمبراے1180) میں ای-کچرا کو درج کیا گیا ہے۔ ای-کچرا کی پیداوار میں اضافہ گزشتہ سالوں میں ملک میں ای ای ای کی فروخت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔
*****
ش ح۔ ق ت۔ ت ع
U NO:1423
(रिलीज़ आईडी: 1797168)
आगंतुक पटल : 240