نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی وزارت نے قومی اسپورٹس یونیورسٹی کے فروغ کے لیے اب تک مجموعی طور پر 87.65 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں: جناب انوراگ ٹھاکر
Posted On:
08 FEB 2022 4:59PM by PIB Delhi
منی پور میں، قائم قومی اسپورٹس یونیورسٹی، کھیلوں کود سے متعلق سائنسز، کھیل کود کی ٹیکنالوجی، کھیلو کود کی کوچنگ کے شعبوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے علاوہ کھیلوں کے منتخب مضامین کے لیے، قومی تربیتی مرکز کے طور پر کام کرتی ہے۔ قومی اسپورٹس یونیورسٹی، راجستھان اور کیرالہ سمیت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے طلباء اور کھلاڑیوں کی دیکھ بھال کرے گی۔
نوجوانوں کے امور اور کھیل کی وزارت نے مجموعی طور پر آج تک 87.65 کروڑروپئے کا فنڈ جاری کیا ہے جس میں موجودہ مالی برس 22-2021 کے دوران 5.49 کروڑ روپئے کی رقم، مرکزی کیمپس کے قیام/ تعمیر اور منی پور میں عارضی کیمپس کے کام کے لیے شامل ہیں۔
تعلیم، آئین کی مرکزی فہرست کے تحت آتی ہے۔ زیادہ تر اسکول متعلقہ ریاستی امتحانی بورڈ کے تحت آتے ہیں۔ اس لیے اسکول کا نصاب بڑی حد تک ریاستی حکومتوں کے ذریعے ہی طے کیا جاتا ہے۔ البتہ نصاب کا قومی خاکہ (این سی ایف) ، 2005 کے مطابق صحت اور جسمانی تعلیم، دسویں جماعت تک ایک لازمی مضمون ہے جبکہ اعلیٰ ثانوی مرحلے میں یہ ایک اختیاری مضمون ہے۔
ایس ٹی سی (ہندوستان کی کھیل کود کی اتھارٹی کا تربیتی سینٹر) کے 90 توسیعی مراکز، ہندوستان کی کھیل کود کی اتھارٹی کے تحت کام کر رہے ہیں جن میں 60 کھیلو انڈیا مراکز اور 10 ریگولر اسکول شامل ہیں۔ ملک بھر میں اسکولوں میں قائم زیادہ تر توسیعی مراکز فعال ہیں۔ مزید برآں، ’’ریاستی سطح کے کھیلو انڈیا مرکز‘‘ عمودی طور پر رہائشی سہولیات کے ساتھ 4 کیندریہ ودیالیہ، اکتوبر 2019 سے کھیل کود کے اسکول کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس عمودی سہولیت کے تحت حکومت ہند کی طرف سے فی کھلاڑی سالانہ 150000 روپئے کی شرح سے بورڈنگ ، قیام، تعلیم، تربیت، مقابلہ جاتی نمائش، میڈیکل کے اخراجات کے لیے فراہم کئے جاتے ہیں۔
یہ معلومات نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کے مرکزی وزیر جناب انوراگ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ا ع۔ر ا۔
U-1312
(Release ID: 1796710)
Visitor Counter : 134