وزارت خزانہ

نیلانچل اسپات نگم لمیٹڈ کی نجی کاری کے لیے جامع خریدار کی منظوری

Posted On: 31 JAN 2022 2:31PM by PIB Delhi

سڑک  نقل وحمل اور شاہراہوں  کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری،  خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن اور کامرس اور صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل پر مشتمل ایک متبادل طریقہ کار نے، 12100 کروڑ روپئے کی بولی صنعت ویلیو پر، 4 سی پی ایس ایز  اور دو اڈیشہ ریاستی سرکار کی ایس ایز کے مشترکہ پروجیکٹوں کے شراکت داروں کے 93.71 فیصد حصص کے لیے، میسرز ٹاٹا اسٹیل لونگ پروڈکٹ لمیٹڈ کی سب سے اونچی بولی کو منظوری دے دی ہے۔

 نیلانچل اسپاٹ نگم لمیٹڈ (این آئی این ایل)، ایم ایم ٹی سی، این ایم ڈی سی، بی ایچ ای ایل، ایم ای سی او این نامی 4 سی پی ایس ایز  اور او ایم سی اور آئی پی آئی سی او ایل نامی اڈیشہ سرکار کی دو سرکاری شعبے کی کمپنیوں کا ایک مشترکہ پروجیکٹ ہے ۔این آئی این ایل کا اڈیشہ کے کالنگا نگر شہر میں 1.1 ایم ٹی کی صلاحیت کا ایک مربوط فولاد کا پلانٹ ہے۔یہ کمپنی بہت زیادہ نقصان میں چل رہی ہے اوریہ پلانٹ 30 مارچ 2020 سے بند پڑا ہے۔ کمپنی کا 31 مارچ 2021 کے مطابق6600 روپئے سے زیادہ کا بڑا قرض اور دیگر رقوم قابل ادائیگی ہے، جن میں پرموٹر س کابڑاحد سے زیادہ قرضہ (4116 کروڑ)، بینکوں کا(1741 کروڑ) نیز دیگر قرض فراہم کرنے والوں اور ملازمین کا پیسہ بھی  واجب الاداء ہے۔ یہ کمپنی 31 مارچ 2021 کے مطابق مجموعی طور پر 3487 کروڑ روپئے کی منفی قدراور مجموعی طور پر حساب شدہ 4228 کروڑ روپئے کے مجموعی نقصان سے دوچار ہے۔

اس کمپنی میں حکومت ہند کا کوئی حصص نہیں ہے۔ البتہ پی ایس ای کے فروخت کرنے والے شراکت داروں کے بورڈ کی درخواست اور اڈیشہ سرکار کی طرف سے درخواست کے بعد، سی سی ای اے نے 8 جنوری 2020 کو این آئی این ایل کے جامع ڈس انویسمنٹ کو ’اصولی طور پر‘ منظوری دی تھی اور  ڈس انویسمنٹ اور سرکاری اثاثوں کے انتظامیہ کے محکمے (ڈی آئی پی اے ایم) کو یہ لین دین کرنے کا اختیار دیا تھا۔

یہ لین دین، کمپنی کے انٹرپرائز ویلیو کے تئیں، ایک اوپن مارکیٹ، مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے کیا گیا تھا جس میں 31 مارچ 2021 تک کمپنی کی تمام قابل ادائیگی رقوم شامل تھیں نیز اس میں 6 فروخت کنندہ پی ایس ای شراکت داروں کے پاس موجود کمپنی کے 93.71 فیصد حصص بھی شامل تھے۔یہ لین دین ایک انتہائی مشاوراتی کثیر رخی فیصلہ کن طریقہ کار کے ذریعے کیا گیا تھا جو ایسے عمل پر مبنی تھا جس میں بین وزارتی گروپ (آئی ایم جی)،  ڈس انویسٹمنٹ سے متعلق سکریٹریوں کا کور گروپ  (سی جی ڈی) اور بااختیار متبادل طریقہ کار شامل تھا۔  اڈیشہ  کی سرکار اپنی او ایم سی اور آئی پی آئی سی او ایل نامی کمپنیوں کے ساتھ 32.47 فیصد کے حصص رکھتی تھی اور یہ بھی ہر مرحلے پر فیصلہ سازی کےحصے رہے ہیں۔

ایکسپریشن آف انٹریسٹ (ای او آئی) کو 25 جنوری 2021 کو مدعو کیا گیا تھا۔ 29 مارچ 2021 کی مقررہ تاریخ تک کثیر ای او آئیز موصول ہوئے تھے۔ دلچسپی لینے والی پارٹیوں کو کمپنی کے ورچوئل اعداد وشمار کے روم تک رسائی فراہم کرکے باقاعدہ معائنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ دلچسپی لینے والی ان پارٹیوں نے جائے وقوع کا دورہ بھی  کیا  اور انھیں ایس پی اے مسودے کی شکل میں  مجوزہ فروخت کی شرائط اور ضابطوں کی تفصیل فراہم کی گئی تھی۔ان کی فراہم کردہ معلومات پر غور کرتے ہوئے اے ایم کے ذریعے منظوری پر ایس پی اے کو حتمی شکل دی گئی اور  مالیاتی بولیوں کے لیے مدعو کرنے کی غرض سے 3 دسمبر 2021 کو آر پی ایف کے ساتھ اسے شراکت  اور جاری کیا گیا۔

اس کے جواب میں مقررہ تاریخ یعنی 23 دسمبر 2021 تک سیل لفافوں میں 3 بولیاں موصول ہوئیں جنھیں محفوظ مقام پر رکھا گیا۔ منظم ضابطوں کے مطابق آئی ایم جی کے ذریعے مخصوص قیمت کی اسی کے ساتھ ساتھ سفارش کی گئی جو کہ ٹی اے اور اے وی کے ذریعے تیار کردہ اقداری رپورٹوں کے تفصیلی معائنے کے بعد آئی ایم جی میں سفارش کی تھی نیز اسے 5616.97 کروڑ روپئے کی سی جی ڈی پر منظوری دی گئی۔

اس کے بعد، درج ذیل اہل بولی لگانے والوں کے لیے مالیاتی بولی کھول دی گئی جنھوں نے اپنی بولیاں جمع کرائی تھیں۔

  1. میسرزجندل اسٹیل اینڈ پاور لمیٹڈ، اور نلوا اسٹیل اینڈ پاور لمیٹڈ کا کنسورشیم
  2. میسرز جے ایس ڈبلیو اسٹیل لمیٹڈ
  • iii. میسرز ٹاٹا اسٹیل لونگ پروڈکٹ لمیٹڈ (ٹی ایس ایل پی)

میسرز ٹاٹا اسٹیل لونگ پروڈکٹ لمیٹڈ (ٹی ایس ایل پی) ایچ -1 بولی لگانے والے کے طور پر ابھرا، جسے اے ایم کے ذریعے منظور کرلیا گیا۔ ٹی ایس ایل ٹی کو لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئی) جاری کیا جارہا ہے جس میں انھیں ایس پی اے پر دستخط کرنے کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ اس مرحلے پر کامیاب بولی لگانے والے کو بولی کی رقم کا 10 فیصد حصہ ایسکرو کھاتے میں جمع کرانا ہوگا۔

بند ہونے کی تاریخ پر حصص کو جامع خریدار کو منتقل کیا جائے گا اور باقی بچی ہوئی رقم کو  موصول کرکے اسے 27 اکتوبر 2021 کے واٹرفال سمجھوتے میں بیان کردہ طریقے پر استعمال کیا جائے جس پر فروخت کنندہ شراکت داروں کے مابین دستخط کئے گئے۔ جزوی فروخت سامنے آنے پر اسے ان قابل ادائیگی رقموں کے لیے کمپنی میں خرچ کیا جائے گا جن کا کھاتہ صاف کرنا ہوگا اور ایسکرو کھاتے میں موجود بقایا رقم کو ، حصص داروں کو ان کے حصص کے تعداد کے تناسب سے فروخت کیا جائے گا۔

یہ سرکاری شعبے کی فولاد کی مینوفیکچرنگ کی کسی کمپنی کی نجی کاری کی ہندوستان میں پہلی مثال ہے۔ اس لین دین کی کامیابی سب کے لیے ایک خوشگوار صورتحال ہے۔ نجی کاری کا سب سے بڑا فائرہ خطے کی مقامی معیشت کو ہوگا کیوں کہ جامع خریدار کو ایک بند پلانٹ کے احیاء کرنے کا موقع ملےگا، نئی ٹیکنالوجی لانے کا موقع ملے گا، بہترین انتظامی عوامل اور تازہ سرمایے کو شامل کرنے کا موقع ملے گا جس سے اس پلانٹ کی صلاحیت کو توسیع دینے میں مدد ملے گی۔

اڈیشہ کی سرکار نے نجی کاری کے عمل کو فعال معاونت فراہم کی ہے۔نج کاری ذیلی صنعتوں اور سپلائرس کے نیٹ ورک وضع کرکے خطے میں نئے روزگار وضع کرنے میں مدد دے گی ۔ موجودہ ملازمین کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئےملازمین کی بقایا جات ادائیگیوں کو  واٹر فال سمجھوتے میں سب سے زیادہ ترجیحی قابل ادائیگی رقم کے طور پر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جسے دیگر کسی بھی طرح کی ادائیگی سے پہلے پورا کرنا ترجیح ہوگا۔

یہ لین دین ’جاری تشویش‘ پر مبنی ہے اور این آئی این ایل کے ملازمین، حصص کی خریداری کے سمجھوتے (ایس پی اے) کے ضابطوں کے مطابق کمپنی کے ملازمین ہی رہیں گے جو کہ خریدار کو ایک سال کی مدت کے لاک ان کا پابند کرتا ہے۔ جامع خریدار وی آر ایس کے ضابطوں کی تعمیل کے لیے بھی پابند ہوگا جو اس وقت سی پی ایس ایز پر لاگو ہوگی جب کبھی اس طرح کا کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

واٹرفال سمجھوتے میں فراہم کردہ حکم میں کمپنی کو قابل ادائیگی رقوم کو نمٹانے کے تئیں فروخت کے بعد کی صورتحال پر غور کرنا ہوگا۔

*****

U.No.880

(ش ح – ا ع - ر ا)



(Release ID: 1793854) Visitor Counter : 179


Read this release in: English , Marathi , Hindi , Tamil