سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

ہندستان اور سری لنکا نے موجودہ ایس اینڈ ٹی میں نئے شعبوں ویسٹ واٹر(گندے پانی) سے  متعلق ٹکنالوجیوں ، بائیوٹیک، پائیدار زراعت  ، ایرواسپیس انجینئرنگ ، روبوٹک، بڑا ڈیٹا  اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ ساتھ  صنعتی تعاون پر توجہ دی

Posted On: 20 JAN 2022 5:13PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 20 جنوری 2022/ ہندستان اور سری لنکا نے موجودہ ایس اینڈ ٹی کو مزید تین سالوں کے لئے بڑھادیا ہے جس میں نئے شعبوں ویسٹ واٹر(گندے پانی) سے  متعلق ٹکنالوجیوں ، بائیوٹیک، پائیدار زراعت  ، ایرواسپیس انجینئرنگ ، روبوٹک، بڑا ڈیٹا  اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ ساتھ  صنعتی تعاون پر توجہ دی گئی۔ ایس اینڈ ٹی  تعاون پر ہندستان – سری لنکا پانچویں مشترکہ کمیٹی کی میٹنگ 20 جنوری 2022 کو منعقد ہوئی۔

’’ہندستان اور سری لنکا کے درمیان  2500 سال سے زیادہ پرانے فکری، ثقافتی اور مذہبی تحمل اور تعلقات کی عظیم میراث ہے۔حالیہ دنوں میں تعلیم اور دیگر شعبوں میں تجارت اور سرمایہ کاری اور تعاون میں اضافہ ہوا ہے،اور اس سلسلہ میں سائنس اور ٹکنالوجی میں تعاون بہت اہم ہوگیا ہے،‘‘یہ بات جناب ایس کے ورشنی، مشیر اور سربراہ، بین الاقوامی تعاون، شعبہ سائنس اور ٹکنالوجی (ڈی ایس ٹی) سائنس اور ٹکنالوجی کی وزارت  ،ہندستان نے ، جو ملک کے وفد کی کررہے تھے۔ اور ہندستانی کو-چیئر تھے۔

’’یہ پلیٹ فارم بات چیت کا موقع فراہم کرے گا جو سائنس اور ٹکنالوجی کے اختیار میں تعاون کے لئے ممکن ہے۔دو طرفہ تعاون کے بے شمار مواقع موجود ہیں ۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ہندستان متعدد تعاون  جیسے سائنس اور ٹیکنولوجی –ای آر ٹی اای سی  پیش کرتا ہے اور دونوں ممالک بی آئی ایم ایس ٹی ای سی  جیسے کثیر جہتی پلیٹ فارم کے ذریعہ کام کرسکتےہیں، جس کا وہ حصہ ہیں ‘‘۔

محترمہ دیپا لیانچ ، سکریٹری ، ہنرمندی کی ترقی، پیشہ ورانہ تعلیم، تحقیق اور اختراعات کی ریاستی وزارت، سری لنکا ، سری لنکا سے شریک چیئر (کوچیئر) نے دونوں ملکوں کے درمیان  بہتر طور پر قائم دو طرفہ تعلقات کا معاہدہ کیا اور سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبوں  اور ملک میں  سائنسی علم کو  بڑھانے کے لئے تحقیقی شعبے میں ہندستان کے  تعاون کا خیر مقدم کیا۔

سری لنکا میں ہندستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر جناب  کے جیکب نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ  ہندستان کی ’’پڑوسی پہلے‘‘ پالیسی کے  ایک حصہ کے طورپر  جو سری لنکا کے ساتھ ملک کے تعاون کی رہنمائی کرتی ہے،یہ میٹنگ موجودہ باہمی تعاون کے کاموں کو آگے بڑھانے میں  مدد کرے گی اور ان کو زیادہ سے زیادہ بلندیوں تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔

سائنس اور ٹکنالوجی ، سماجی و اقتصادی اورپائیدار ترقی کی کلیدی معاون ہے۔ سائنس کے ٹولز  دنیا کو 2030 کی  پائیدار ترقی کے ایجنڈے کو حاصل کرنے کے  قابل بنائیں گے،  اور اب وقت آگیا ہے کہ   ہم سائنس اور ٹکنالوجی   اور اخرراعات کے لئے ساز گار ماحول پیدا کریں۔ ایک مضبوط طرفہ  تعاون و اشتراک  کسی ملک کی ترقی کے لئے  انتہائی اہم ہے۔ اور سری لنکا  ایک نتیجہ خیز مشترکہ تعاون کے  پروگرام کا منظر ہے،ہندستان نے سری لنکا کے ڈپٹی ہائی کمشنر جناب  نیلوکا نے اجاگر کیا۔

مندوبین نے دونوں ممالک میں جاری سائنس اور ٹکنالوجی سے متعلق  سرگرمیوں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا۔ ہندستانی فریق نے  ڈی ایس ٹی کے بنیادی مینڈیٹ ، ڈی ایس ٹی کے ملٹی اسٹیک ہولڈر بیس، سائنس اور ٹکنالوجی میں  ہندستان کے حالیہ پیش رفت کے   ساتھ ساتھ ایم ایم –آئی سی پی ایس ، این ایم-کیو ٹی اے ، میتھنول مشن  ، وجر، ٹائر، ، وگیان جیوتی ،  تیز کرنے جیسے نئے اقدامات کے ذریعہ  تکنالوجی میں  ہندستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے پر  توجہ مرکوز کرتے ہوئے مجموعی ایس ٹی آئی پالیسی   اور ترجیحی شعبوں کے بارےمیں  پیش دی۔بین الاقوامی سائنس اور ٹکنالوجی کی مصروفیات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ سری لنکائی فریق نے اپنے ملک میں سائنس اور ٹکنالوجی کے دائرہ کار  اور حیثیت اور قومی اہمیت کے مختلف شعبے  میں اس کے اطلاق  پر بھی روشنی ڈالی۔

مندوبین نے فوڈ ٹکنالوجی پر محیط 9 شعبوں میں جاری  باہمی تعاون کا سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ پودوں پر مبنی ادویات،  موسمیات ،خلائی تحقیق اور ایپلی کیشن ، ربوٹک اور آٹومیشن ، صنعتی الیکٹرانک، قابل تجدید توانائی،  فضلہ کے انتظام، اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹکنالوجی اور مستقبل کی سرگرمیو ں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

بورڈ نے باہمی طور پر  دونوں ممالک کے درمیان  تعاون (پی ایس ای)مزید تین سال تک بڑھانے پر اتفاق کیا اور  نئے شعبوں جیسے ویسٹ واٹر ٹکنالوجیز  صنعت اور بائیوٹیکنولوجی  پائیدار زراعت ، ایر اسپیس انجینئرنگ، بڑے ڈیٹا اینالسٹ، اور مصنوعی انٹلی جینس   جیسے نئے شعبوں  کی نشاندہی کی ہے۔ جنہوں پی اے سی نے  شامل کیا گیا ہے۔ سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبے میں  نئی مشترکہ تجاویز کو مدعو کرنے کی ضرورت پر  زور دیا گیا۔ اور گروپ نے مشترکہ تہذیب اور تعاون کو  مضبوط بنانے کے لئے موجودہ  وبائی صورتحال کو  تناظر میں مزید ویبنار  منعقد کرنے کی  سفارش کی ہے۔

*********

ش ح۔   ش ت۔ج

Uno-572



(Release ID: 1791350) Visitor Counter : 189


Read this release in: English , Hindi , Tamil , Telugu