امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
شوگر سیزن21-2020میں 70 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کی گئی ہے، جو 20-2019 کے مقابلے میں 17.45 فیصد زیادہ ہے
چینی کی تخمینی پیداوار 22-2021 میں 308 ایل ایم ٹی ہے، گھریلو کھپت تقریبا 270 ایل ایم ٹی ہے لہذا 35 ایل ایم ٹی چینی کو ایتھنول میں تبدیل کر دیا گیا
شوگر ملوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو بہتر بنانے اور چینی کے شعبے کو خود کفیل بنانے کے لیے، مرکز چینی ملوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ وہ اضافی گنے/چینی کو ایتھنول کی طرف منتقل کر دیں جو پیٹرول کے ساتھ ملایا جاتا ہے
Posted On:
08 DEC 2021 4:19PM by PIB Delhi
صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ سادھوی نرنجن جیوتی نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ چینی سیزن 21-2020 میں تقریباً 70 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) چینی برآمد کی گئی ہے۔شوگر سیزن 20-2019 میں 59.60ایل ایم ٹی چینی کی برآمد کے مقابلے میں یہ 17.45 فیصد کا اضافہ ہے۔
موجودہ چینی سیزن22-2021میں 270 ایل ایم ٹی کی تخمینی گھریلو کھپت کودھیان میں رکھتے ہوئے، 35 ایل ایم ٹی چینی کو ایتھنول میں تبدیل کرنے کے بعد چینی کی پیداوار تقریباً 308 ایل ایم ٹی ہونے کا تخمینہ ہے۔
شوگر ملوں کے پاس دستیاب اضافی چینی کے ذخیرے کو ختم کرنے کے مقصد سے، شوگر ملوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے تاکہ وہ کسانوں کے گنے کے واجبات کی بروقت ادائیگی کر سکیں، حکومت شوگر ملوں کو اضافی چینی برآمد کرنے اور اضافی گنے/چینی کو ایتھنول کی طرف منتقل کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ گزشتہ شوگر سیزن21- 2020 میں تقریباً 70 ایل ایم ٹی چینی برآمد کی گئی تھی اور تقریباً 22 ایل ایم ٹی چینی کو ایتھنول کی طرف منتقل کرد دیا گیا تھا۔
کسی بھی شوگر مل (کوآپریٹو/پرائیویٹ/سرکاری صنعت) کی مالی حالت سے متعلق ڈیٹا ڈی ایف پی ڈی کے ذریعہ برقرار نہیں رکھا جاتا ہے۔ تاہم، ملک کی کوآپریٹو شوگر ملوں سمیت شوگر ملوں کی ادائیگی کی صلاحیت والی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے، حکومت وقتاً فوقتاً مختلف اقدامات کرتی رہی ہے۔اس سلسلے میں گنے کی قیمت کی ادائیگی کے لیے شوگر ملوں کو مدد کی فراہمی ، چینی کی کم از کم فروخت کی قیمت کا تعین، احتیاطی ذخیرے کو برقرار رکھنے کے لیے شوگر ملوں کو مالی امداد میں توسیع، چینی کی برآمد میں سہولت کے لیے شوگر ملوں کو وسیع پیمانے پر مالی امداد ، شوگر ملوں کو نرم قرضوں میں توسیع وغیرہ جیسے اقدامات کئے گئے۔
مزید برآں، شوگر ملوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو بہتر بنانے اور چینی کے شعبے کو خود کفیل بنانے کے لیے، مرکز چینی ملوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ وہ اضافی گنے/چینی کو ایتھنول کی طرف منتقل کر دیں جو پیٹرول کے ساتھ ملایا جاتا ۔گزشتہ چار شوگر سیزن 18-2017، 19-2018، 20-2019 اور 21-2020میں تقریباً 35000 کروڑ روپے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو ایتھنول کی فروخت سے شوگر ملوں/ڈسٹلریز کی آمدنی ہوئی ہے جس سے کسانوں کے گنے کی قیمت کے بقایا جات کو اداکرنے میں مدد ملی ہے۔
مرکزی حکومت نے چینی کی برآمد میں سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے شوگر ملوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو بہتر بنا کر کسانوں کے گنے کی قیمت کے بقایا جات کو ختم کرنے کے لیے شوگر ملوں کو شوگر کے سیزن16-2015، 18-2017، 19-2018،20-2019 اور 21-2020 میں مدد فراہم کی ہے۔ شوگر سیزن 16-2015 سے چینی کی برآمد میں سہولت فراہم کرنے کے لیے مختلف شوگر ملوں کو تقریباً 12900 کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی ہے۔ نتیجے کے طور پر، تقریباً 16.5 ایل ایم ٹی، 6.2 ایل ایم ٹی ، 38 ایل ایم ٹی، 59.60 ایل ایم ٹی اور 70 ایل ایم ٹی چینی کے سیزن 16-2015، 18-2017، 19-2018، 20-2019 اور 21-2020 میں بالترتیب برآمد کی گئی ہیں۔ چینی کے عالمی خسارے کی وجہ سے بین الاقوامی منڈی میں چینی کی قیمتیں اب مستحکم ہیں جس کی وجہ سے امداد کے بغیر چینی کی برآمد فی الحال ممکن ہوگئی ہے۔ موجودہ شوگر سیزن22-2021 میں چینی کی برآمد کے لیے تقریباً 30 ایل ایم ٹی کے معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں۔
مزید برآں، ملک سے اضافی چینی کی برآمد کو آسان بنانے کے لیے، مرکزی حکومت نے چینی کی برآمد پر کسٹم ڈیوٹی کو صفر کر دیا ہے۔
*************
ش ح- س ب – ف ر
U. No.13991
(Release ID: 1779639)
Visitor Counter : 138