عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پنشن یافتگان کےلئے منفرد چہرہ شناختی ٹیکنالوجی کا آغاز کیا، انھوں نے کہا کہ اس سے ریٹائرڈ اور بزرگ شہریوں کی زندگی میں آسانی آئے گی

اس ٹیکنالوجی سے مرکزی حکومت کے 68 لاکھ پنشن یافتگان اور EPFO اور ریاستی حکومتوں کے کروڑوں پنشن یافتگان کو فائدہ پہنچے گا

Posted On: 29 NOV 2021 4:26PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر مملکت (آزاد چارج) برائے سائنس اور ٹیکنالوجی، وزیر مملکت (آزاد چارج) برائے ارضیاتی سائنس، وزیر مملکت برائے پی ایم او، عملے ، شکایات عامہ اور پنشن، ایٹمی توانائی اور خلا، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پنشن یافتگان کے لئے آج منفرد چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کا آغاز کیا اور کہا کہ اس سے ریٹائرڈ اور بزرگ شہریوں کی زندگی میں آسانی آئے گی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ لائف سرٹیفکیٹ دینے کے لئے چہرے کی پہچان کا طریقہ ایک تاریخی اور دور رس اصلاح ہے کیونکہ اس سے نہ صرف مرکزی حکومت کے 68 لاکھ پنشن یافتگان یافتہ افراد فائدہ اٹھائیں گے جو EPFO یا ریاستی سرکاروں کے تحت آتے ہیں۔ انھوں نے الیکٹرونکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت اور UIDAI کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے یہ طریقہ وضع کیا ہے اور پنشن کے ڈپارٹمنٹ کے اس بہبودی اقدام کو ممکن بنایا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے  کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے ہمیشہ معاشرے کے تمام طبقوں کے لئے زندگی کو آسان بنانے کی کوشش کی ہے جن میں ریٹائرڈ اور پنشن یافتہ افراد بھی شامل ہیں جو اپنے تجربات اور سروس کے طویل برسوں کی وجہ سےقوم کےلئے ایک اثاثہ ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کورونا عالمی وبا کے دوران بھی پنشن کے ڈپارٹمنٹ نے عبوری پنشن/فیملی پنشن جاری کرنے کے لئے بہت سی اصلاحات کیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ پنشن کا ڈپارٹمنٹ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے سرگرمی سے ٹیکنالوجی استعمال کررہا ہے ،چاہے وہ ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ ہو یا مرکزی حکومت کی تمام وزارتوں میں پنشن کے معاملوں کو نمٹانے کے لئے بھوشیہ سوفٹ ویئر۔انھوں نے کہا کہ الیکٹرونک پی پی او جاری کرنا اور اسے ڈیجی لاکر میں محفوظ کرنا زندگی کو آسان بنانے اور شفافیت لانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ انھوں نے کہا کہ محکمہ پنشن سے متعلق بیداری لانے کے لئے ای کتابچے لارہی ہے اور ’ٹیوٹر‘پنشن بک اور یوٹیوب پر بیداری مہم چلائی جارہی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ شکایات نمٹانے کا پورٹل CPENGRAMS اور اس سے منسلک کال سنٹر بھی ڈیجیٹائزیشن کی ایک اور مثال ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے حکم  پر محکمے نے انوبھو کے نام سے ایک پورٹل شروع کیا جس میں حکومت ہند کے ریٹائرڈ افسران کے تجربات اکھٹا کئے جاتے ہیں اور یہ ہم لوگوں کے لئے ایک بڑا وسیلہ ہے۔ محکمے نے نہ صرف پنشن ڈیجیٹل کا تصور پیش کیا بلکہ ویڈیو کانفرنسگ کے ذریعہ ڈیجیٹل عدالتیں لگانےکی ٹیکنالوجی کو بھی بروئے کار لایا گیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ پنشن کے محکمے نے مختلف شہریوں میں پنشن یافتگان کی تنظیموں  کورجسٹرڈ کرنے کا طریقہ بھی شروع کیا ہے اور مخٹلف شہروں میں 46 رجسٹرڈ تنظیمیں ہیں جو پنشن یافتہ افراد کی بنیادی سطح پر مدد کے لئے پنشن پالیسی میں اصلاحات کے بارے  میں بیداری لانے کے لئے مدد کررہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حال ہی میں محکمے نے NPS کے تحت آنے والے افسران کے لئے NPS سروس سے متعلق ضابطے اور گریجویٹی ضابطے جاری کئے ہیں۔ وزیر موصوف نے امید ظاہر کی کہ سی سی ایس پنشن ضابطے 1972 پر نظر ثانی اور انھیں معقول بنانے کا بڑا کام آخری مرحلے میں ہے اور جلد ہی یہ جاری کئے جائیں گے۔

****

 

U.No:13440

ش ح۔رف۔س ا



(Release ID: 1776220) Visitor Counter : 79


Read this release in: English , Hindi , Punjabi