وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیر دفاع نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے موضوع پر ساتویں عالمی کانگریس کا ورچوئل وسیلے سے افتتاح کیا

انھوں نے بحر ہند کے خطے میں پہلے رسپانس کرنے پر ایچ اے ڈی آر کے آپریشنز کے لیے بھارتی مسلح افواج کی ستائش کی

جناب راج ناتھ سنگھ نے مستقبل کی آفات کی روک تھام اور انتظام کے لیے بین الاقوامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر زور دیا

Posted On: 24 NOV 2021 4:30PM by PIB Delhi

دہلی، 24 نومبر 2021:

وزیر دفاع کی تقریر کے اہم نکات:

  • انسانی بحرانوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے موثر رسپانس طریقہ کار ساگر کے سب سے اہم ستون میں سے ایک ہے
  • ہماری مسلح افواج ہمیشہ ضرورت کے وقت ملک کے شراکت داروں کے حق میں کھڑی رہی ہیں ۔
  • کوویڈ کے بعد کی دنیا میں عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی حل کی ضرورت
  • ابھرتی ہوئی جدید ترین ٹکنالوجیز کے فوائد سب کے ساتھ ساجھا کیے جانے چاہئیں
  • کوویڈ کے بعد 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے نفاذ کے لیے عالمی اور قومی حکمت عملیوں میں نئے آئیڈیاز کی ضرورت

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 24 نومبر 2021 کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ پر پانچویں عالمی کانگریس کے موقع پر بحر ہند خطے کے بارے میں بھارت کے وژن کا اعادہ کیا جو ساگر (خطے میں سب کے لیے سلامتی و ترقی) کے تصور سے عبارت ہے جیسا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے واضح کیا ہے۔ وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ ساگر کے پاس مختلف اور باہمی طور پر مربوط عناصر ہیں جیسے کہ لٹورل ممالک کے درمیان اقتصادی و سلامتی تعاون کو مستحکم بنانا؛ زمینی و سمندری علاقوں کی حفاظت کے لیے صلاحیتوں میں اضافہ؛ پائیدار علاقائی ترقی کی سمت میں کام کرنا؛ نیلی معیشت اور قدرتی آفات، بحری قزاقی اور دہشت گردی جیسے غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اقدامات کو فروغ دینا۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اگرچہ ان میں سے ہر ایک عناصر پر یکساں توجہ دینے کی ضرورت ہے لیکن انسانی بحرانوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک موثر رسپانس طریقہ کار تیار کرنا ساگر کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا اور خاص طور پر بحر ہند کے خطے (آئی او آر) کے ساتھ بھارت کا تعلق مضبوط رہاہے، انھوں نے انسانی امداد اور آفات سے نجات (ایچ اے ڈی آر) کی کارروائیوں کے لیے خطے میں سب سے پہلے رسپانس کرنے والی مسلح افواج کی ستائش کی۔ انھوں نے کہا کہ آئی او آر میں بھارت کی منفرد حیثیت، مسلح افواج کی صلاحیت کی تکمیل کرتی ہے، اسے ایچ اے ڈی آر کے حالات میں نمایاں حصہ ڈالنے کے قابل بناتی ہے۔

وزیر دفاع نے حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے کیے گئے آئی او آر میں ایچ اے ڈی آر کے کچھ قابل ذکر مشنوں کا خصوصی طور سے ذکر کیا جن میں 2015 میں یمن میں آپریشن راحت بھی شامل تھا جب بھارت نے 40 سے زائد دیگر ممالک کے 1940 سے زائد شہریوں سمیت 6700 سے زائد افراد کو بچایا اور انھیں وہاں سے نکالا۔ 2016 میں سری لنکا میں سمندری طوفان؛ 2019 میں انڈونیشیا میں زلزلہ؛ موزمبیق میں سمندری طوفان ایدی اور جنوری 2020 میں مڈغاسکر میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ میں فوری طور پر بھارتی امداد فراہم کی گئی تھی۔ انھوں نے مزید کہا کہ کوویڈ-19 وبا نے بھارت کے عزم بستگی کو نقصان نہیں پہنچایا ہے جس کا مظاہرہ اگست 2020 میں ماریشس میں تیل کے چھلکاؤ اور ستمبر 2020 میں سری لنکا میں آئل ٹینکر میں آگ لگنے کے دوران بھارت کے رسپانس سے ہوا تھا۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے بھارت کے ذریعے دوست ممالک کو قدرتی آفات کے لچک دار بنیادی ڈھانچے (ڈی آر آئی) کی قیادت اور مہارت پیش کرنے کا نکتہ بھی اجاگر کیا۔ نئی دہلی میں منعقدہ 2016 کی ایشیائی وزارتی کانفرنس برائے آفات کے تخفیف خطرہ کے دوران بھارت کی جانب سے پہلی بار کوآلیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلیئنٹ انفراسٹرکچر (سی ڈی آر آئی) کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ آج یہ ممالک، اقوام متحدہ  کے اداروں ، کثیر الجہت ترقیاتی بینکوں ، نجی شعبوں اور تعلیمی اداروں کا ایک بین الاقوامی اتحاد ہے جس کا مقصد آفات سے نمٹنے والے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینا ہے۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بھارت مہارت کے اشتراک اور صلاحیتوں کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایچ اے ڈی آر کے تعاون اور اپنے ہمسایوں اور دوست ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کو گہرا کرنے کے لیے باقاعدگی سے مشقیں کر رہا ہے۔

وزیر دفاع نے دنیا کو درپیش کوویڈ-19 جیسی قدرتی آفات سمیت چیلنج سے بھرپور جغرافیائی سیاسی منظر نامے اور روایتی اور غیر روایتی خطرات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے بھارت نے کوویڈ-19 ویکسین کی پیداوار کی بڑی صلاحیت پیدا کر لی ہے اور بہت سے ممالک کو مدد دے رہا ہے۔ انھوں نے وبا کے بعد کی دنیا میں عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس وبا نے نہ صرف بین الاقوامی سلامتی بلکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق معاملات کے لیے باہم مربوط دنیا میں کثیر الجہت مرکزیت کا اعادہ کیا ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے خلا، مواصلات، بائیو انجینئرنگ، بائیو میڈکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں ابھرتی ہوئی جدید ترین ٹکنالوجیوں کے بارے میں بھی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ان میں درست آلات اور سینسر شامل ہیں جو آفات کے خطرات کا اندازہ لگانے اور ابتدائی انتباہ کے ذریعے مطلع کرنے کے طریقے میں انقلاب لا سکتے ہیں ۔ انھوں نے آفات کے بعد بازیابی اور باز تعمیر کے لیے اسمارٹ ٹکنالوجیز پر بھی روشنی ڈالی۔ وزیر دفاع نے ان ٹکنالوجیز کے بہتر اطلاق اور استعمال کے لیے صلاحیت کی ترقی کے لیے فنڈنگ اقدامات کے ساتھ ساتھ ان ٹکنالوجیز کے فوائد کو بانٹنے پر زور دیا۔

وزیر دفاع نے مستقبل کی آفات کی روک تھام اور انتظام کے لیے تعمیراتی ڈھانچے کے لیے بین الاقوامی فن تعمیر کو مضبوط بنانے کے لیے مزید قریبی تعاون کرنے پر زور دیا۔ انھوں نے 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے نفاذ پر وبا کے اثرات کا جامع جائزہ لینے کی بھی تجویز پیش کی جس میں اہداف کے نفاذ کے لیے عالمی اور قومی حکمت عملیوں میں نئے خیالات کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے موضوع پر پانچویں عالمی کانگریس (ڈبلیو سی ڈی ایم) کا اہتمام 24 سے 27 نومبر 2021 کے دوران نئی دہلی میں آئی آئی ٹی دہلی کے کیمپس میں کیا جارہا ہے جس کا موضوع 'کوویڈ-19 کے تناظر میں آفات سے لچک پیدا کرنے کے لیے ٹکنالوجی، مالیات اور صلاحیت سازی' ہے۔ یہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ انیشیٹیوز اینڈ کنورجنس سوسائٹی (ڈی ایم آئی سی ایس) کی ایک پہل ہے جس کا صدر دفتر حیدرآباد میں ہے ۔ اس کا مقصد دنیا بھر کے محققین، پالیسی سازوں اور پریکٹیشنرز کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لانا ہے تاکہ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے مختلف چیلنج سے بھرپور  امور پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ اس کا مقصد خطرات کی سمجھ کو بڑھانے اور خطرات کو کم کرنے اور آفات سے لچک پیدا کرنے کے لیے پہل کو فروغ دینے کے لیے سائنس، پالیسی اور طریقوں کے تعامل کو فروغ دینا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل، انڈیا کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے سکریٹری، محکمہ صحت تحقیق ڈاکٹر بلرام بھارگو نے کلیدی خطاب پیش کیا ، جب کہ کنوینر ڈبلیو سی ڈی ایم ڈاکٹر ایس آنند بابو نے استقبالیہ خطاب پیش کیا۔ آفات میں تخفیف کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ محترمہ مامی میزوتوری نے بھی افتتاحی اجلاس کے دوران خطاب کیا۔

***

(ش ح۔ ع ا۔ ع ر)

U. No. 13244



(Release ID: 1774815) Visitor Counter : 87


Read this release in: English , Hindi , Marathi , Tamil