قبائیلی امور کی وزارت

قبائلی امور کی وزارت اور سی بی ایس ای نے ای ایم آر ایس  اور سی بی ایس ای اساتذہ کے لیے  21 ویں صدی کی تجرباتی آموزش سے متعلق ایک آن لائن سرٹیفکیٹ کورس کا مشترکہ طور پر آغاز کیا ہے


اس سرٹیفکیٹ کورس کا مقصد این ای پی 2020 کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے اساتذہ کی صلاحیت سازی ہے

Posted On: 20 NOV 2021 6:06PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،20نومبر، 2021/آزادی امرت مہوتسو تقریبات کے حصے کے طور پر آج 20 نومبر کو قبائلی امور کے سکریٹری جناب انل کمار جھا اور سی بی ایس ای کے چیئر مین جناب منوج اہوجا نے آج سی بی ایس ای اور ایکلویہ ماڈل ریزیڈینشیئل اسکولوں (ای ایم آر ایس) کے لیے 21 ویں صدی کے تجرباتی آموزش سے متعلق ایک سرٹیفکیٹ کورس کا آغاز کیا ہے۔ یہ آغاز ٹاٹا ٹرسٹ ، سی ای ٹی ای،  ٹی آئی ایس ایس  ممئی اور ایم جی آئی ایس احمدآباد کے اشتراک سے کیا گیا ہے۔

  

یہ پروگرام چھ ریاستوں میں 350 تعلیمی اداروں میں لاگو کیا جائے گا۔ اس تقریب میں قبائلی طلبا کے لیے قومی تعلیمی سوسائٹی کے کمشنر جناب است گوپال نے شرکت کی ، جو قبائلی امور کی وزارت کے تحت ایک خود مختار تنظیم ہے ۔ قبائلی امور کی وزارت کے جوائنٹ  سکریٹری  ڈاکٹر نول جیت کپور اور ٹاٹا ٹرسٹ کے جناب آر پوتر کمار بھی اس موقعے پر موجود تھے۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی امور کے سکریٹری جناب انل کمار جھا نے کہا کہ تجرباتی آموزش  کا مقصد  قبائلی طلبا کا اُن کے اپنے ضمن اور حقیقی زندگی کے تجربات سے رابطہ قائم کرنے میں اساتذہ کی مدد کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا ’’اگرچہ ای ایم آر ایس نے مطالعہ کرنے والے قبائلی طلبا ، تعلیم حاصل کرنے والی پہلی نسل ہے ، تاہم ان میں تخلیقی صلاحیت پہلے سے چلی آرہی ہے۔  تخلیقی صلاحیت محنت، خطرہ مول لینا، یہ کچھ خاصیتیں ہیں  جو اُن کی زندگی میں قدرتی طور پر بروئے کار آتی ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے قبائلی تعلیمی ترقی کے لیے ایک بڑی خدمت فراہم ہوگی ۔

21ویں صدی کے پروگرام کے لیے تجرباتی آموزش کا تصور تعلیمی اداروں ، اساتذہ ، اسکول ہیڈز اور پرنسپلوں کے لیے ایک آن لائن سرٹیفکیٹ کورس ہے تاکہ انہیں اصل زندگی کے تجربات ، کلاس روم میں سیکھنے میں مدد مل سکے۔  650 طلبا میں سے جنہوں نے اس کے لیے درخواست دی تھی ،350 کو ڈیجیٹل خواندگی کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے جو انگریزی زبان سے واقف ہیں۔ اور ان کے اندر تعلیم دینے کے نئے طور طریقوں کے سیکھنے کا جذبہ موجود ہے۔ یہ پروگرام سبھی منتخبہ اساتذہ اور پرنسپلز کو 20 نومبر 2021 سے مفت پیش کیا  جائے گا۔ منتخبہ اساتذہ کو  ایم او ٹی اے کی طرف سے ٹیچر لیڈر کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

سی بی ایس ای کے چیئرمین جناب منوج آہوجا نے اس پروگرام کی انفرادیت کی تعریف کرتے ہوئے طلبا کے تجربات کو آموزش میں شامل کرنے کی ضرورت  پر زور دیا جو بنی نوع انسان کی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا  ’’بچے فطری طور پر متوسط ہوتے ہیں اور انسان کے سیکھنے کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔  اس پروگرام کا مقصد بچوں کے تجربے میں ان کی گزر بسر،  ماحول، اور روز مرہ کی زندگی پر توجہ دیتے ہوئے بچوں کے تجربات میں تعلیم  کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔‘‘

این ای ایس ٹی ایس کے کمشنر جناب است گوپال  نے اپنے خیرمقدمی خطبے میں کہا کہ سی بی ایس ای ، ٹاٹا ٹرسٹ اور ایم جی آئی ایس جیسے  اعلیٰ اداروں نے این ای ایس ٹی ایس کے ساتھ اشتراک کیا ہے تاکہ قومی تعلیمی پالیسی  - 2020 کے جذبے کو تقویت دی جا سکے اور ہمارے اساتذہ کو لگاتار پیشہ ورانہ فروغ دیا جا سکے۔  انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت نے قبائلی علاقوں میں 740 ای ایم آر ایس قائم کرنے کا عزم کیا ہے۔ جس سے کہ ملک کے سب سے زیادہ دور دراز قبائلی علاقوں میں بھی ہر ایک بچے تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ یہ تجرباتی آموزش کا پروگرام قبائلی طلبا کو ان کے تجربات کو بروئے کار لانے میں مدد دے گا۔

اس مشترکہ پروجیکٹ کی تعریف کرتے ہوئے قبائلی امور کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر نول جیت کپور نے کہا کہ ان کی وزارت این سی ای آر ٹی ، این آئی ای پی اے، آئی آئی ٹی  اور مائکرو سافٹ جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ لگاتار رابطہ قائم کر رہی ہے تاکہ ای ایم آر ایس اساتذہ کو بااختیار بنایا جا سکے اور ان کی ہنر مندی میں لگاتار اضافہ کیا جا سکے۔

۔۔۔

ش ح  ۔ اس۔ ت ح ۔                                            

U –13074



(Release ID: 1773706) Visitor Counter : 174


Read this release in: English , Hindi , Bengali , Punjabi