وزارت دفاع

وزیر دفاع نے یوپی ڈیفنس انڈسٹریل کوریڈور میں پرائیویٹ سیکٹر کے دفاعی اشیا سازی کے اولین آپریشنل کارخانے کا افتتاح کیا

ایرو اسپیس ایپلی کیشنز کے لئے پی ٹی سی انڈسٹریز کے تحت میٹل مینوفیکچرنگ کے مربوط کارخانے کا سنگ بنیاد رکھا*

وزیر دفاع نے اسے ٹھوس سرکاری اور نجی شراکت داری کی ایک روشن مثال گردانا*

کہا کہ دفاعی  'آتم نربھرتا' کی راہ  میں یہ دونوں یونٹیں اہم سنگ میل ثابت ہوں گی*

Posted On: 13 NOV 2021 5:58PM by PIB Delhi

 

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 13 نومبر 2021 کو لکھنؤ میں اتر پردیش ڈیفنس انڈسٹریل کوریڈور (یو پی ڈی آئی سی) میں پرائیویٹ سیکٹر کے دفاعی اشیا سازی کے اولین آپریشنل کارخانے کا افتتاح کیا۔ایرو لوائے ٹیکنالوجیز سے چلنے والے اس کارخانے میں جو پی ٹی سی انڈسٹریز کا ایک مکمل ملکیتی ذیلی ادارہ ہے ہوائی جہاز کے انجنوں، ہیلی کاپٹر کے انجنوں کے پرزے، ہوائی جہاز کے ساختی حصے، ڈرون اور یو اے وی، آبدوز،  الٹرا لائٹ آرٹلری گنز، خلائی لانچ گاڑیاں اور حکمت عملی کے نظام وغیرہ تیار کئے جائیں گے۔

وزیر دفاع نے پی ٹی سی انڈسٹریز کے تحت میٹل مینوفیکچرنگ کے مربوط کارخانے کا بھی سنگ بنیاد رکھا جہاں ایرو اسپیس ایپلی کیشنز کے لئے ٹائٹینیم اور دیگر غیر ملکی مرکبات میں کلیدی خام مال تیار کیا جائے گا۔ یہ پلانٹ تمام پلیٹ فارمز کے لئے درآمدات پر ملک کے انحصار کو نمایاں طور پر کم کر دے گا جن میں ٹائٹینیم اور نکل سپر ایلوئز کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس طرح ایک مضبوط اور آتم نربھر بھارت کی تشکیل میں مدد ملے گی۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے ایک نظیر کے طور پر  پی ٹی سی انڈسٹریز لمیٹڈ کی تعریف کی کہ آج کے مسابقتی ماحول میں کس طرح ایک کمپنی ٹیکنالوجی  اپنا کر کامیاب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں یونٹیں آنے والے وقت میں دفاع میں خود انحصاری کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہوں گی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یو پی ڈی آئی سی اور یہ یونٹیں وزیر اعظم نریندر مودی کے 'آتم نر بھر بھارت' کے تصور کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کی بھی تعریف کی کہ پی ٹی سی کی طرف سے ہندستان اور بیرون ملک مشہور کمپنیوں کو مصنوعات فراہم کرنے سے ہندستان کو خالص دفاعی ساز و سامان برآمد کرنے والے ملک میں تبدیل کرنے کے حکومت کے ارادے کو تقویت ملتی ہے۔ پی ٹی سی کی طرف سے حال ہی میں وزارت دفاع سے دفاعی استعمال کے لئے اہم آن لائن فٹنگز (او ایل ایف) کا کلیئرنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے پر جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ منظوری 'میک ان انڈیا' اور دفاعی اشیا سازی میں خود انحصاری حاصل کرنے کے رُخ پر ایک بڑا قدم ثابت ہوگی۔

وزیر دفاع  نے  قوم کے عظیم بزرگوں جیسے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر، مدن موہن مالویہ، سبھاش چندر بوس، ویر ساورکر، ایم وشویشوریا اور دیگر کی صنعتوں سے منسلک اہمیت کو یاد کیا۔ یونٹ کے افتتاح کو ٹھوس سرکاری اور نجی ساجھیداری کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کے خیال کو آگے بڑھا رہی ہے۔ وہ قوم کی ترقی کے لئے نجی شعبے کی مسلسل اور بڑھتی ہوئی شراکت میں یقین رکھتے تھے۔

وزیر دفاع نے عالمی سلامتی کے تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول میں مسلح افواج کی مسلسل جدید کاری کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر، اکیڈمی اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ادارے ان مسائل کا حل فراہم کرتے ہیں۔ ہندستانی دفاعی صنعت میں معیاری اور کم لاگت کا سامان تیار کرنے کی صلاحیت ہے،  جس سے نہ صرف قومی سلامتی کو بلکہ ملٹری ہارڈویئر دنیا کو ایکسپورٹ کرنے کو تقویت ملے گی۔ پی ٹی سی انڈسٹریز لمیٹڈ جیسی کمپنیاں اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

'میک ان انڈیا اور میک فار دی ورلڈ' کے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے دفاع میں خود انحصاری حاصل کرنے کی خاطر  کئے جانے والے کئی اقدامات گنوائے جن میں گھریلو کمپنیوں سے خریداری کے لئے 22-2021 کے سرمائے کے حصول کے بجٹ کے تحت  جدید کاری کے فنڈز کا تقریباً 64 فیصد مختص کرنا، برآمدات میں اضافے اور دفاعی حصول کے طریقۂ  کار 2020 کے لئے 200 سے زائد اشیاء کی دو مثبت فہرستوں کا اعلان کرنا، یوپی اور تمل ناڈو میں دفاعی صنعتی راہداریوں کا قیام،  ڈی آر ڈی او کی ٹیکنالوجی کی مفت منتقلی اور انوویشن فار ڈیفنس ایکسی لینس (آئیڈیکس) اقدام بھی شامل ہیں۔ وزیر دفاع  نے مزید کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ترقی کا مناسب ماحول فراہم کرنے کی تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ہم نے ایک میگا ڈیفنس پروگرام بنانے کے مواقع فراہم کئے ہیں جن میں لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹر، ٹینک اور آبدوزیں شامل ہیں۔ یہ کام ایک اسٹریٹجک پارٹنرشپ ماڈل کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ اس سے ہماری نجی کمپنیوں کے قد میں اضافہ کرنے میں مدد ملےگی  اور آنے والے وقت میں ان کی حیثیت عالمی بن جائے گی۔ حال ہی میں، ٹرانسپورٹ طیارے 'سی-295' کے لئے 22,000 کروڑ روپے کا معاہدہ ہوا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر طیارے ہماری صنعت کے ساتھ مل کر ہندستان میں بنائے جائیں گے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس وقت جب کہ ملک آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے،یہ ہمارے میک ان انڈیا اور میک فار ورلڈ عزم کو ایک نئی تحریک دینے کا موقع ہے۔انہوں نے نوٹ کیا کہ مسلح افواج نے بھی دفاع میں آتم نربھرتا کی مہم کی حمایت کی ہے۔جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت کے ان تمام اقدامات کے نتیجے میں دیسی دفاعی صنعت کو دیئے جانے والے ٹھیکوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس میں ہندستان ایروناٹکس لمیٹڈ کو دیا گیا تقریباً 50,000 کروڑ روپے کا حالیہ ایل سی اے تیجس ٹھیکہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی-آئی ڈی ایم ایم (دیسی طور پر ڈیزائن کردہ، ڈیولپ کردہ اور تیار شدہ) زمروں سے حصولی کو ترجیح دینے سے لے کر تحقیق و ترقی کی معاونت تک حکومت ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کے لئے کوشاں ہے۔ یہ کام صنعت، تعلیمی و تحقیقی برادری، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں، سازوسامان تیار کرنے والوں، کوالٹی کنٹرولروں وغیرہ کے ساتھ فعال مشغولیت کے ذریعہ کیا جائے گا۔

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ پچھلے سات برسوں میں ہماری دفاعی برآمدات 38,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہیں اور 10,000 سے زیادہ چھوٹی اور درمیانی صنعتوں نے دفاعی شعبے میں شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ، نئی صنعتوں، اختراعات اور روزگار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ریاست اتر پردیش اور یو پی ڈی آئی سی پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے ریاست میں سرمایہ کاری کی ترغیب کے لئے اہم اصلاحات کرنے پر وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور ریاستی حکومت کی تعریف کی۔ وزیر دفاع نے اس یقین کا اظہار کیا کہ نجی شعبے کی کمپنیاں اتر پردیش میں سرمایہ کاری کریں گی اور ریاستی حکومت انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرمایہ کاری کا مطلب یہ ہوگا کہ اتر پردیش کے لوگوں کو اب روزگار کی تلاش میں اپنا گھر نہیں چھوڑنا پڑے گا۔

ماضی سے سبق لینے اور ایک بااختیار مستقبل کے لئے حال کو بروئے کار لانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے نجی صنعت کو درون ملک تحقیق و ترقی سے کام لینےیا تعلیمی و تحقیقی برادری  کے ساتھ سرگرم عمل ہونے، حکومت کی پالیسیوں کا بھرپور استعمال کرنے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی ترقی کی دوڑ میں آگے رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے اُن پر اس بات کیلئے بھی زور دیا کہ وہ مقامی کمیونٹی کو اپنی کامیابی میں شراکت دار بنائیں او ر اس کے لئے مقامی آئی ٹی آئی ، اپرنٹس شپ پروگرام، اسکولوں اور اسپتالوں کو اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاشرے اور ملک کے لئے ایک حقیقی خدمت ہوگی۔

وزیر دفاع نے مستقبل قریب میں پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعہ سرمایہ کاری میں اضافہ سے متعلق اعتماد کا اظہار کیا اور یہ امید بھی ظاہر کی کہ شہر لکھنؤ اور ریاست اترپردیش دفاع اور ایرو اسپیس سیکٹر کی اشیا سازی کی دنیا میں اپنی شناخت بنائیں گی۔

قبل ازیں وزیر دفاع، صنعتی ترقی کے اتر پردیش کے وزیر ستیش مہانا، اتر پردیش کی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) محترمہ سواتی سنگھ، ایڈیشنل سکریٹری دفاعی پیداوار جناب سنجے جاجو اور یوپی کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اور سی ای او، یو پی ای آئی ڈی اے جناب اونیش اوستھی کا چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی سی انڈسٹریز نے استقبال کیا۔

صنعتی ترقی کے اتر پردیش کے وزیر جناب ستیش مہانا نے اتر پردیش میں برہموز سمیت دیگر اقدامات  کے لئے وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت کی ستائش کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ دفاعی شعبے میں مقابلہ  ملک کو آتم نر بھر بھارت بنائے گا۔ انہوں نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ یوپی سرمایہ کاری کے لئے انتہائی ترجیحی مقام بن جائے گا۔

جناب سنجے جاجو نے یہ کہتے ہوئے میک ان انڈیا اور آتم نر بھر بھارت کے تصور کی وضاحت کی کہ یو پی ڈی آئی سی کی طرف سے پیش کردہ بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات تمام 6 شاخوں میں نئی سرمایہ کاری کو راغب کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قوم کو خود انحصاری کا مقصد حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ جناب اونیش اوستھی نے یو پی ڈی آئی سی کے بارے میں مجمع کو آگاہی دی اور کہا کہ ریاستی حکومت تمام سرمایہ کاروں کے لئے زمین کی دستیابی اور لاجسٹک سپورٹ کو یقینی بنائے گی۔ اس موقع پر وزارت دفاع اور ریاستی حکومت کے دیگر افسران کے علاوہ صنعتی نمائندے اور سرمایہ کار بھی موجود تھے۔

******

ش ح۔ ع س۔ ک ا

U-12826

 



(Release ID: 1771565) Visitor Counter : 142


Read this release in: English , Hindi , Tamil