کامرس اور صنعت کی وزارتہ

جی 20 کانفرنس سے قبل کی شام، عالمی تشویشوں پر بھارت کی قیادت اور مختلف قسم کے امور پر اس کے خیالات کو مضبوط حمایت حاصل ہو رہی ہے: جناب پیوش گوئل


شیرپا کی جاری میٹنگ کا ایجنڈہ روم اعلامیہ کو حتمی شکل دینا ہے جسے جی 20 کانفرنس میں لیڈروں کے ذریعے اپنایا جائے گا: جناب گوئل

جانچ اور ویکسین سرٹیفکیٹ سمیت سفری دستاویزوں کو باہمی طور پر تسلیم کیے جانے پر جی 20 کے ساتھیوں سے حمایت حاصل کرکے خوش ہوں: جناب گوئل

ٹھوس ترقی اور غذائی تحفظ کے لیے، بھارت نے زور دے کر کہا ہے کہ پالیسیوں کو لازمی طور پر چھوٹے اور پس ماندہ کسانوں کے مفادات کی حفاظت کرنی چاہیے، مقامی غذائی ثقافتوں کو محفوظ کرنا چاہیے، جو اس کے بدلے غذائی تحفظ کو یقینی بنائیں گی: جناب پیوش گوئل

بھارت موافق، طویل مدتی، رعایتی ماحولیاتی مالیات، کفایتی اور مستحکم ٹیکنالوجی تک رسائی اور پائیدار طرز زندگی اور ذمہ دار اور کھپت کے طریقوں کو اپنانے کے عزم جیسی عالمی ماحولیاتی کارروائیوں کو ترغیب دینے کے لیے اہم استعداد رکھنے والوں کی ضرورت کی حمایت کرتا ہے: جناب گوئل

بھارت اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ کووڈ کے بعد کی اقتصادی اصلاح کی وقت سے پہلے واپسی نہ ہو اور سب سے زیادہ کمزور طبقوں کو ضروری مدد مہیا کرائی جا سکے: جناب گوئل

جی 20 نے 2021 کے آخر تک قرض کی سروس کی معطلی کی پہل کو وسیع کرنے پر اتفاق کا اظہار کیا ہے اور اس کے ذریعے دنیا بھر میں ضرورت مند اور کمزور لوگوں کو کچھ راحت مل سکے گی: جناب پیوش گوئل

جناب پیوش گوئل نے 31-30 اکتوبر کو روم میں آئندہ 16 ویں جی 20 کانفرنس میں وزیر اعظم جناب مودی کی حصہ داری پر اپ ڈیٹ شیئر کیے

Posted On: 29 OCT 2021 9:00PM by PIB Delhi

 

کامرس اور صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے جی 20 شیرپا کی جاری میٹنگ کے دوران میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جی 20 نے عالمی تشویشوں پر بھارت کی قیادت کو تسلیم کیا ہے اور مختلف قسم کے امور پر بھارت کے خیالات کی حمایت کی ہے جو آئندہ چوٹی کانفرنس کے دوران سامنے آئیں گے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ شیرپا کی جاری میٹنگ کا ایجنڈہ روم اعلامیہ کو حتمی شکل دینا ہے جسے جی 20 کانفرنس میں لیڈروں کے ذریعے اپنایا جائے گا۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم جناب مودی کو اٹلی کے وزیر اعظم جناب ماریو دراگی کے ذریعے مدعو کیا گیا ہے اور وہ آج صبح روم پہنچ چکے ہیں۔ یہ وزیر اعظم کی 8ویں جی 20 میٹنگ ہے۔

جناب گوئل جی 20 چوٹی کانفرنس میں وزیر اعظم کی حصہ داری کی آخری تیاریوں کی نگرانی کے لیے گزشتہ تین دنوں سے روم میں ہیں۔

اٹلی میں جناب پیوش گوئل نے 29-27 اکتوبر تک چھٹی جی 20 شیرپا میٹنگ میں حصہ لیا اور جی 20 کے اپنے کئی ہم عصروں (برطانیہ، جرمنی، فرانس، ای یو، انڈونیشیا اور سنگاپور) کے ساتھ دو طرفہ میٹنگیں کیں۔

جناب گوئل نے کہا کہ جی 20 بین الاقوامی تعاون کے لیے دنیا کے اہم فورم کے طور پر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی 20 دنیا کی جی ڈی پی کے 80 فیصد، عالمی تجارت کے 75 فیصد اور دنیا کی آبادی کے 60 فیصد کی نمائندگی کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اٹلی- ’لوگ، سیارہ، خوشحالی‘ کی تھیم کے تحت ’’وبائی مرض سے ریکوری اور عالمی صحت کے نظام کو مضبوط کرنے، اقتصادی اصلاحات اور تعامل، ماحولیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی اور پائیدار ترقی اور غذائی تحفظ‘‘ پر فوکس کے ساتھ اس سال جی 20 کی صدارت کر رہا ہے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ بھارت اٹلی کے ذریعے منتخب کیے گئے ترجیحی شعبوں کی پوری طرح حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیرپا کی جاری میٹنگ کا ایجنڈہ روم اعلامیہ کو حتمی شکل دینا ہے جسے جی 20 کانفرنس میں لیڈروں کے ذریعے اپنایا جائے گا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ جی 20 نے بھارت کے ان خیالات کی تصدیق کی ہے کہ وسیع پیمانے پر کووڈ-19 ٹیکہ کاری ایک عالمی عوامی ذمہ داری ہے اور جانچ اور ویکسین سرٹیفکیٹ سمیت سفری دستاویزوں کو باہمی طور پر تسلیم کیے جانے پر ان کے مشوروں پر جی 20 کے ساتھیوں کی حمایت حاصل کرکے وہ خوش ہیں۔

ٹھوس ترقی اور غذائی تحفظ کے امور پر انہوں نے کہا کہ بھارت نے زور دے کر کہا ہے کہ پالیسیوں کو لازمی طور پر چھوٹے اور پس ماندہ کسانوں کے مفادات کی حفاظت کرنی چاہیے اور مقامی غذائی ثقافتوں کو محفوظ کرنا چاہیے جو اس کے بدلے غذائی تحفظ میں قابل ذکر تعاون فراہم کریں گی۔

جناب گوئل نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیات پر بھارت نے زوردار طریق سے عالمی ماحولیاتی کارروائیوں کو ترغیب دینے کے لیے اہم صلاحیت فراہم کرنے والوں کی ضرورت کی بات کہی ہے جس میں موافق، طویل مدتی، رعایتی ماحولیاتی فنڈ، کفایتی اور مستحکم ٹیکنالوجی تک رسائی اور پائیدار طرز زندگی اور ذمہ دار اور کھپت اور پیداواری طریقوں کو اپنانے کے عزم اور خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک کے ذریعے ایس ڈی جی-12 اہداف کو پورا کرنے کی اہمیت شامل ہے۔

کووڈ کے بعد کی اقتصادی اصلاحات کے موضوع پر، انہوں نے کہا کہ جی 20 فریم ورک ورکنگ گروپ کے مشترکہ چیئر کے طور پر، بھارت اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ وقت سے پہلے مدد ختم نہ کی جائے اور سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو ضروری مدد مہیا کرائی جائے۔ جی 20 نے 2021 کے آخر تک قرض کی خدمت کی معطلی کی پہل کو وسیع کرنے پر اتفاق ظاہر کیا ہے اور اس کے ذریعے دنیا بھر میں ضرورت مند اور کمزور لوگوں کو کچھ راحت حاصل ہو سکے گی۔

جناب گوئل نے یہ بھی کہا کہ ٹیکس میں اصلاح کے موضوع پر، بھارت جی 20 پر فائدہ کے ذرائع اور ان پر ٹیکس لگانے کے دائرہ اختیار کے درمیان بے میل کو دور کرنے کے لیے دباؤ ڈال کر  یہ یقینی بنائے گا کہ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں ان کے آپریشن کے ملک میں کم از کم نافذ العمل ٹیکس کی ادائیگی کر سکیں۔

صلاح و مشورہ کے متعلق مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے، جناب گوئل نے کہا کہ اس سال بدعنوانی مخالف ورکنگ گروپ کے مشترکہ چیئر ہونے کے ناتے بدعنوانی مخالف معاملوں نے پراپرٹی کی ریکوری، اطلاعات کا اشتراک کرنے،  قانون کے نفاذ میں تعاون، ٹیکنالوجی اور محفوظ ٹھکانے کے انکار سے متعلق پانچ مشوروں کی سمت میں تعاون دیا ہے۔

خواتین کو با اختیار بنانے، تعلیم اور روزگار سے متعلق امور پر کامرس اور صنعت ، کپڑا، امور صارفین، غذا اور عوامی تقسیم کے وزیر نے کہا کہ بھارت خواتین کو با اختیار بنانے پر جی 20 کے زور کی حمایت کرتا ہے۔ بھارت نے زوردار طریقے سے صنف پر مبنی تشدد کے خلاف زبان کو شامل کرنے کی وکالت کی ہے اور ’ریموٹ ورکنگ ارینجمنٹ‘ پر جی 20 کے  نئے ذاتی ڈھانچہ کی حمایت کی ہے۔

جناب گوئل نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے سیاحتی شعبہ پر، خاص کر کووڈ-19 کے اثرات کو دیکھتے ہوئے اس شعبہ میں اصلاح کی اہمیت کو نمایاں کیا۔ بھارت مثبت اقتصادیات اور ثقافتی وراثت کو محفوظ کرنے پر جی 20 کے فوکس کا خیر مقدم کرتا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت نے زوردار طریقے سے سرحد پار ڈیٹا کی آمد و رفت کے ساتھ ’اعتماد کے ساتھ سرحد پار ڈیٹا کی آمد و رفت‘ کو متوازن کرنے اور ترقی پذیر ممالک کی ترقیاتی ضروریات کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے ’ترقی کے لیے ڈیٹا‘ کا استعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ جی 20 میں بھارت کی آواز سبھی ترقی پذیر ممالک کی آواز کی نمائندگی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ 2020 میں سعودی قیادت کو وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے مشورہ پر عمل کر رہا تھا کہ جی 20 نے پچھلے سال کووڈ-19 کی صورتحال پر ایک غیر معمولی چوٹی کانفرنس کا انعقاد کیا۔

اس سال، اٹلی نے افغانستان میں انسانی بحران کے حل میں جی 20 کے اثرات کا فائدہ اٹھانے کے لیے مخصوص کانفرنس کا انعقاد کیا۔ جی 20 نے یو این چارٹر اور دیگر مناسب بین الاقوامی فورم میں مذکور اصولوں کے مطابق، خاص طور پر افغانستان میں خواتین، بچوں، اقلیتوں اور کمزور لوگوں کے سلسلے میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادی پر بھی فوکس کیا۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت 1 دسمبر، 2022  سے 30 نومبر 2023 کے دوران جی 20 کی صدارت کرے گا اور اس سال دسمبر میں ٹروئیکا میں داخل ہوگا اور ترقی پذیر ممالک اور جی 20 فورم میں ابھرتی بازاری اقتصادیات کے مسائل اور تشویشوں پر قیادت کرے گا۔

*****

ش  ح –  ق ت –  ت  ع

U:12351

 



(Release ID: 1767981) Visitor Counter : 24


Read this release in: English , Hindi , Telugu