زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر زراعت جناب نریندر  تومر اور لیفٹیننٹ گورنر جناب سنہا نے کشمیر میں ورچول طریقے سے ایپل فیسٹیول کا افتتاح کیا


جناب تومر نے جموں و کشمیر میں ہونے والی زرعی ترقی کی تعریف کی

جناب تومر نے کہا کہ وزیر اعظم مودی بین الاقوامی سطح پر بھارت کے وقار اور ساکھ میں اضافے کے لئے مستعدی کے ساتھ کوششیں  کر رہے ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 OCT 2021 6:05PM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی بہبودکے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ  تومر اور  لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا نے  آج  سری نگر،جموں و کشمیر میں  پہلی بار منعقد کئے  جانے والے ایپل فیسٹیول کا ورچول طریقے  سے افتتاح کیا  ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے  جناب تومر نے کہا کہ   وزیر اعظم جناب نریندر مودی  ملک میں  زراعت اور متعلقہ  شعبے کی ترقی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لئے  مکمل  عزم و استحکام  کے ساتھ کام کر رہے ہیں ۔ ساتھ ہی وزیرا عظم بین الاقوامی   سطح پر بھارت کے وقار اور ساکھ میں اضافے کے لئے مستعدی کے ساتھ کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت جموں و کشمیر کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے جناب تومر نے کہا کہ مرکزی   حکومت  کے ذریعہ  مختلف اسکیمو ں کے تحت فراہم کرائے گئے فنڈز   کا استعمال کرتے ہوئے  مرکز کے زیر انتظام خطے میں زراعت کی ترقی کے لئے حکومت  تیز رفتار کے ساتھ اچھا کام کر رہی ہے  ۔

جناب تومر نے کہا کہ کشمیر  کا نام سنتے ہی ذہن میں   سیب   کا خیال آتا ہے ۔  سیب کشمیر کی اہم ترین فصل ہے  اور یہ اہم تقریب  لیفننٹ گورنر جناب منوج سنہا کی  قیادت میں سیب کے   کام سے منسلک کسانوں  اور دیگر متعلقین کے لئے  ایک بہتر پلیٹ فارم  فراہم کرائے گی۔2.2 ملین  ٹن سے زیادہ کی سالانہ    پیدا وار کے ساتھ  جموں و کشمیر کا سیب ملکی سطح پر   سیب کی مجموعی  پیدا وار کا 87 فیصد ہوتا ہے اور یہ  جموں وکشمیر کی  تقریباً 30 فیصد آبادی کو  روزگار فراہم کراتا ہے ۔ انہوں  نے کہا کہ جناب سنہا کی قیادت  میں زراعت کے  میدان میں  خامیوں کو  دور کرنے کا کام   بہت تیز رفتار سے کیا جا رہا ہے ۔ آزادی کا امرت مہوتسو  کے تحت ایپل فیسٹیول کا انعقاد کسانوں کی آمدنی میں  اضافے کے لئے  ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ جناب تومر نے اس بات پر  خوشی کا اظہار کیا  کہ اس مرکز کے زیر انتظام خطے میں  ایک خصوصی اسکیم کے تحت 2300 ہیکٹئر رقبے میں گھنی شجر کاری  کا کام کیا گیا ہے اور گھنی شجر کاری  سے متعلق سازو سامان کے لئے  سب سے بڑا قارنطین مرکز  بھی کھولا جا رہا ہے ۔

image0014DF9.jpg

لیفٹیننٹ  گورنر جناب منوج سنہا نے  کہا کہ  زراعت اور متعلقہ  شعبے کا  جی ڈی پی میں  اہم تعاون ہوتا ہے   زیادہ تر شہری  زراعت پر ہی   انحصار کرتے ہیں ۔ انہیں کی فلاح و بہبود کے لئے مرکزی  حکومت اور مرکز کے زیر انتظام  خطے کی حکومت  مل کر کام کر رہی ہیں ۔کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے لئے متعدد اسکیمیں  نافذ کی گئی ہیں ۔ وزیر اعظم کے خود کفیل  بھارت کے وژن کو پورا کرنے کے  لئے  پورے جوش و جذبے کے  ساتھ کام کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے سائنسدانوں سے درخواست کی  کہ وہ  اپنی تحقیق کا فائدہ تجربہ گاہ سے زمین تک پہنچائیں ۔ جناب سنہا نے یقین دلایا کہ   جموں و کشمیر نے  خراب موسم کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے لئے   مرکز کے زیر انتظام خطے کی انتظامیہ کے ذریعہ کسانوں کو  مکمل مالی  امداد فراہم کرائی جائے گی  ۔ اس سلسلے میں قانونی  ضابطے  کسانوں کے  مفاد میں ہی ہیں ۔

زراعت اور کسانوں کی  بہبود کے  مرکزی وزیر مملکت جناب کیلاش چودھری  نے کہا کہ  وزیر اعظم کی قیادت میں   کئے گئے ٹھوس اقدامات سے  کسانوں کی ترقی یقینی ہے ۔ مرکز کا زراعت کا بجٹ  اب 1.23 لاکھ کروڑ روپے کا ہے جو کہ  مودی حکومت  کے آنے سے پہلے  محض 22 ہزار کروڑ روپے کا تھا  ۔ انہوں  نے کہا کہ کسانوں کو ایم ایس پی کی حصولی  ، زراعتی بنیادی ڈھانچے   سے متعلق ایک لاکھ کروڑ روپے کے   فنڈ جیسے اقدامات سے فائدہ  پہنچ رہا ہے ۔

اس موقع پر  کسانو ں کو مختف اسکیموں سے متعلق چیک اور سرٹیفکیٹ  بھی دئے گئے  ۔ اس تقریب میں زراعت سے متعلق ایک کتابچہ بھی جاری کیا گیا  ۔ اس موقع پر  مقامی عوامی نمائندوں ، سیب کے باغ والوں ، کسانوں ، صنعت کاروں ، زرعی سائنسدانوں اور دیگر معززین  نے شرکت  کی۔ جموں و کشمیر کے  پرنسپل سیکریٹری  ( زراعت  ) جناب نوین کمار چودھری  نے استقبالیہ  خطبہ پیش کیا اور ڈائریکٹر جنرل ( زراعت  ) جناب اعجاز احمد بھٹ نے  شکریہ کی تحریک پیش کی ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

(ش ح ۔ ا گ  ۔ ر ب )

U-12305

 


(ریلیز آئی ڈی: 1767440) وزیٹر کاؤنٹر : 206
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Punjabi