کیمیکلز اور فرٹیلائزر کی وزارت

جناب بھگونت کھوبا نے ملک میں کھاد کی قلت سے متعلق  افواہوں کا  ازالہ کرنے کے لئے ایک پریس کانفرنس سے  خطاب کیا

کرناٹک میں 22 لاکھ  میٹرک ٹن  یوریا  دستیاب ہے: جناب کھوبا

Posted On: 28 OCT 2021 10:34AM by PIB Delhi

کیمیا  جات  اور  کیمیاوی کھادوں کے  مرکزی وزیر مملکت جناب  بھگونت کھوبا نے  ملک میں کھاد کی  قلت سے متعلق  افواہوں کے ازالے کے لئے ایک  میڈیا کانفرنس سے  خطاب کیا۔ افواہوں کو  غلط اور  بے بنیاد  قرار دیتے ہوئے انہوں نے  کسانوں سے  درخواست کی کہ وہ  کھاد کی  قلت سے متعلق  افواہوں پر  یقین نہ کریں۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0022J13.jpg

وکاس سودھا میں  پریس سے  گفتگو کرتے ہوئے جناب  کھوبا نے کہا کہ  گزشتہ  دو برسوں میں  مہاراشٹر ، مدھیہ پردیش  اور  کرناٹک کے  کچھ حصوں میں  کمپلیکس کھادوں  کے  استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کے کسانوں کو  فائدہ ہوگا  ، اگر وہ  کمپلیکس کھادوں اپنائیں۔ ڈی اے پی کے مقابلے  کمپلیکس کھاد  زیادہ بہتر  نتائج  دیتی  ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت  ڈی اے پی  کی بجائے  کمپلیکس  کھاد  خریدنے  کی  سفارش  کر رہی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003QH71.jpg

انہوں نے کہا کہ  کچھ حلقوں میں  ان افواہوں کا  بازار  گرم ہے  کہ  ملک میں  کھاد کی  قلت  ہونے والی ہے  لہذا کسانوں کو  آئندہ 4  مہینوں کے لئے خاطر خواہ مقدار میں کھاد  جمع کرلینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے الزامات  غلط اور  مکمل  طور پر بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ  محکمہ کھاد کے  انچارج وزیر  کی حیثیت سے  میں  کسانوں کو یقین دلا تا ہوں کہ  اگر  انہیں ضرورت ہوگی تو  انہیں  مطلوبہ مقدار میں کھاد دستیاب کرائی جائے گی۔

جناب کھوبا نے کہا کہ  اس سال  نینو  یوریا  کی پیداوار میں اضافہ ہو ا ہے۔ آئندہ سال سے نینو  ڈی اے پی  کی پیداوار  شروع ہوگی ۔  کرناٹک میں 22  لاکھ میٹرک ٹن یوریا دستیاب ہے۔ ربیع کے موسم کے لئے  2  لاکھ میٹرک ٹن  ڈی اے پی  کی ضرورت ہوتی ہے لہذا اتنی پیداوار  کی جائے گی۔ ہم نے  دو فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔

مرکزی وزیر نے  مزید کہا کہ  پوری  ریاست کرناٹک میں  مانسون کے سیزن میں اچھی بارش  دیکھی گئی ہے اور  78.51  لاکھ  ہیکٹئر زمین میں  بوائی کا کام  ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  بوائی کے لئے  جس سامان کی  ضرورت ہوتی ہے ، ریاست کے ذریعے خاطر خواہ مقدار میں اس کی دستیابی  کرائی گئی ہے۔ مرکزی  حکومت  کے  حصے  کے طور پر  اضلاع کو  کھاد  سپلائی کرنے کے  انتظامات  کئے گئے ہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ش ح- م م- ق ر)

​​​​​​​U-12273



(Release ID: 1767117) Visitor Counter : 47