پنچایتی راج کی وزارت
پنچایتی راج کی وزارت نے پنچایتی راج اداروں کے ساتھ بات چیت کے لئے ایک قومی ویبنار کا اہتمام کیا
دیہی علاقوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لئے امداد کے طور پر 44 ہزار کروڑ روپے مختص کئے گئے
سکریٹری نے پنچایتوں سے کہا کہ وہ ، او ڈی ایف پلس اور جل جیون مشن کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے لگاتار کام کریں
یوجنا کا پنچایتی راج پر خصوصی شمارہ جاری کیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 OCT 2021 7:21PM by PIB Delhi
آزادی کا امرت مہوتسو کی یاد میں پنچایتی راج ویبنار سلسلے کے حصہ کے طور پر پنچایتی راج کی وزارت نے 25 اکتوبر 2021 کو ورچول موڈ میں پنچایتی راج اداروں کے ساتھ بات چیت کے لئے ایک قومی ویبنار کا اہتمام کیا ۔ دن بھر چلنے والے اس قومی ویبنار کا افتتاح پنچایتی راج کی وزارت کے سکریٹری جناب سنیل کمار نے کیا ۔
افتتاحی اجلاس کے دوران پنچایتی راج کی وزارت کے سکریٹری جناب سنیل کمار، پبلکیشن ڈوژن کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ مونی دیپا مکھرجی ، پنچایتی راج کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر چندر شیکھر کمار اور پنچایتی راج کی وزارت کے اقتصادی مشیر ڈاکٹر بیجیا کمار بہیرا نے منصوبہ بندی اور ترقی سے متعلق امور پر سرکار کے ایک سرکردہ ماہانہ جریدے ، یوجنا کے پنچایتی راج پر ایک خصوصی شمارہ جاری کیا ۔ جسے اطلاعات اور نشریات کی وزار ت کے پبلکیشن ڈوژن کی طر ف سے شائع کیا گیا ہے ۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ، پبلکیشن ڈوژن کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ مونی دیپا مکھرجی نے کہا کہ پبلکیشن ڈوژن کے لئے یہ بڑے ہی فخر کی بات ہے کہ پنچایتی راج پر یوجنا کے اس خصوصی ایڈیشن کو پیش کیا گیا ہے جس کے ذریعہ ہم ملک بھر میں کئی پنچایتوں کی کامیاب داستانوں کو پھیلا سکیں گے ۔
پنچایتی راج کی وزار ت کے سکریٹری جناب سنیل کمار نے کہا کہ یوجنا کے اس خصوصی شمارے سے نہ صر ف پنچایتی راج عہدیداروں کو زبردست فائدہ ہوگا بلکہ بڑی حد تک عام لوگوں کو بھی فائدہ ہوگا ۔ اور ماہرین تعلیم ، پالیسی بنانے والے اور منتظمین بھی پنچایتی راج سے متعلق اہم امور پر قیمتی معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔
اپنے کلیدی خطاب میں پنچایتی راج کی وزارت کے سکریٹری جناب سنیل کمار نے نیشنل قومی ویبنار کے لئے راہ ہموار کی ہے ۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ کرناٹک کی ریاست نے پنچایت عمارتوں میں پبلک لائبریریاں قائم کرنے کے لئے منفرد پہل کی ہے ۔ پنجاب ، اتر پردیش اور دوسری ریاستیں بھی اس سمت میں کام کر رہی ہیں ۔ پنچایت بھون میں پبلک لائبریری کا قائم دیہی نوجوانوں کے لئے بہت ہی سود مند اور با معنی ثابت ہوگا ۔
سکریٹری نےکہا کہ اب پنچایتوں کو او ڈی ایف پلس اور جل جیون مشن کے مقاصد کے حصول کے لئے لگاتار کام کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ گاؤ وں میں ٹھوس کچرے کے بندوبست اور پلاسٹک کے ایک بار کے استعمال کے بعد مکمل پابندی لگا کر گاؤوں میں بھی کام کیا جانا چاہیے ۔ ٹیکہ کاری مہم میں پنچایتوں کے رول کی تعریف کرتے ہوئے سکریٹری نے مستقبل میں بچّوں کے لئے کووڈ – 19 ٹیکہ کاری میں ایک سرگرم رول ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ بچّوں کے لئے کووڈ – 19 کے ٹیکہ کی دستیابی اسکولوں کے دوبارہ کھولے جانے ا ور متعلقہ سرگرمیوں کے پھر سے شروع ہونے کی راہ ہموار ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لئے 15 ویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر امداد کے طور پر 44 ہزار کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ انہوں نے پنچایتوں سے اپیل کی کہ وہ قومی ترجیح اور مقامی تشویش کے معاملوں کے سلسلے میں لیڈر شپ رول پھر سے ادا کریں ۔
جناب سنیل کمار نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ستمبر 2020 میں سبھی سرپنچوں کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں ان سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ ہر گھر جل ( ہر گھر میں پانی ) کے مقصد کے حصول کے لئے کام کریں انہوں نے عوام اور گرام پنچایتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ جل جیون مشن کو عوامی تحریک بنائیں ۔پنچایتیں اس حقیقت سے اپنے رول کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتی ہیں کہ پانی کے تحفظ کی تحریک سے متعلق وزیر اعظم کے 24 مارچ 2021 کے خط میں سبھی سر پنچوں سے جل شکتی ابھیان : کیچ دی رین کا بھی ذکر کیا گیا تھا ۔
4 تکنیکی اجلاس کے دوران حسب ذیل موضوعات پر مذاکرات ہوئے اور ایک دوسرے کو تجربے فراہم کئے گئے۔ یہ موضوعات ہیں جل جیون مشن اور سوچھتا میں پنچایتوں کا رول ، صحت اور کووڈ – 19 بندوبست اور ٹیکہ کاری میں پنچایتوں کا رول ، پنچایتوں کے ذریعہ ذاتی وسائل کے محصول میں اضافہ اور پنچایتوں میں ای گورننس اور بنیادی ڈھانچہ ۔
یہ موضوعات اہم اسکیموں سمیت مرکز کی امداد سے چلنے والی اسکیموں کی منصوبہ بندی ، نفاذ اور نگرانی میں پنچایتی راج اداروں کے اہم رول کے پیش نظر منتخب کئے گئے تھے ۔
جوائنٹ سکریٹریوں کی جانب سے پاور پوائنٹ پریزینٹیشن کے ذریعہ پنچایتی راج کی وزارت جانب سے کئے گئے اقدامات اور وزارت کے نظریات بھی پیش کئے گئے ۔ پنچایتی راج کی وزارت کے اقتصادی مشیر ، پینے کے پانی صفائی ستھرائی کے کے محکمے ( جل شکتی کی وزارت )کے ڈائریکٹر جناب منوج کمار ساہو نے جل جیون مشن میں پنچایتوں کے رول پر ایک پریزینٹیشن دیا ۔ الیکٹرونکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت میں نیشنل ای گورننس ڈوژن کے چیف آپریٹنگ آفیسر جناب وجے ٹھاکر نے بھی شرکاء کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ ہماچل پردیش کے کنّور کے ڈپٹی کمشنر جناب عابد حسین صادق ، چھتیس گڑھ کے ضلع پریشد رائے گڑھ کے چیف ایگزیکیوٹیو آفیسر ڈاکٹر روی متّل اور گجرات ودودرا کے ڈسٹرکٹ آفیسر جناب ڈاکٹر راجیندر ایم پٹیل نے بھی موضوعاتی شعبوں میں اپنے تجربات کے بارے میں اظہار خیال کیا ۔
ملک بھر کے مختلف حصوں کے منتخب نمائندوں اور عہدیداروں نے بھی قومی ویبنار کے 4 تکنیکی اجلاس کے دوران اپنے اپنے تجربات اور خیالات سے واقف کرایا ۔ جسے کافی دھیان سے سنا گیا ۔ اپنے اختتامی کلمات میں پنچایتی راج کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر چندر شیکھر کمار نے دن بھر چلنے والےاجلاس کے دوران تمام شرکاء کا اس بات کے لئے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بہت سر گرمی کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی اور توجہ سے خیالات سنے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ویبنار نے مختلف موضوعاتی شعبوں میں خیالات ، کامیاب داستانیں اور بہترین طور طریقے سننے کے لئے ایک اچھا موقع فراہم کیا انہوں نے دیہی علاقوں میں ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنانے کے لئے تمام شراکت داروں کی جانب سے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس موقع پر پنچایتی راج وزارت کی ڈپٹی سکریٹری محترمہ مالتی راوت نے شکریہ کی تجویز پیش کی ۔
ش ح۔ح ا۔ ر ب
U. NO. 12206
(ریلیز آئی ڈی: 1766586)
وزیٹر کاؤنٹر : 162