صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر بھارتی پوار نے وردھمان مہاویر میڈیکل کالج و صفد ر جنگ اسپتال میں مریض کو ہوش میں لائے جانے کی جامع تربیت کے مرکز کا افتتاح کیا

’’ہر ایک کو زندگی بچانے والے  ہنر سے واقف ہونا چاہے تاکہ حفظان صحت کی فوری خدمات فراہم کی جا سکیں کیونکہ ہنگامی صورتحال میں ہر لمحے کی اہمیت ہوتی ہے‘‘

Posted On: 20 OCT 2021 7:02PM by PIB Delhi

نئی دہلی،20 ستمبر، 2021/صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر بھارتی پروین پوار نے آج وردھمان مہاویر میڈیکل کالج  (وی ایم ایم سی) و صفدر جنگ اسپتال میں مریض کو ہوش میں لانے  کی جامع تربیت کے مرکز  سی آر ٹی سی کا افتتاح کیا۔

زندگی بچانے والے ہنر کی، جس  پہلے بیچ کو تربیت دی جانی ہے اسے بھی تیار کیا گیا۔

اس تربیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر پوار نے کہا ’’ایمرجنسیکیصورتمیںمریضوںکیزندگیاںبچانےکےلیےتمامہیلتھکیئرفراہمکرنےوالوںکیتربیتایکمسلسلعملہےاور صحیح بات تو یہ ہے کہ کسی بھی اسپتال میں کام کرنے والے شخص کو بھی نہ صرف زندگی بچانے والے یہ ہنر سیکھنے چاہئیں بلکہ اسے اپنے ہنر کو وقتاً فوقتاًاپنے اس ہنر کو تازہ شکل دیتے رہنا  چاہیے۔ زندگی بچانے والے ان ہنر مندیوں کو مریض کی ضرورتوں کے مطابق بنایا جانا چاہیے اور انہیں سیکھنے کے لیے آسان بنایا جانا چاہیے۔ تاکہ ڈاکٹرز ، نرسز اور نیم فوجی عملے کو اس کے مطابق بھی تربیت دی جائے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا  ’’زندگی بچانے والی بنیادی ہنرمندیوں سے حفظان صحت سے متعلق سبھی کارکنوں کو واقف ہونا چاہیے کیونکہ فوری اور موزوں کارروائی سے کسی زندگی کو بچایا جاسکتا ہے۔  عوام میں بیداری لاکر  اور عام لوگوں  خاص طور پر نوجوانوں کو تربیت  فراہم کر کے کسی متاثر کو فوری مدد دینے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ راہ گیروں کی طرف سے وافر اور بروقت مداخلت سے کسی ایسے مریض کی زندگی بچائی جا سکتی ہے جس کے دل نے دھڑکنا بند کر دیا ہو کیونکہ ہر لمحہ اہم ہوتا ہے۔ ‘‘

انہوں نے بتایا کہ ایک مناسب شرح پر سینے  کو دبائے  جانے جیسے آسان طریقے ہر ایک کو بتائے جاسکتے ہیں اور ان سے مریضوں کو مدد مل سکتی ہے اور طبی امداد دستیاب ہونے تک اگر یہ عمل جاری رکھا جائے تو اس کی زندگی بچانے کے امکانات بہتر ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دل کی رگوں کو دوبارہ چالو کرنے کے ایسے بہت سے تربیت یافتہ لوگوں کی دستیابی وقت کی ضرورت ہوتی ہے جو محض عام لوگ ہوں جیساکہ کسی طبی  ہنگامی صورتحال میں سب سے پہلے یہی لوگ کوئی کارروائی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر پوار نے زور دے کر کہا کہ ہمدردانہ دیکھ بھال اس علاج کا حصہ ہوتی ہے جو مریض کو دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا  ’’یہ حفظان صحت فراہم کرنے والے اور دیکھ بھال کی  ٹیم کے  ہر ممبر کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔  مریضوں کا اچھا خاصہ وقت نرسوں ، میڈیکل اسسٹنٹ اور رسپشنسٹ کے ساتھ گزرتا ہے۔ اس تال میل کی وجہ سے مریض کے تئیں ہمدردی ظاہر کرنے کے کئی موقعے فراہم ہوتے ہیں۔ لہذا امدادی عملے کی تربیت ، حوصلہ افزائی اور اسے ممد کی یقین دہانی کرنا کہ وہ مریض کی ، پوری ہمدردی سے دیکھ بھال کرے۔ اس سے مریض کے مجموعی تجربات پر خاطر خواہ اثر پڑتا ہے۔ ‘‘

۔۔۔

                  

م ن ۔ اس۔ ت ح ۔                                               

U –12046



(Release ID: 1765358) Visitor Counter : 77


Read this release in: English , Marathi , Hindi , Tamil