کیمیکلز اور فرٹیلائزر کی وزارت

اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی سی سی ای اے  نے بموجب  اطلاع نامہ مورخہ 20 مئی 2021 ، فاسفیٹ اورپوٹاش  (پی اینڈ کے ) آمیز کیمیائی کھاد  کی قیمتوں  میں اضافے کو سال 22-2021 تک نافذرہنے کی منظوری دےدی ہے

حکومت نے  بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے  کے اثر کو کم کرنے کی غرض سے ایک خصوصی یکمشت  پیکج  کے طورپر ڈی اے پی کے لئے سبسڈی  میں فی بوری 438 روپے کا اضافہ کردیا ہے

تین، سب سے زیادہ استعمال کئے جانے والے این پی کے زمروں  (26 :26 : 10 ، 13 :03 : 20 : 20 : اور 16: 32 : 12) کے لئے سبسڈی میں فی بوری 100 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے

راب سے حاصل ہونے والے پوٹاش کو پہلی مرتبہ فصل کو قوت دینے والے عناصر پر مبنی سبسڈی (این بی ایس)کے تحت لایا گیا ہے

اس قدم کی وجہ سے، 42 لاکھ ملین ٹن سے زیادہ معدنیات پر مبنی پوٹاش(ایم او پی ) کی 100فیصد درآمدات  پر بھارت کے انحصار میں  کمی آئے گی

اس فیصلے کی بدولت گنّا اگانے والے کسانوں  اور شکر ملو ں  کی آمدنی کی سطح بہتر ہوگی

Posted On: 14 OCT 2021 11:53AM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی نے اس بات کی منظوری دی ہے کہ بموجب اطلاع نامہ مورخہ  20 مئی  2021 کو فاسفیٹ اور پوٹاش آمیز (پی اینڈ کے )کیمیائی کھاد کی بڑھائی گئی قیمتیں ، یکم اکتوبر 2021 سے  31 مارچ 2022 تک 22-2021 کے پورے سال تک نافذ رہیں گی۔

 اس طرح مرکزی حکومت  نے ڈایا مونئیم فاسفیٹ  ( ڈی اے پی ) کی اضافہ شدہ  بین الاقوامی  قیمتوں  کی شدت کو کم کردیا ہے ۔ مرکزی حکومت نے  ایک خصوصی یکمشت  پیکج  کے طورپر ڈی اے پی کی سبسڈی 438 روپے فی بوری کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسانوں  کو اسی قیمت پر ڈی اے پی حاصل  ہوسکے ۔

تین سب سے زیادہ  استعمال کئے جانے والے  این پی کے زمروں   (26 :26 : 10 ، 13 : 0 : 20 : 20 اور 16 : 32 : 12 ) کی پیداوار کے لئے خام مال کی بڑھی ہوئی  بین الاقوامی قیمتوں کی شدت کو حکومت ہند نے کم کردیا ہے ۔اس نے ایک خصوصی  پیکج کے طورپر ان تین این پی کے زمروں پر سبسڈی کی رقم میں 100روپے فی بوری کا اضافہ کردیا ہے تاکہ کسانوں  کو یہ کیمیائی  کھاد کفائتی قیمتوں  پردستیاب ہوسکے۔

مرکزی حکومت نے فصل کو تقویت  پہنچانے  والے عناصر پر مبنی سبسڈی (این بی ایس )اسکیم کے تحت ،راب سے حاصل   ہونے والی پوٹاش (پی ڈی ایم )کو بھی شامل کرلیا ہے۔ سال 2010 میں اس اسکیم کے آغاز کے بعد سے پہلی مرتبہ یہ قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ شکر ملوں کے ذریعہ ایک ضمنی پیداوار  کے طور پر اس کی پیداوار  کو فروغ دیا جاسکے ۔اس  کیمیائی کھاد  کو پی ڈی ایم – او : او :14 : 5 : 0    کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اس قدم سے معدنیات پر مبنی پوٹاش  یعنی ایم او پی کی 42 لاکھ  میٹرک ٹن  سے زیادہ  100فیصد  درآمدات  ، جس  پر لگ بھگ  7160 کروڑروپے  سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔اس فیصلے کی بدولت  نہ صرف گنّا  اگانے والےکسانوں اور شکر ملوں کی آمدنی کی سطح  میں اضافہ ہوگا  بلکہ کیمیائی کھاد تیار کرنے والی  کمپنیوں   کے ذریعہ کسانوں  کو  600 تا 800 روپے کی در سے فروخت کی جانے والی 50 کلوگرام کی ہر بوری پر 73روپے کی سبسڈی بھی ملے گی۔

ایسی توقع کی جارہی ہے کہ مرکزی حکومت پی  ڈی ایم  پر سبسڈی کے طور پر تقریباََ  156  کروڑ روپے سالانہ خرچ کرے گی اور  562  کروڑ روپے کے غیر ملکی زر مبادلہ کی بچت  کرے گی۔

*************

 

 

ش ح۔ ع م ۔رم

U-10061



(Release ID: 1763865) Visitor Counter : 57