کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

اے پی ای ڈی اے نے سائٹرس  اور اس کے ویلیو ایڈیڈ پروڈکٹس  کی برآمد کو فروغ دینے کے لئے آئی سی اے آر- سنٹرل سائٹرس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ناگپور کے ساتھ مفاہمتی قرارداد پر دستخط کئے

مفاہمتی قرارداد کا مقصد پروڈکٹس  کے مخصوص کلسٹروں کو فروغ دینا، عالمی بازار  میں   روابط کے ذریعہایکسپورٹ باسکٹ اور  ڈیسٹی نیشنز میں توسیع کرنا

Posted On: 11 OCT 2021 4:47PM by PIB Delhi

نئی دہلی:11؍اکتوبر2021:

زرعی اور ڈبہ بند خوراک پروڈکٹس کی برآمدات سے متعلق ترقیاتی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) نے سائٹرس    اور  اس  کے ویلیو ایڈیڈ پروڈکٹس   کو فروغ دینے  کےلئے آئی سی اے آر-سنٹرل سائٹرس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی  سی اے آر-سی سی آر آئی) ناگپور کے ساتھ مفاہمتی قرارداد (ایم او یو ) پردستخط کئے ۔

اس  ایم او یو میںموثر اور بہترین کھیتی پر فوکس کے ساتھ اے پی ای ڈی اے اور آئی سی اے آر – سی سی آر آئی  کے ذریعہ  ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ مخصوص  پروڈکٹس سے متعلق کلسٹروں کے قیام  پر توجہ مرکوز کرنے کے ذریعہ  برآمدات کو فروغ دینے   کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

 ان دونوں مشہور اداروں کا اتحادایکسپورٹ باسکٹ  ، منزل کو  متنوع کرنے اور عالمی سطح پر برانڈ انڈیا  کے قیام کے ذریعہ اعلیٰ قیمت والی زراعت سے متعلقہ پروڈکٹس کو فروغ دینا ہے۔ ایم او یو میں کہا گیا ہے کہ سائٹرس کے لئے بازار کی ترقی اور پتہ لگانے کی صلاحیت جس میں فارورڈ اور بیک ورڈ لنکج کو مضبوط کرنا ، برانڈنگ اور مارکٹنگ ، مارکٹ انٹلیجنس  سیل کو قائم کرنا کرنا وغیرہ  ضروری ہے۔

ایم او یو میں کہا گیا ہے کہ  پروڈکٹ ڈیولپمنٹ کے کام میں فیلڈ ڈیجیٹائزیشن ، کوالٹی کنٹرول کے موثر اقدام (سینیٹری اور فائٹو سینٹری) ، نامیاتی کھیتوں کی ترقی شامل ہے۔ اے پی ای ڈی اے اور آئی سی اے آر– سی سی آر آئی زرعی کاروبار اور برآمدات کو فروغ دینے کے لئے کسانوں، چھوٹے صنعت کاروں ، برآمد کنندگان  اور دیگر فریقوں کے لئے صلاحیت سازی کا بھی اہتمام کریں گے۔

 

ایم او یو پر حال ہی میں ناگپور میں روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر جناب نتن گڈکری اور اے پی ای ڈی اے کے چیئرمین ڈاکٹر ایم انگاموتھو کی موجودگی میں دستخط کیے گئے اور اس کا مقصد کسان   پروڈیوسرآرگنائزیشن  اور فارمر پروڈیوسر کمپنیوں کو فروغ  دینا اور  ابتدائی مدد فراہم کرنا اور انہیں بین الاقوامیبازاروں  سے جوڑنا ہے۔

 

ایم او یو کے مطابق، اے پی ای ڈی اے اور آئی سی اے آر- سی سی آر آئی آب و ہواکے موافق  زراعت، کو فروغ دینے، جی اے پی سرٹیفیکیشن، بلاک چین ٹیکنالوجی کو فروغ دینے اور کسانوں کی ضروریات کے مطابق  کاروباری ماڈل  کو شکل دینے کے لئے  باہمی معاہدہ کریں گے۔ سائٹرس کے لئے  ایکسپورٹ پروٹوکول ، خاص طور پر لمبی دوری کے بازاروں کے لئے  بحری ٹرانسپورٹ کے ترقی کا کام بھی شروع کیا جائے گا۔

 اس ایم او یو کا مقصد باہمی تعاون کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا  بھی ہے جو ٹیکنالوجی کی منتقلی اور یونیورسٹی کی تکنیکی مہارت کو بڑھاتے ہیں اور درآمد کنندگان  ممالک کی ضروریات کے مطابق  اور این اے بی ایل ایکریڈیشن اور اے پی ای ڈی اے کی منظوری حاصل کرنے کے  اور  جانچ کے لیے موجودہ لیبارٹری سہولیات کو مضبوط  بناتے ہیں۔

ایم او یو کے مطابق ، " اے پی ای ڈی اے  کے ذریعہ  برآمدات کو فروغ دینے کے لئے سائٹرس   کے لئے  ضروریات کے جائزے، ٹیکنالوجی کی ترقی اور  اسے پھیلانے کا کام کیا جائے گا جو زرعی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے پیشگی طور سے پتہ لگانے کی تکنیک بھی تیار کرے گی۔ دونوں ادارے سنتروں اور دیگرسائٹرس کے زمرے والے  پھلوں کی ویلیو ایڈڈپروڈکٹس کی ترقی کے لیے باہمی تعاون کے منصوبے بھی شروع کریں گے۔

اے پی ای ڈی اے اور آئی سی اے آر-سی سی آر آئی برآمدات کے لیےسیٹرس  پھلوں کے  معیاری آپریٹنگ طریقہ کار بھی تیار کریں گے جن میںکھیتی  سے قبل اور بعد میں بندوبست ، باقیات پر کنٹرول ، کھیتی کے بعد کا وقفہ ، شیلف لائف ڈویلپمنٹ وغیرہ شامل ہیں۔

متعلقہ ریاستوں اور ضلع میں فارم سطح پر سرگرم ایف پی او یا این جی او کے تعاون سے  برآمد پر مبنی توسیع شدہ سرگرمیاں بھی چلائی جائیں گی۔

ایم او یو کا مقصد جغرافیائیانڈیکیشن  (جی آئی) ٹیگوالے ناگپوری سنترے اور مہاراشٹر کے اورگینک سائٹرس پروڈکٹز کی برآمد کے فروغ کے ساتھ ساتھ  درآمد کرنے والے کے لئے بہتر کھیپ کی عہدبستگی کو فروغ دینے کے لئے اے پی ای ڈی اے  کے ساتھ جامع پائیدار ویلیو چین تیار کرنا  بھی ہے۔ آئی سی اے آر-سی سی آر آئی کیڑوں  اور  بیماریوں (فروٹ سلائی، سائٹرس ٹینکر، وغیرہ کے لئے کیڑوں سے پاک علاقہ) کے لئے  ریئل ٹائم سلوشنز کی ترقی جیسے   برآمدات  کے چیلنجز سےنمٹنے میں بھی تعاون کریں گے۔

ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے ، اے پی ای ڈی اے نے آئی سی اے آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ملیٹ ریسرچ (آئی سی اے آر-آئی آئی ایم آر) ،  کوئمبٹور کی تمل ناڈو زرعییونیورسٹی ،  بنگلور کی  زرعی سائنس یونیورسٹی ،  نیشنل ایگری کلچر کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا لمیٹیڈ (این اے ایف ای ڈی )  اور دیگر کے ساتھ کئی  مفاہمتی قراردادوں  پر دستخط کیے ہیں۔

 

 

************

 

 

ش ح۔ف ا ۔ م  ص

 (U: 9947)

 

 



(Release ID: 1763096) Visitor Counter : 83


Read this release in: English , Hindi , Marathi , Tamil