سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

زیرِ زمین پانی کے بندوبست کے لئے جدیدترین ہیلی – بورن سروے ٹکنالوجی کا آغاز

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سی ایس آئی آر کی واٹر ٹکنالوجیز سے آبی ذرائع کی تلاش سے لے کر گندے پانی کی صفائی تک ملک بھر کے لاکھوں لوگوں کوفائدہ ہوگا

وزیرموصوف نے کہا کہ سی ایس آئی آر – این جی آر آئی کے ذریعہ خشک /ریگستانی علاقوںمیں ایکوافرمیپنگ اینڈ مینجمنٹ ، وزیراعظم کی انتہائی اہم ‘‘ ہر گھر نل سے جل’’ اسکیم کا تتمہ ہے

جل شکتی کے مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت کے ساتھ خشک /ریگستانی علاقوںمیں زیرزمین پانی کے بندوبست کے لئے جودھپور میں ہیلی – بورن سروے کا مشترکہ طورپر آغاز کیا

Posted On: 05 OCT 2021 6:05PM by PIB Delhi

 

سائنس وٹکنالوجی ،ارضیاتی سائنس ( آزادانہ چارج ) ، وزیراعظم کےدفتر ، عملہ ،عوامی شکایات وپنشن ، جوہری توانائی اور خلاء کے مرکزی  وزیر مملکت  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج  کونسل  آف سائنٹیفک اینڈ  انڈسٹریل ریسرچ  - نیشنل جیو فزیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سی ایس آئی آر – این جی آر آئی )  حیدرآباد  کے ذریعہ تیار کی گئی آبی بندوبست کے لئے  جدید ترین  ہیلی-  بورن  سروے  ٹکنالوجی کا آغاز کیا۔ جل شکتی کے وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت  بھی  اس موقع پر موجود تھے۔  

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/3K9KW.jpeg

اس جدیدترین ہیلی- بورن سروے کے راجستھان ، گجرات ، پنجاب اور ہریانہ  کو سب سے پہلےدیا جارہا ہے اور اس کی شروعات آج راجستھان کے جودھپور سے کی گئی ہے۔

اس موقع پر اپنی تقریر میں ڈاکٹرجتیندر سنگھ نے کہا کہ سی ایس آئی آر  کی واٹر ٹکنالوجیز سے پانی کے  ذرائع کی تلاش  سے  لے کر گندے پانی کو صاف کرنے  (واٹر ٹریٹمنٹ ) تک  ملک بھر میں  لاکھو ں لوگو ں کوفائدہ ہوگا اور یہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ‘‘ ہر گھر نل سے جل ’’  کے ساتھ ساتھ ‘‘کسانوں کی آمدنی کو دوگنی کرنے’’   کے ہدف  میں مثبت طورپر  معاون  ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سی ایس آئی آر کے ذریعہ  خشک /ریگستانی  علاقوںمیں  زیر زمین  پانی کے ذرائع کی  نقشہ سازی کے لئے  جدید ترین تکنیک کا استعمال کیا جارہا ہے  اور اس سے پینے کے پانی کے حصول  کے مقاصد کے لئے زیر زمین  پانی کے استعمال میں  مدد ملتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2(1)3MCR.jpeg

ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے  کہا کہ سی ایس آئی آر کی تکنیکی دولت  جل شکتی کی وزارت کے متعدد پروگراموں کے لئے ایک بڑا اثاثہ  ثابت ہوگی اور پانی کے شعبے میں ملک کو درپیش  بڑے چیلنجوںکا سامنا کرنے کے لئے ساتھ مل کر کام کرنے کا یہی صحیح وقت ہے۔وہ جودھپور  میں جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت کی موجودگی میں ریگستانی علاقوںمیں زیر زمین  پانی کے بندوبست کے لئے  ہیلی –بورن سروے کا آغاز کرنے کے بعد اظہا ر خیال کررہے تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/4(1)8T1T.jpeg

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سی ایس آئی آر نے   این جی آر آئی  کے ساتھ  مل کر  زیر زمین آبی وسائل میں  اضافے کے لئے شمال مغربی بھارت کے  ریگستانی علاقوں میں اعلیٰ  معیار کی ایکوافر میپنگ  اینڈ مینجمنٹ   کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ایس آئی آر – این جی آر آئی  کی ہیلی –بورن جیو فزیکل میپنگ تکنیک  سے زمین کے نیچے  500 میٹر کی گہرائی تک  ذیلی سطح  (سب –سرفیس)  کے ہائی ریزولیوشن تھری ڈی امیج  حاصل ہوتی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ  انہیں  یہ جان کر بڑی خوشی ہورہی ہے کہ جل شکتی کی وزارت  راجستھان ، گجرات ، پنجاب اور ہریانہ جیسی ریاستوں کے  ریگستانی اور نیم ریگستانی علاقوں میں  زیر زمین  پانی کے مسائل  کا حل نکالنے کے لئے اس تکنیک کا استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس نے  سی ایس آئی آر-این جی آر آئی کے ساتھ ایک بہت ہی اہم  پروجیکٹ  ‘‘ شمال مغربی بھارت کے ریگستانی علاقوںمیں  اعلیٰ  معیار کی  ایکوافر میپنگ اینڈ مینجمنٹ ’’  کے نفاذ کے لئے  ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ اس پروجیکٹ کا مقصد  ہمارے ملک کے  پانی کی قلت والے ریگستانی علاقوںمیں  رہنے والے لاکھوں لوگوں کو  پینے کا محفوظ پانی دستیاب کرانے کے لئے ممکنہ  زیر زمین ذرائع اور اس کے بندوبست  کی نقشہ سازی کرنا ہے۔یہ 150 کروڑ روپے  کا بڑا پروجیکٹ ہے اور اسے  قومی ایکوافر  نقشہ سازی پروجیکٹ   کے ایک جزو کے طورپر جل شکتی کی وزارت کے تعاون سے دو مرحلوںمیں  نافذ کیا جائے گا۔اس پروجیکٹ سے بھارت سرکار کے سب سے اہم پروجیکٹ  جل جیون مشن کو  نافذ کرنے میں سی ایس آئی آر کو بہت شہرت ملنے کی توقع ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ شمال مغربی بھارت  کے  یہ خشک / ریگستانی علاقے  راجستھان ، گجرات ، ہریانہ اور پنجاب  جیسی ریاستوں کے  کچھ حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور یہ ملک کے کُل  جغرافیائی رقبے کا تقریباََ  12فیصد ہیں ، جن میں 8 کروڑسے زیادہ لوگ آباد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  100سے 400 ملی میٹر  کم بارش والا یہ علاقہ  پورے سال پانی کی بھاری قلت کا سامنا کرتا ہے اوراسی لئے ان علاقوں میں زیر زمین  پانی کے ذرائع میں  اضافے کے لئے  اعلیٰ معیار کی  ایکوافر  نقشہ سازی  و بندوبست   کی تجویز  ہے ۔

*************

 

 

ش ح۔ م م ۔رم

U-9802



(Release ID: 1761724) Visitor Counter : 50


Read this release in: English , Hindi