سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ہندوستان انٹارٹک ماحول میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔


وزیر موصوف، انٹارٹک معاہدے کے ماحولیاتی تحفظ کے پروٹوکول (میڈرڈ پروٹوکول) پر دستخط ہونے کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر، ورچوول طور پر، بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے

Posted On: 04 OCT 2021 6:31PM by PIB Delhi

نئی دہلی،4 اکتوبر2021:   سائنس اور ٹیکنالوجی کےمرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، ارضی سائنسز کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ، ا پی ایم او ، پرسنل ، عوامی شکایات ، پنشن ، جوہری توانائی اور خلا کے وزیر مملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج انٹارٹک معاہدے سے ماحولیاتی تحفظ پر میڈرڈ پروٹوکول پر دستخط کییاد میں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کیا۔

کانفرنس میں میزبان ملک اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز ، نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن ، آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن اور پروٹوکول پر دستخط کنندہ مختلف ممالک کے وزراء اور نمائندوں نے شرکت کی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان، انٹارٹک ماحول میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان نے پہلے ہوا کی توانائی کی پیداوار کے امکانات کے ساتھ تجربہ کرکے سبز توانائی کی پہل کو اپنایا ہے اور تجرباتی بنیادوں پر ہوا کی توانائی کے جرنیٹرس (ڈبلیو ای جی) کی معتدل پیداوار کی تنصیب کی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی غرض سے ہندوستانی اسٹیشن کے لیے  کمبائنڈ ہیٹ اینڈ پاور(سی ایچ پی) کا انتخاب ماحول کے تحفظ کے تئیں ہندوستان کے عہد کو بھی مستحکم کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001JROS.jpg

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان، ماحولیاتی تحفظ کی کمیٹی (سی ای پی) کی تبدیل  ہوتی ہوئی موسمیاتی تبدیلی ریسپانس ورک پروگرام میں شراکت کا منتظر ہے۔ انھوں نے کہا کہ  موسمیاتی حوصلہ افزا جاتی کاربن ڈائی  آکسائڈ (سی او 2) قطبی سمندروں کے باعث تیزابیت کا باعث بنتا ہے جو سمندری ماحول  اور ماحولیاتی نظام کو تباہ کردیتا ہے نیز اس سے آہستہ آہستہ ماہی گیری متاثر ہوتی ہے اور آخر میں، بایوم تبدیلیوں کو آگے لے جانا اگلے 30 برسوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ وزیر موصوف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان سیاحت میں اضافے اور غیر قانونی غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم(آئی یو یو) ماہی گیری کے معاملے کو بھی ممکنہ مسائل کے طورپر پیش کرتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان انٹارٹک ماحول اور انحصار اور اس سے وابستہ ماحولیاتی نظام کے جامع تحفظ کے تئیں پرعزم ہے اور انٹارٹکا کو امن اور سائنس کے لیے  وقف، قدرتی خزانے کے طور پر نامزد کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہندوستان انٹارٹک معاہدے کے ماحولیاتی تحفظ کے پروٹوکول کے تئیں اپنے عزم کی بھی تصدیق کرتا ہے اور اس وقت یہ دعوی کرتا ہے کہ :

1۔ ہندوستانی انٹارٹک پروگرام میں اے ٹی سی ایم میں اختیار کردہ تمام فیصلوں، قراردادوں اور اقدامات کو موثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔

2۔ ہندوستانی انٹارٹک دونوں یعنی میتری اور بھارتی تحقیقی اسٹیشنوں میں  سبز متبادل توانائی استعمال کریں اور شمسی پینل اور ہوا سے چلنے والے جرنیٹر میں خام ایندھن کے استعمال کو آہستہ آہستہ سمجھوتہ کرکے کم کریں اور متبادل سبز توانائی سے اسٹیشن کو موثر بنائیں۔

3۔ جب ضرورت ہو اس وقت گاڑیوں اور مشینری کا استعمال کرتے ہوئے کاربن کے نشانات کو کم کریں۔

4۔ انٹارٹکا میں انسانی وسائل ، مواد اور مشینیں پہنچانے کے لیے مشترکہ سپلائی استعمال کریں۔

5۔ غیر مقامی نسلوں کو انٹارٹکا میں کسی بھی وسائل یا ویکٹر ٹرانسفر کے ذریعے کنٹرول کریں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ’’ہم نے میڈرڈ پرٹوکول پر دستخط کرنے اور عملدرآمد کے 30 سال مکمل کرلیے ہیں جو ایک انٹارٹک ماحولیاتی اور انحصار ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے تئیں ہمارے عزم کی تصدیق کرتا ہے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ 42 ملکوں کی پارٹیاں جو میڈرڈ پرٹوکول پر عمل پیرا ہیں، انٹارٹک ماحول کو پائیدار اور محفوظ رکھنے کا ایک قابل ذکر کارنامہ ہیں اور ہندوستا ن میں اس پروٹوکول پر 1998 میں دستخط کرنے میں اعزاز محسوس کیا تھا۔

وزیر موصوف نے اسپین کو اس کامیاب میٹنگ اور کانفرنس کے انعقاد اور انٹارٹک ماحول کے تحفظ کے حوالے سے ہمارے وعدوں کو نشان زد کرنے کا موقع فراہم کرنے پر مبارکباد دی۔

ہندوستان نے 19 اگست 1983 کو اس معاہدے پر دستخط کئے تھے اور اس کے فوراً بعد ہی 12 ستمبر 1983 کو مشاورتی حیثیت حاصل کرلی تھی۔ میڈرڈ پروٹوکول پر ہندوستان نے دستخط کئے جو 14 جنوری 1998 کو نافذ العمل ہوا۔ ہندوستان قومی انٹارٹک پروگرام (کوم نیپ) کی کونسل آف مینیجرز اور انٹارٹکا تحقیق کی سائنسی کمیٹی  (ایس سی اے آر) کا بھی رکن ہے۔ یہ تمام نمائندگی اس اہم پوزیشن کو ظاہر کرتی ہے جو کہ انٹارٹک تحقیق میں شامل اقوام کے مابین ہندوستان کو حاصل ہے۔

ہندوستان میں  دو فعال تحقیقی اسٹیشن ہیں؛ سرماچر ہلز میں قائم میتری (1989 میں کمیشن کیا گیا) اور انٹارٹکا میں لارسے من ہلز میں قائم بھارتی  اسٹیشن(212 میں کمیشن کیا گیا)۔ ہندوستان نے اب تک 40 سالہ مہمات کا کامیابی سے آغاز کیا ہے۔ آرکٹک، سَولبارڈ، این وائی-الیسوند میں ہمادری اسٹیشن کے پاس ساتھ ہی ہندوستان اب ان قوموں کے اعلیٰ گروپ سے تعلق رکھتا ہے جن کے پولر خطوں میں متعدد تحقیقی اسٹیشن قائم ہیں۔

انٹارٹک معاہدے کے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق  پروٹوکول پر 4 اکتوبر 1991 کو میڈرڈ میں دستخط کئے گئے تھے اور 1998 میں اسے نافذ کیا گیا۔ یہ معاہدہ انٹارٹکا کو ایک ’’قدرتی خزانہ، وقف برائے امن اور سائنس‘‘ کے طور پر نامزد کرتا ہے۔

*****

U.No.9700

(ش ح - اع - ر ا)   

 



(Release ID: 1760976) Visitor Counter : 200


Read this release in: English , Hindi , Punjabi , Telugu