نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ نے زراعت، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مفاد عامہ میں مصنوعی ذہانت پر مبنی حل دریافت کرنے کی اپیل کی

یونیورسٹیاں، بلدیاتی اداروں کو ٹیکنالوجی پر مبنی حل دستیاب کرائیں تاکہ عوامی خدمات میں بہتری آئے: نائب صدر

ملک کی ترقی کے لئے اختراعات قومی منتر بننا چاہئے: جناب نائیڈو

آئی آئی ٹی جیسے باوقار اداروں کو اختراعات کے مراکز بننے چاہئیں، وہ اپنے تجربات اور بہترین طور طریقے دیگر علاقائی اداروں کے ساتھ مشترک کریں: نائب صدر

یونیورسٹیوں کے نصاب میں لچیلاپن ہونا چاہئے، تاکہ طلباء اپنے آخری سال میں اپنی دلچسپی کے میدان میں پروجیکٹ چن سکیں: نائب صدر

زیادہ سے زیادہ نوجوان سیاست میں آئیں، وہ اپنے آدرشوں اور اپنی صلاحیت سے سیاست میں تبدیلی لاسکتے ہیں: نائب صدر

روایتی فنکاروں کو بہتر مارکیٹنگ مواقع دستیاب کرانے کی اپیل کی

نائب صدر نے آئی آئی ٹی جودھپور کا دورہ کیا، جودھپو سٹی نالیج اینڈ اینوویشن کلسٹر کا افتتاح کیا، آرٹیفیشل انٹلیجنس آف تھنگس (اے آئی او ٹی) نظامات کے لئے فیب لیب کا سنگ بنیاد رکھا

Posted On: 28 SEP 2021 5:22PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  28/ستمبر2021 ۔ نائب صدر جمہوریہ جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج مصنوعی ذہانت جیسی انقلابی ٹیکنالوجی کے فوائد عوامی مفاد کے لئے اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے دستیاب کرانے کی درخواست کی۔ انھوں نے تعلیمی اداروں اور محققین کو زراعت، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی حل کا استعمال کرنے کی تلقین کی۔

اس تناظر میں جناب نائیڈو نے صنعت اور اختراع کاروں سے مصنوعی ذہانت کا استعمال فی سیزن ایگریکلچر  کے توسط سے زرعی پیداوار کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے کہا، تاکہ کسانوں کو ان کے پیداوار کی بہتر قیمت مل سکے۔ انھوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں ریموٹ ڈائیگنوسس اور تعلیم کے شعبے میں انگریزی میں دستیاب مواد کا از خود بھارتی زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لئے بھی مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اس طرح کے حل کا استعمال بڑھے تو کام کرنے کی صلاحیت بھی بڑھے گی اور پیداوار بھی، جس سے لاکھوں لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آسکے گی۔

نائب صدر آج آئی آئی ٹی جودھپور میں آرٹیفیشیل انٹلیجنس آف تھنگس ( اے آئی او ٹی) کے فیبریکیشن لیباریٹری کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد اظہار خیال کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور اس کے عملی استعمال نے گزشتہ دہائی میں عالمی معیشت میں غیرمعمولی تبدیلی لانے کا کام کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا مقصد بالآخر لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہی ہے اور اسی مقصد سے مصنوعی ذہانت سے وابستہ ٹیکنالوجی کا بھی ہونا چاہئے۔

انتظامیہ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہا کہ عوامی خدمات مستعدی کے ساتھ دستیاب کرانے کے لئے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے جن دھن کھاتوں میں فوائد کی راست منتقلی کی بدولت بدعنوانی کے معاملات میں آئی کمی کا ذکر کیا۔ انھوں نے یونیورسٹیوں سے مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر انتظامیہ اور عوامی فلاح و بہبود کے کام کو مزید مؤثر بنانے کے لئے نئے حل دریافت کرنے کی درخواست کی۔ اس طرح کے تعاون سے طلباء کو بھی حقیقت کا تجربہ ہوگا اور وہ سماج کے دیرینہ پیچیدہ مسائل کا حل دریافت کرسکیں گے۔

مصنوعی ذہانت سے اقتصادی پہلو کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے توسط سے سال 2035 تک بھارت کے موجودہ گراس ویلیو ایڈیڈ میں 957 بلین ڈالر یا 15 فیصد اضافہ ہوسکنے کا اندازہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کے سبب مستقل روزگار کے مواقع میں کمی آنے کے اندیشوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جناب نائیڈو نے مسلسل فروغ ہنرمندی کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ ہمارے نوجوان چوتھے صنعتی انقلاب کی ضرورت کے مطابق خود کو تیار کرسکیں۔

نائب صدر نے کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سائنس کو سبھی کورسیز کے لئے لازمی بنائے جانے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہمارے طلباء کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہورہی ترقی کی جانکاری ملتی رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ آج کی ڈیٹا پر مبنی دنیا کے لئے یہ انتہائی ضروری ہے۔

جناب نائیڈو حال ہی میں 8 ریاستوں کے 14 انجینئرنگ کالجوں کے ذریعے اپنے کورسیز مقامی زبانوں میں دستیاب کرانے کے قدم کی ستائش کی۔ انھوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کی سطح پر اور زیادہ کورسیز کو بھارتی زبانوں میں دستیاب کرایا جانا چاہئے ۔ انھوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے بھارتی زبانوں کے لئے بھی امکانات بڑھیں گے، کیونکہ انگریزی میں دستیاب نصابی مواد کا بھارتی زبانوں میں ترجمہ دستیاب ہوسکے گا۔

اس موقع پر جناب نائیڈو نے آئی آئی ٹی جودھپور کے کیمپس میں جودھپو سٹی نالیج اینڈ اینوویشن کلسٹر (جے سی کے آئی سی) کا سنگ بنیاد رکھا۔ انھوں نے کہا کہ 2015 میں گلوبل اینوویشن انڈیکس میں بھارت کا مقام 81واں تھا جو اب 2021 میں بڑھ کر 46واں ہوگیا ہے۔  انھوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لئے اختراعات کو ملک کا منتر بنادیا جانا چاہئے۔

انھوں نے کہا کہ باہمی تعاون سے مختلف تعلیمی اداروں کی صلاحیتوں کو اکٹھا اور منظم کیا جاسکتا ہے، جس سے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ آبی بندوبست اور بارش کے پانی کے تحفظ میں امداد باہمی اور تعاون کے ذریعے راجستھان کے آبی مسئلے سے نمٹا جاسکتا ہے۔

جے سی کے آئی سی کلسٹر کی ستائش کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو اختراعات کا مرکز بننا چاہئے۔ انھوں نے آئی آئی ٹی جیسے باوقار اداروں سے درخواست کی کہ وہ اپنے تجربات اور بہترین طور طریقوں کو دیگر تعلیمی اداروں کے ساتھ مشترک کریں۔ انھوں نے کہا کہ اختراعات اور تعاون کو اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ڈی این اے میں رچا بسا ہونا چاہئے۔

نئی تعلیمی پالیسی 2020 کو دور اندیشانہ پالیسی قرار دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ اس میں کثیر موضوعاتی تعلیم، تعلیم کے معاملے میں تعاون اور اختراعات کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق ہی یونیورسٹیاں اپنے نصاب میں زیادہ لچیلاپن  لائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ طلباء کو اپنے آخری سال میں اپنی دلچسپی کے مختلف موضوعات میں پروجیکٹ اور انٹرن شپ منتخب کرنے اور دیگر موضوعات سے طلباء کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ اس سے طلباء کے علمی افق کی توسیع ہوگی اور وہ کسی بھی مسئلے پر گہرائی سے غور کرسکیں گے۔ نائب صدر نے آئی آئی ٹی جودھپور اور دیگر تعلیمی اداروں کی کوششوں کی ستائش کی۔ انھوں نے تعلیمی اداروں، سرکاری اداروں اور نجی اداروں کے درمیان تعاون کے لئے ایسے مزید اختراعاتی کلسٹر قائم کرنے کی وکالت کی، تاکہ وہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے مستفید ہوسکیں۔

طلباء کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے نائب صدر نے نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق تحقیق و ترقی کے شعبے میں اختراعاتی نقطہ نظر کو فروغ دینے کی تلقین کی۔ انھوں نے طلباء سے سماجی خدمات سے جڑنے اور ممکن حد تک قوم کی تعمیر کے کام میں تعاون دینے کی درخواست کی۔ وبا کے دوران تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے صحت بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور نوجوانوں سے صحت مند و سرگرم طرز زندگی کو اپنانے کا مشورہ دیا۔

ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں نائب صدر نے زیادہ سے زیادہ طلباء کو سیاست میں آنے کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا کہ آئیڈیالسٹ، توانائی اور صلاحیت سے بھرپور اور کردار کی خامیوں سے مبرا نوجوان بھارتی سیاست میں معیاری تبدیلی لاسکتے ہیں۔ سیاست کے گرتے معیار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نائب صدر نے لوگوں سے اپنا نمائندہ منتخب کرتے وقت اس کی صلاحیتوں ، اخلاق، کردار اور توانائی پر غور کرنے کو کہا۔

آئی آئی ٹی جودھپور کے اپنے دورے پر نائب صدر مقامی فنکاروں اور کاریگروں سے بھی ملے۔ روایتی کرافٹس میں راجستھانی کاریگروں کی ہنرمندی کی انھوں نے ستائش کی۔ انھوں نے کاریگروں کے سامان کی فروخت کے لئے بہتر حالات کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت بتائی۔ آئی آئی ٹی جودھپور کے خوبصورت آرکیٹیکچر کی ستائش کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ آئی آئی ٹی جیسے اداروں کو نئے آرکیٹیکچرل آئیڈیاز کے ساتھ سامنے آنا چاہئے، جس میں  انسانی سہولت اور روایتی خوبصورتی کا امتزاج ہو۔

اس موقع پر راجستھان کے گورنر جناب کلراج مشر، راجستھان کے توانائی، عوامی صحت و انجینئرنگ کے وزیر ڈاکٹر بی ڈی کلا، راجیہ سبھا کے رکن جناب راجیندر گہلوت، آئی آئی ٹی جودھپور کے ڈائریکٹر پروفیسر شانتانو چودھری، ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر سمپت راج وڈیرا، سکریٹری ممبران، طلباء اور دیگر معززین موجود تھے۔

 

******

ش ح۔ م م۔ م ر

U-NO.9483



(Release ID: 1759127) Visitor Counter : 92