بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جناب آر کے سنگھ نے الگ الگ خطوں میں ملک کی مختلف ریاستوں کے وزرائے توانائی کے ساتھ ورچووَل میٹنگوں کا اہتمام کیا؛ نیٹ ورک کو مضبوط کرنے، تجدیدکاری، مالی طور پر منفعت بخش ہونے ، اور افزوں صارف خدمات اور سہولت کے لئے بہتری سے وابستہ نئی اصلاحات سے مربوط تقسیم کاری شعبہ اسکیم کے بارے میں تبادلہ خیالات کیے

ڈسکامز/ریاستوں کو ضرورت کے تجزیے کی بنیاد پر خود کی ڈی پی آر تیار کرے کا حق: بجلی کے وزیر

جناب سنگھ نے وزراء سے اپنی ریاستوں کو زرعی فیڈروں کے سولرائزیشن کے لئے پی ایم۔ کسم اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لئے حوصلہ افزائی کرنے کی اپیل کی

بجلی کے وزیر نے اس بات کو اجاگر کیا کہ اسکیم کے لئے سرمایہ فراہمی ڈسکامز میں آپریشنل اور مالی بہتری سے مربوط ہوگی

Posted On: 23 SEP 2021 6:56PM by PIB Delhi

نئی اور قابل احیاء توانائی کے مرکزی وزیر جناب آر کے سنگھ نے آج مؤرخہ 21 ستمبر 2021 کو چار الگ الگ سیشنوں  میں ویڈیو کانفرنس کے توسط سے مختلف ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے توانائی/ بجلی کے وزراء/مشیر حضرات کے ساتھ علاقائی سطح کی میٹنگوں کا سلسلہ شروع کیا اور ان سے تقسیم کاری شعبہ اسکیم سے وابستہ نئی اصلاحات پر تبادلہ خیالات کیے۔

جناب سنگھ نے وزراء کو واضح طور سے بتایا کہ بجلی کے بڑھتے مطالبات کےباعث تقسیم کاری ڈھانچے کو مضبوط اور جدید شکل دینا ضروری ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اس اسکیم کو باٹم اپ اسکیم کے طور پر تیار کیا گیا ہے اور تقسیم کاری کمپنیوں (ڈسکامز)/ریاستوں کو نقصان کم کرنے کے کاموں کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی ضررت کے تجزیے کی بنیاد پر اپنی ڈی پی آر تیار کرنے کا حق ہے۔ انہوں نےبتایا کہ اس اسکیم کے تحت تقسیم کاری کمپنیوں کے ذریعہ نظام میں بہتری لانے، ذیلی مراکز کی تزئین و آرائش اور تجدید کاری وغیرہ جیسے کام بھی کیے جا سکتے ہیں۔

ریاستوں کے توانائی وزراء نے بجلی کے شعبے کو مضبوط کرنے کے لئے مرکزی حکومت کے ذریعہ کی جا رہی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ طے شدہ مدت کے مطابق اسکیم تیار کر رہے ہیں۔ محترم مرکزی وزیر نے صلاح دی کہ ان کے اسکیم نظام کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے ہونی چاہئے اور اس اسکیم کے بڑھتے مطالبات کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم میں اس بات کو ذہن میں رکھا جانا چاہئے کہ آنے والے 10 برسوں میں کتنے مطالبات ہوں گے اور اس کے مطابق ہی انہیں پورا کرنے کے لئے نظام تیارکریں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس نظام کو جدید شکل دینے کی ضرورت ہے۔ مرکزی وزیرتوانائی نے یہ بھی  کہا کہ وہ اور ان کے افسران ریاستوں کے توانائی کے وزراء اور افسران سے بھی ملاقات کریں گے اور ساتھ بیٹھ کر ان کی اسکیم تیار کروائیں گے۔

جناب سنگھ نے اس بات کو اجاگر کیا کہ اسکیم کے تحت تقسیم کار کمپنیوں کے آپریشنل اور مالی بہترین میں پیش رفت کی بنیاد پر سرمایہ جاری کیا جائے گا۔انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکام) کے ذریعہ نقصان میں تخفیف لانا کوئی مشکل کام نہیں ہے اور خسارے کو کم کرنے کے لئے، انہیں (i) بل تیار کرنے کی مؤثریت میں بہتری (ii) جمع کرنے کی مؤثریت میں اضافہ(iii) سرکاری محکموں کے ذریعہ بجلی کی کھپت کے لئے وقت پر ادائیگی کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت، کے ساتھ ہی (iv)سپلائی کی حقیقی لاگت اور اگر ریاستی حکومتیں کم شرحوں پر بجلی دینا چاہتی ہیں تو سبسڈی کی وقت پر ادائیگی کرنےکے لئے شرح (ٹیرف) کا تعین کرنا ہے۔

وزیر موصوف نے اسکیم کے تحت ایک دیگر اہم عنصر پربھی روشنی ڈالی، جس میں تمام سرکاری محکموں اور دفاتر، امرت شہروں، مرکز کے زیر انتظام تمام علاقوں، زیادہ نقصان والے علاقوں، زرعی صارفین کے علاوہ تجارتی و صنعتی صارفین کو ٹوٹیکس موڈ میں 10 کروڑ اسمارٹ میٹر دینے کی ترجیح کا تصور پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت وافر سرمایہ موجود ہے اور اسکیم اور اس کےنفاذ میں ایمانداری کے ساتھ ملک کےشہریوں کی آرزؤوں کو پورا کرنے کے لئے کام کاج کے لحاظ سے اہل اور مالی اعتبار سے پائیدار بجلی تقسیم کاری شعبے کو ترقی دی جا سکتی ہے۔

جناب آر کے سنگھ نے وزراء سے اپنی اپنی ریاستوں کو زرعی فیڈروں کے سولرائزیشن کرنے کے لئے پی ایم ۔کسم اسکیم سے مستفید ہونے کے لئے حوصلہ افزائی کی نصیحت کی۔ زرعی فیڈروں کے سولرائزیشن سے کسانوں کو پہلے دن سے ہی مفت یا بہت کم قیمت پر بجلی فراہم کرائی جا سکتی ہے۔ اس سے ریاستوں کو زرعی شعبے میں بجلی کی کھپت کے لئے ان کے ذریعہ ادائیگی کی جا رہی سبسڈی کی بڑی رقم کی بھی کفایت ہوگی۔ اس کے علاوہ، چھت پر شمسی پینل کی بھی ماحولیات کے مواقف طریقوں کے بڑھتے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔

میٹنگ میں بجلی کے وزیر مملکت جناب کرشن پال گرجر، بجلی کی وزارت کے سکریٹری اور پی ایف سی اور آر ای سی لمیٹڈ کے چیف منیجنگ ڈائرکٹر حضرات بھی موجود تھے۔

303758 کروڑ روپئے  کی لاگت اور 97631 کروڑ روپئے کے بقدر مرکزی حکومت کے تخمینہ جی بی ایس کے ساتھ اصلاحات پر مبنی نتائج سے مربوط تجدید شدہ  تقسیم کاری شعبہ اسکیم شروع کی گئی ہے۔ نیٹ ورک کی مضبوطی اور تجدیدکاری، مالی طور پر منفعت بخش اور افزوں صارف خدمت اور سہولت اس اسکیم کے اہم پہلو ہیں۔

 

*****

 

ش ح ۔اب ن۔ م ف

U:9329



(Release ID: 1757536) Visitor Counter : 70


Read this release in: English , Hindi , Bengali , Punjabi