ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

صرف ’صفر اخراج‘ کے ہدف تک پہنچنا کافی نہیں ہے؛ آب وہوا میں تبدیلی سے نمٹنے کے لئے محض لفظوں کی نہیں ،بلکہ اس سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے: جناب بھوپندر یادو

بھارتی کمپنیوں سے بھارت اور سویڈن کی قیادت میں ایک عالمی پہل - ’’صنعتی تبدیلی کے لئے لیڈرشپ گروپ‘‘ میں شامل ہونے پر زور دیا

Posted On: 14 SEP 2021 6:39PM by PIB Delhi

نئی دہلی:14؍ستمبر2021:

ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا میں تبدیلی کے وزیر جناب بھوپندر یادو نے آج کہا کہ آب و ہوا میں تبدیلی سے نمٹنے کے لئے ’ عمل کرنا ‘ ہی وقت کی ضرورت ہے، نہ کہ ’محض الفاظ ‘ اور صرف ’صفر اخراج‘ تک پہنچنا کافی نہیں ہے۔ جناب یادو نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں شائع ہوئی ، آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق بین سرکاری پینل (آئی پی سی سی ) کی رپورٹ ترقی یافتہ ملکوں کے لئے فوراً کاربن اخراج میں بہت زیادہ تخفیف کرنے اور ان کی  معیشتوں کو ڈی کاربونائزڈ  کرنے کا ایک واضح اعلان ہے۔

 

 

ماحولیات کے مرکزی وزیر آج فکی کے ذریعہ ’’شراکت داری کا مستقبل ‘‘ موضوع کے تحت منعقد ایل ای اے ڈی ایس (قیادت، ایکسیلینس، ایڈاپٹبلیٹی ،تنوع  اور پائیداری) پروگرام میں اظہار خیال کررہے تھے۔ انہوں نے  آب وہوا  کے ساتھ انصاف اور پائیدار طرز زندگی کے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی ، جنہیں وزیراعظم جناب نریندر مودی نے ترجیح دی ہے۔

جناب یادو نے پروگرام کے دوران گزشتہ کچھ برسوں میں بھارت کے ذریعہ قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے کے لئے قومی اور عالمی سطح پر کی گئی پہل کے بارے میں بتایا کہ ملک کی قابل تجدید توانائی صلاحیت اس وقت دنیا میں چوتھی سب سے بڑی ہے۔

بھارت کے آرزومندانہ اہداف اور مستقبل کی پہل پر ماحولیات کے مرکزی وزیر نے گرین انرجی کے ذرائع ، خا ص  طور سے قابل تجدید توانائی سے حاصل  ہونے والی صاف ستھری توانائی کی اہم اور انتہائی ضروری رول پر زور دیتے ہوئے کہا ، ’’ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے ہماری قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو 450 گیگاواٹ  تک بڑھانے کے آرزومندانہ ہدف کا اعلان کیا ہے اور بھارت نے ہائیڈروجن پیدا کرنے کے لئے ہائیڈروجن انرجی مشن 22-2021 کا بھی اعلان کیا ہے۔ ‘‘

ماحولیات کے مرکزی وزیر نے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں توانائی میں تبدیلی الگ طرح کی ہوگی اور بھارت کے پاس توانائی حاصل کرنے کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اسی طرح کا سفر شروع کرنے والے دیگر ملکوں کے ساتھ اپنے تجربہ کے سلسلے میں پیشکش اور اشتراک کرنے کے لئے بہت کچھ ہے، ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے ساتھ بڑھتی ہوئی توانائی کی مانگ کے مسئلے کا حل بھی تلاش کرنا ہے۔

بھارت اور یوروپی ملکوں کے درمیان گرین پارٹنر شپ کی فہرست سازی کرتے ہوئے ، جناب بھوپندر یادو نے کہا کہ بھارت اور یوروپ اہم اقتصادی شراکت دار بنے ہوئے ہیں جو آنے والے برسوں میں اپنے تعاون کو بڑھانے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ جناب یادو نے اعتماد ظاہر کیا کہ بھارت اور یوروپ ابھرتی ٹکاؤ ٹکنالوجیز، جیسے بیٹری اسٹوریج، گرین ہائیڈروجن ، آف شور ونڈ انرجی انسٹالیشن چیلنجز یا کمیشننگ ، سولرفوٹوولٹک، سولر تھرمل، توانائی/ بایو انرجی ، ونڈ اینرجی، ہائیڈروجن  اور ایندھن سیل،انرجی اسٹوریج ، ٹائیڈل انرجی، جیوتھرمل انرجی وغیرہ بہت سے شعبوں میں اپنی شراکت داری کو آگے بڑھائیں گے۔

ماحولیات کے مرکزی وزیر نے کہا کہ بہرحال ، ترقی یافتہ ملکوں کو ، گرین ٹکنالوجیز کی مصنوعات کے لئے لیڈ بازار فراہم کرنا چاہئے اور لاگت کو کم کرنا چاہئے، تاکہ ان کا ترقی پذیر معیشتوں میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاسکے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001CL3Y.jpg

بھارت  نے یوروپی ملکوں سے توانائی کے شعبے میں جرمنی، برطانیہ اور ڈنمارک کے ساتھ دوطرفہ شراکت داری کی ہے ۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں ٹکاؤ اور گرین ٹکنالوجیز کے شعبے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔

کم کاربن اخراج والی ٹکاؤ معیشتوں کی تعمیر میں پرائیویٹ سیکٹر کے رول کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، جناب یادو نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں کو کم کارکن اخراج کی طرف منتقلی کے لئے رضاکارانہ طور پر کارروائی کے منصوبے کو فروغ دینے کے لئے حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ جناب یادو نے خاص طور پر مشکل سیکٹر جیسے کہ اسٹیل، سیمنٹ ، شپنگ، وغیرہ شعبے کی بھارتی کمپنیوں سے بھارت اور سویڈن کی قیادت میں ایک عالمی پہل ’’ صنعتی تبدیلی کے لئے لیڈرشپ  گروپ‘ میں شامل ہونے کی  درخواست کی ۔

 

 

************

 

 

ش ح۔ف ا ۔ م  ص

(U: 8997(



(Release ID: 1754938) Visitor Counter : 29


Read this release in: English , Hindi , Punjabi