ایٹمی توانائی کا محکمہ
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ سال 2020-21 میں ملک میں بجلی کی کل پیداوار میں جوہری توانائی کا حصہ تقریبا3.1 فیصد ہے
انکا کہنا ہے کہ ایٹمی توانائی کی گنجائش موجودہ 6780 میگاواٹ سے بڑھ کر سال 2031 تک 22480 میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 AUG 2021 4:32PM by PIB Delhi
نئی دہلی،4 اگست 2021: سائنس اور ٹیکنالوجی کےمرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، اراضی سائنسز کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، پی ایم او ، پرسنل ، عوامی شکایات ، پنشن ، جوہری توانائی اور خلائی کے محکمے کے وزیر مملکت، ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ 2020-21 میں ملک میں بجلی کی کل پیداوار میں جوہری توانائی کا حصہتقریبا 3.1 فیصد ہے۔ آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجلی کی پیداوار میں ایٹمی توانائی کا حصہ بڑھانے کے لیے ایک بڑی ایٹمی توانائی کی صلاحیت کے اضافے کا پروگرام شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے لئے مزید ایٹمی بجلی گھروں کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے اور توقع ہے کہ جوہری توانائی کی صلاحیت موجودہ 6780 میگاواٹ سے بڑھ کر2031 تک 22480 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔
اس وقت 22 ایسے فعال ری ایکٹر ہیں جن کی کل گنجائش 6780 میگاواٹ ہے اور ایک ری ایکٹر ، کے اے پی پی-3 (700 میگاواٹ) کو10 جنوری 2021 کو گرڈ سے منسلک کیا گیا ہے۔ 8000 میگا واٹ کی صلاحیت والے (بھارتیہ نبھکیا ودیوت نگم لمیٹڈ {بھاوینی} کے ذریعہ نافذ کئے جا رہے500 میگاواٹ کے پی ایف بی آر، ری ایکٹر سمیت) دس (10) ری ایکٹرزیر تعمیر ہے۔ مزید برآں ، حکومت نے 700 میگاواٹ کے دس (10) دیسی پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹرز (پی ایچ ڈبلیو آر) کی انتظامی منظوری اور مالی منظوری دے دی ہے تاکہ ہر ایک کو فلیٹ(Fleet) موڈ میں قائم کیا جاسکے۔
*****
U.No.7466
(ش ح - اع - ر ا)
(ریلیز آئی ڈی: 1742575)
وزیٹر کاؤنٹر : 176