جل شکتی وزارت

دریاؤں کے تحفظ پر توجہ

Posted On: 29 JUL 2021 5:38PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،29؍ جولائی  :  ملک میں دو طرح کے دریا ہوتے ہیں، جیسے  پیرینئل اور  غیر پیرینئل دریا۔ پیرینئل وہ  دریا ہوتے ہیں، جن میں سال بھر  پانی  موجود رہتا ہے۔ غیر پیرینئل  دریاؤں میں  بارش میں  پانی  ہوتا ہے، جن میں  صرف  مانسون کے دوران  پانی کا ہوتا ہے۔ ملک کے  دریاؤں میں  آلودگی  خاص  طور پر  شہروں  ؍ قصبوں سے آلودہ اور جزوی طور پر  آلودہ پانی  اور  صنعتوں  سے  بہنے والے  گندے پانی  کے  آبی ذخائر میں  ملنے، گندی نالیوں ؍  گندے پانی کو صاف کرنے کے پلانٹس کے آپریشن اور  رکھ رکھاؤ  میں مسائل ،  آمیزش کی کمی  اور  آلودگی کے دیگر  نان  پوائنٹ ذرائع کی  وجہ سے ہو تی ہے۔ تیزی سے  شہر کاری  اور  صنعت کاری کی وجہ سے  اس مسئلے میں  مزید اضافہ ہوا ہے۔

 دریاؤں  کی صفائی  ؍  احیاء  ایک جاری عمل ہے۔ یہ  ریاستوں ؍  مرکز کے زیر انتظام علاقوں  اور  مقامی  بلدیاتی اداروں  کی ذمہ داری ہے کہ  وہ  نالیوں  کے گندے پانی  اور  صنعتوں سے نکلنے والے  پانی  کی  مقررہ  ضابطوں  کے تحت  صفائی  کو یقینی بنائیں، اس کے بعد ہی  اس پانی کو  ندیوں  اور  دیگر آبی ذخائر،  ساحلی  پانی اور  زمین  میں  جانے دیں،  تاکہ  ان میں  آلودگی  کو کنٹرول کیا جاسکے۔ ندیوں کے تحفظ کے لئے  اس وزارت نے  ریاستوں ؍ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی  کوششوں  میں اضافہ کیا ہے اور  ملک  میں  ندیوں  کے نشان زد  علاقوں میں  آلودگی  کو کم کرنے کے لئے  مالی  اور تکنیکی  امداد فراہم کی ہے۔ یہ کام  گنگا  کے طاس میں  ندیوں کے لئے  سینٹرل سیکٹر  کی اسکیم نمامی گنگے ،  اور  دیگر ندیوں کے لئے  نیشنل ریور  کنزرویشن پلان (این آر سی پی)  کی  مرکز کی حمایت یافتہ اسکیم  کے تحت کیا گیا ہے۔ مزید برآں مہا تما گاندھی  قومی دہی روز گار  گارنٹی اسکیم  (ایم جی این آر ای جی ایس) کے تحت  چھوٹی  ندیوں  کے مؤثر احیاء  کے لئے  ترجیح دی گئی ہے۔

این آر سی پی کے تحت  غور  کرنے کے لئے  آلودہ ندیوں  کے کنارے  آباد  قصبوں میں آلودگی  میں کمی  کے کام کے لئے  وقتا فوقتا  ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے  تجاویز  موصول ہوتی ہیں اور  ان کی ترجیحات  ، این آر سی  پی  کے رہنما اصولوں کے ساتھ ہم آہنگی ،  منصوبے کے فنڈ  کی دستیابی وغیرہ  کی بنیاد پر  منظوری دی جاتی ہے۔

ملک میں  این آر سی پی کے تحت16 ریاستوں کے 77  قصبوں میں  34  ندیوں کے آلودگی والے علاقوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کے لئے  5965.90  کروڑ روپے کے پروجیکٹ  کی منظوری دی گئی، جس میں  2522.03  ایم ایل ڈی  کی  صلاحیت  کا ایک  گندے پانی کو صاف کرنے کا پلانٹ شامل ہے۔ نمامی  گنگے پروگرام کے تحت 4948 ایم ایل ڈی  کے گندے پانی کی صفائی اور   5213 کلو میٹر  کے سیور نیٹ ورک کے لئے  158 پروجیکٹوں سمیت  346  پروجیکٹوں کے لئے  30235 کروڑ روپے  منظور کئے گئے۔

اس کے علاوہ ،  اٹل مشن فور ریجووینیشن اینڈ اربن ٹرانسفارمیشن (اے ایم آر یو ٹی)  اور  ہاؤسنگ اور شہری  امور کی وزارت کے اسمارٹ سٹیز مشن جیسے  پروگراموں کے تحت  سیوریج  انفرا سٹرکچر قائم کیا گیا ہے۔

ماحولیات سے متعلق (تحفظ) قانون – 1986اور  واٹر  (آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول) سے  متعلق قانون – 1974 کے  ضابطوں کے مطابق  صنعتی  اکائیوں کو  گندے پانی کو صاف کرنے کے لئے  پلانٹس (ای ٹی پیز)  لگانے ہوں گے اور  اس پانی کو  ندیوں  اور آبی ذخائر میں چھوڑنے سے پہلے ماحولیات سے متعلق مقررہ معیار پر  عمل  کرنے کے لئے گندے پانی کو صاف کرنا ہوگا۔ اسی کے مطابق  سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی)،  ریاستی  پولوشن کنٹرول بورڈ ( ایس پی سی بیز) اور  پولوشن کنٹرول کمیٹیز ( پی سی سیز) گندے پانی  کی نکاسی  کے معیار  کے مطابق  صنعتوں کی نگرانی  کرتی ہیں اور ان  قوانین کے ضابطوں کے تحت عمل نہ کرنے پر  کارروائی کرتی ہیں۔

 اس کے علاوہ  ملک میں ندیوں  کے آلودگی والے علاقوں کے احیاء سے متعلق  اوریجنل ایپلی کیشن نمبر  673/2018   میں  نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے احکامات  پر عمل در آمد  کے لئے  ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو سی پی سی  بی کے ذریعے شناخت کئے گئے اپنے  دائرہ اختیار  والے  آلودہ علاقوں کی بحالی کے لئے  منظور کئے گئے کارروائی کے منصوبوں کو نافذ کرنا ہو گا اور  مقررہ  وقت کے اندر  2018  کی اپنی  رپورٹ میں شائع کرنا ہوگا۔ این جی ٹی کے آرڈر کے مطابق  ریاستوں ؍ مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور  مرکزی سطح پر بھی  کارروائی  کے منصوبوں کے نفاذ کا  مسلسل  جائزہ  لیا جاتا ہے۔

یہ معلومات  آج لوک سبھا میں جل شکتی  اور  ڈبہ بند خوراک کی صنعتوں کے  وزیر مملکت جناب پرہلاد سنگھ پٹیل نے  ایک تحریری جواب میں دیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح- ف ا- ق ر)

U-7219



(Release ID: 1740629) Visitor Counter : 445


Read this release in: English , Punjabi , Tamil