نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

روحانیت کووڈ سے پیدا شدہ تناؤ میں راحت دے سکتی ہے: نائب صدر

عوامی صحت کے موضوع کے طور پر دماغی صحت کو ترجیح دیں: نائب صدر

نائب صدر جمہوریہ نے نوجوانوں سے قدیم یادگاروں کا دورہ کرنے کی درخواست کی تاکہ وہ بھارت کے کے عظیم ماضی کے بارے میں جان سکیں

’کمبوڈیا اور ویتنام کے منادر خوش حال وراثت اور بھارتی تہذیب کے پھیلاؤ کا دیدار کراتے ہیں‘

منادر بھارت میں سماجی زندگی کا لازمی جزو رہے ہیں، یہ فن و تعلیم کے اہم مراکز ہوا کرتے تھے: جناب نائیڈو

نائب صدر نے کمبوڈیا اور ویتنام میں مندروں کے بارے میں دو کتابوں کا اجرا کیا

Posted On: 26 JUL 2021 7:15PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،  26/جولائی2021 ۔ نائب صدر جمہوریہ جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج کووڈ کی وبا کے تناظر میں عوامی صحت کے ایک موضوع کے طور پر دماغی صحت کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ کہتے ہوئے کہ تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی سست طرز زندگی سے لوگوں کے درمیان تناؤ اور بے چینی پیدا ہوسکتی ہے، انھوں نے مشورہ دیا کہ زندگی کے تعلق سے روحانی نقطہ نظر تناؤ سے راحت دے سکتا ہے۔ انھوں نے مذہبی لیڈروں سے درخواست کی کہ وہ روحانیت اور خدمت کے پیغام کو نوجوانوں اور عوام تک پہنچائیں۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بھارتی طرز زندگی پوری دنیا کو ایک کنبہ تصور کرتا ہے، جناب نائیڈو کا ملک کے نوجوانوں سے یہ مطالبہ تھا کہ وہ بھارت کے قدیم عقائد اور نظریات کی حمایت کریں۔ انھوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ہمارے فن، آرکیٹکچر  اور ثقافت سے متعلق یادگاروں کا دورہ کریں اور ہمارے ماضی کی شاندار علامتوں سے تحریک حاصل کریں۔

کمبوڈیا اور ویتنام میں قدیم ہندو مندروں پر آندھراپردیش کے سابق رکن اسمبلی جناب این پی وینکٹیشور چودری کے ذریعے تیلگو زبان میں لکھی گئی دو کتابوں کا ورچول طریقے سے اجرا کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہا کہ ان مندروں کا آرٹ اور آرکیٹکچر قدیم بھارتی ثقافت و روایات کا مشاہدہ کراتا ہے۔ ’کمبوڈیا -  ہندو دیوالیہ پنیہ بھومی‘ اور ’نیتی ویتنام – ناتی ہینڈوا سمسکریتھی‘ نامی کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے جناب نائیڈو نے کمبوڈیا میں انگکور واٹ مندر کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا کہ ہر شخص بالخصوص نوجوانوں کو ایسے مندروں کا درشن کرنے اور بھارت کے عظیم ماضی کے بارے میں جاننے کی کوشش کرنی چاہئے۔

نائب صدر جمہوریہ نے یہ بھی کہا کہ کیسے بھارت میں مندروں نے ہماری تاریخ کے ہر دور میں تعلیم، فن، ثقافت اور مذہب کے معاملے میں مرکزی رول ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کی سماجی زندگی کا ایک لازمی جزو ہونے کے ناطے مندروں کا سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں اہم رول تھا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کیسے مندر موسیقی، رقص، ڈرامہ اور بت سازی کے اہم مراکز کے طور پر پھلے پھولے۔ جناب نائیڈو نے کہا کہ سوراج تحریک کے دوران بھی مندروں کا اہم رول تھا۔

اس موقع پر جناب نائیڈو نے کانچی کاماکوٹی پیٹھم کے آنجہانی سابق پجاری سوامی جیندر سرسوتی کو ان کے یوم پیدائش پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا اور صحت و تعلیم کے شعبے میں ان کی سماجی بہبود سے متعلق سرگرمیوں کو یاد کیا۔ نائب صدر جمہوریہ نے ان کتابوں کی تصنیف اور کمبوڈیا و ویتنام کے مندروں کی عمدہ طریقے سے تفصیلات پیش کرنے کے لئے مصنف کی کوششوں کی ستائش کی ۔

تمل ناڈو کے گورنر جناب بنواری لال پروہت، کانچی کاماکوٹی پیٹادھیپتی جناب وجیندرا سرسوتی، جناب این پی وینکٹیشور چودری اور دیگر ورچول تقریب کے دوران موجود تھے۔

 

******

ش ح۔ م م۔ م ر

U-NO.7047



(Release ID: 1739315) Visitor Counter : 34