وزارت خزانہ

بینک کھاتوں کوصاف ستھرا  بنانے سے متعلق  ایک قدم کے طور پر پھنسے ہوئے قرضوں  کے لئے بیڈ بینک کاآغاز

Posted On: 19 JUL 2021 7:04PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی20 جولائی2021: حکومت نے تمام  انضباطی  منظوریاں  حاصل کرنے کے بعد ایک بیڈ بینک کاآغاز کیا ہے۔ خزانہ کے وزیر مملکت ڈاکٹر بھگوت کسان راؤ کراڈ نے آج لوک سبھا میں  ایک تحریری جواب میں یہ بات بتائی ۔

 وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن  نے مالی سال 22-2021 کے لئے بحث پیش کرتے ہوئے اپنی تقریر میں درج ذیل اعلان  کیا تھا۔

’’سرکاری ملکیت بینکوں  کے پھنسے ہوئے قرضوں کے لئے ، بینکوں  کے ذریعہ  اعلیٰ سطح کے بندوبست ، بینک کے کھاتوں کو صاف کرنے سے متعلق اقدامات کے متقاضی  ہیں۔ اثاثوں کی تنظیم نو  سے متعلق  ایک کمپنی اور اثاثوں کے بندوبست سے متعلق   ایک کمپنی قائم کی جائے گی تاکہ موجودہ   پھنسے ہوئے قرضوں  کا یکجا کیا جاسکے اور انہیں اپنے قبضے  میں لیاجاسکے  اور پھر ان قرضوں کا بندوبست کرکے انہیں متبادل سرمایہ کاری فنڈس اوردیگر امکانی سرمایہ کارو ں کو فروخت کردیا جائے ، جس سے کہ بالآخر  ان قرضوں  کی قدر کو نقدرقم میں تبدیل کیاجاسکے۔

وزیرموصوف نے کہا کہ بھارتی بینکوں  کی ایسوسی ایشن  (آئی بی اے ) نے  قرضوں  کی تنظیم نو  سے متعلق قومی  کمپنی ، نیشنل ایسیٹ ری کنسٹرکشن کمپنی  لمٹیڈ (این اے آر سی ایل ) کوشامل کرنے کے حوالے سے واقف کرایا ہے اور یہ کہ این اے آر سی ایل  کو 7.7.2021 کورجسٹرار آف کمپنیز  کےساتھ رجسٹر ڈ کرایا گیا ہے۔وزیرموصوف نے بتایا کہ  ریزروبینک آف انڈیا  نے ،قرضوں  کی تنظیم نو سے متعلق کمپنیوں  (اے آرسیز ) کو منضبط  کرنے کے ادارے  کے طو پر  پہلے ہی  اے آر سیز  کے کام کاج کے لئے ایک انضباطی  فریم ورک  تجویز کیا ہے اور بینکوں  اور غیر بینکنگ    مالیاتی   کمپنیوں  کے ذریعہ   اے آر سیز  کو پھنسے ہوئے قرضوں  کے تبادلے کی غرض سے  مناسب ضابطے  وضع کئے گئے ہیں۔ ایک اے آر سی  کے ذریعہ پھنسے  ہوئے قرضوں  کی نشاندہی   ایک جاری رہنے والا عمل ہے۔

*************

ش ح۔ع م ۔رم

U- 6743



(Release ID: 1737130) Visitor Counter : 43


Read this release in: English , Punjabi , Telugu