کامرس اور صنعت کی وزارتہ

ہندوستان نے آم کی برآمدگی کو وسیع کیا ؛ جی آئی سے منظورشدہ فضلی آم بحرین بھیجا گیا

Posted On: 10 JUL 2021 3:10PM by PIB Delhi

نئی دہلی۔ 10  جولائی      ہندوستان نے کووڈ – 19 وبائی امراض کے باعث درپیش نقل و حمل کے چیلنجوں کے باوجود رواں موسم میں نئے ممالک تک  آم کی برآمدات کو وسعت دی ہے۔ ایک اہم پہل جو کہ ملک کے مشرقی خطے سے مشرق وسطی کے ملکوں میں خاص طور پر آم کی بر آمدگی کی صلاحیت کو فروغ دے گا، کے طور پر مغربی بنگال کے مالدہ ضلع سے حاصل شدہ جغرافیائی شناخت (جی آئی) کی تصدیق شدہ فضلی آم کے اقسام کی ایک کھیپ آج بحرین برآمد کی گئی۔ فضلی آم کی کھیپ کو اے پی ڈی کے ذریعہ رجسٹرڈ ڈی ایم انٹر پرائزز، کولکاتہ کے ذریعہ بر آمد اور الجزیرہ گروپ ، بحرین کے ذریعہ در آمد کیا گیا۔

 اے پی ڈی غیر روایتی علاقوں اور ریاستوں سے آم کی برآمد کو فروغ دینے کے لئےمتعدد  اقدامات کا آغاز کر رہا ہے۔ وہ  آم کی برآمدات کو فروغ دینے کے لئے خریداروں اور  فروخت کنندگان کے مابین ورچوئل میٹنگ اور فیسٹول کا انعقاد کرتا رہا ہے۔ یہ بحرین کو بھیجی گئی اس کھیپ  کا سودا ای پی ڈی کے ذریعہ قطر کے دوحہ میں آم سے متعلق اشتہاری پروگرام کے انعقاد کے کچھ دنوں بعد عمل میں آیا۔ اس اشتہاری پروگرام میں مغربی بنگال اور اتر پردیش کی جی آئی آئی تصدیق شدہ آموں سمیت نو اقسام کے آم امپورٹر فیملی فوڈ سینٹر کے اسٹور پر نمائش کے لیے رکھے گئے تھے۔

جن نو اقسام کے آموں کو برآمد کیا گیا ان میں جی آئی سند یافتہ کھیرسپاتی (مالدہ  ، مغربی بنگال) ، لکھن بھوگ (مالدہ  ، مغربی بنگال)، فضلی (مالدہ ، مغربی بنگال) ، دشہری (ملیح آباد ، اترپردیش) اور امرپالی اور چوسا (مالدہ ، مغربی بنگال) اور لنگڑا (نادیہ ، مغربی بنگال)شامل ہیں۔

جون 2021 میں ، بحرین میں ایک ہفتہ تک چلنے والے ہندوستانی آموں کے تشہیری پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ اس میں تین جی آئی سند یافتہ کھیرسپاتی اور لکشمن بھوگ (مغربی بنگال) ، زردالو (بہار) سمیت آموں کے 16 اقسام کی نمائش کی گئی تھی۔

بحرین میں اس گروپ کے 13 اسٹوروں کے ذریعے آموں کے ان اقسام کی فروخت کی گئی۔ ان آموں کو اے پی ڈی میں رجسٹرڈ برآمد کنندگان کے ذریعہ کا بنگال اور بہار کے کسانوں سے حاصل کیا گیا تھا۔

اے پی ڈی آم کی برآمدگی کو فروغ دینے کے لئے خریداروں اور فروخت کنندگان کے مابین ورچوئل میٹنگ اور فیسٹول کا انعقاد کرتا رہا ہے۔ اس نے حال ہی میں جرمنی کے برلن میں "مینگو فیسٹول" کا انعقاد کیا تھا۔

اس سیزن میں پہلی بار ، ہندوستان نے حال ہی میں آندھرا پردیش کے کرشنا اور چتور اضلاع کےکسانوں سے حاصل کیے جانے والے جی آئی سند یافتہ بنگن پلی اور سرورن ریکھا نام کے آم کی ایک دیگر قسم کے 2.5  میٹرک ٹن کی ایک کھیپ  بھیجی ہے۔

ہندوستان میں آم کو "پھلوں کا راجا " بھی  کہا جاتا ہے اور اسے قدیم  شاستروں میں اسے کلپ ورکش (خواہش پوری کرنے والا درخت) بھی کہا جاتا تھا۔ ہندوستان کی بیشتر ریاستوں میں آم  کے باغات ہیں لیکن اس پھل کی کل پیداوار میں اترپردیش ، بہار ، آندھراپردیش ، تلنگانہ ، کرناٹک کرناٹک کا بڑا حصہ ہے۔ الفانسو ، کیسر ، طوطا پوری بنگن پلّی ہندوستان سے برآمدکی جانے والی آم کی خاص  قسمیں ہیں۔ آم کی برآمدات بنیادی طور پر تین شکلوں – تازہ آم ، آم کا گودا اور آم کا ٹکڑا – میں ہوتی ہیں۔   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔ رض  ۔ ج ا  (

 

U-6420



(Release ID: 1734514) Visitor Counter : 578