صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

ڈاکٹر ہرش وردھن کا کو ون عالمی اجلاس سے خطاب


ہندستان کی ‘‘واسودھیو کٹم بکم’’ پوری دنیا ایک خاندان ہے، کی قدیم فلاسفی  پر یقین کا اعادہ

کو ون ہماری ‘‘ڈجیٹل انڈیا پہل’’ کے تاج کا نگینہ ہے ’’

‘‘شفاف نظام سے ہر خوراک کا پتہ چلانے، ویسین مراکز پر سپلائی کی نگرانی اور بنیادی سطح پر مانگ کا ریکارڈ رکھنے اور ویکسین کی دستیابی اور تمام لوگوں کی شمولیت کو ممکن بنایا جا سکا ہے’’

ہم دسمبر 2021 تک اپنی پوری بالغ آبادی کو ویکسین دینے کے لیے پرعزم ہیں 

Posted On: 05 JUL 2021 5:18PM by PIB Delhi

وزیر اعظم  جناب نریندر مودی نے آج عالمی کو ون اجلاس کا ڈیجٹل طریقے سے افتتاح کیا ۔ مرکزی وزیر صحت اور خاندانی بہبود ڈڈاکٹر ہرش وردھن نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کو وِن عالمی اجلاس سے خطاب کیا ۔ اجلاس میں افغانستان ، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، گویانا، اینٹی گوا    اور بربوڈا نیز زامبیا سمیت 142 ملکوں سے اکابرین نے شرکت کی۔

صحت اور خاندانی  بہبود کی وزارت ، وزارت خارجہاور نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (NHA) نے مشترکہ طور پر اس اجلاس کا انجام دیا جس کا مقصد کو وِن پلیٹ فارم کو توسیع دے کر تمام دنیا کی بہبود کاڈجیٹل پلیٹ فارم بنایا جا سکے۔ کو ون کے ذریعے کووڈ 19- عالمی وباء سے باقاعدگی اور منظم طور پر نمٹنے کے لیے ہندستانی صحت عامد کی رہنمائی کی گئی ہے۔ اس سرگرم، تمام لوگوں کی شمولیت والے اور متحرک نظام میں کالابازاری اور بد عنوانی کی کامیابی سے روک تھام ہو سکتی ہے ۔

مرکزی وزیر صحت کی تقریر اس طرح سے : ۔

تاریخی عالمی کو ون اجلاس پر آپ تمام لوگوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے مجھے انتہائی مسرت ہورہی ہے۔ 142 ملکوں کے چار سو شرکاء، 20 سفارتی خانوں اور اقوام متحدہ افسران کی موجودگی میں اس با وقار اجتماع سے خطاب کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے ۔ مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ہمارے ممتاز شرکاء میں دنیا بھر کے مختلف ملکوں کے وزراء صحت افسران اور ماہرین شامل ہیں۔

 

ہندستان نے ہمیشہ قدیم فلاسفی ‘‘وسودھیو کٹم بکم’’ کی پایداری کی ہے جس کا مطلب ہے پوری دنیا ایک خاندان ہے  اور یہ اجلاس اس کی ایک درخشاں نظیر ہے ۔

 

میں کہہ سکتا ہوں کہ میری حکومت  ہمارے اختراعی اور جدید ترین ڈجیٹل پلیٹ فارم ‘‘کو ون’’ کو اپنے عالمی کنبے کے ساتھ شئر کرنے پر انتہائی خوشی محسوس کررہی ہے۔ جو ہندستان میں تیار کیا گیا ہے اور کووڈ 19-کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم کی تیز رفتار پیش نفت کی بنیاد ہے ۔

حال ہی میں ہندستان میں ہم نے ڈجیٹل انڈیا مہم کے چھ برس مکمل کیے ہیں۔ جو ہماری بالبصیرت  وزیراعظم جناب نریندر مودی کی سوچ کا نتیجہ ہے۔ اس مہم کے تحت اس طرح کی بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں جو 103بلین ہندستانیوں کی زندگی میں زبردست کایا پلٹ لائے ہیں۔ بہبودی اسکیموں اور خدامات تک رسائی بہتر ہوئ ہے ۔ ہندستان کی راہ بند کی گئی ہے اور ہر شہری کو ترقی کے مساوی فائدے اور مواقع حاصل ہونے کو یقینی بنایا گیا ہے۔

 

میری ناچیز رائے میں کو ون ہماری ڈجیٹل انڈیا مہم کے تاج کا نگینہ ہے۔ یہ پلیٹ فارم تاریخ میں درج ہونا چاہئے جس نے دنیا کی ایک بڑی آبادی کو بہ آسان ٹیکہ کاری میں مدد کی اور اس کام میں مکمل شفافیت برتی گئی ۔  دنیا بھر میں اس پلیٹ فارم کو جس طرح سراہا  گیا ہے اور ہماری ٹکنا لوجی ، مہارت اور معلومات کو حاصل کرنے کے لیے جس طرح ملکوں نے دلچسبی دکھائی ، اس سے میرا یقین سچ میں تبدیل ہوا ہے۔

اب ڈیڈھ سال سے زیادہ عرصے سے عالمی وباء سے  مقابلہ کرنا دنیا بھر کے ملکوں کا خاص ایجنڈا رہا ہے۔ یہ انتہائی تاریخ کا سب سے زیادہ آزمائشوں بھرا صحت  عامہ کا بحران ہے۔ کووڈ 19-سے کروڑوں لوگ متاثر ہوئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ بڑی تعداد میں لوگوں کی روزی روٹی پر اثر پڑا ہے ۔

عالمی وباء کے کالے بادلوں نے پوری دنیا کو ڈھک لیا لیکن اس خوش آئنہ چیز جو سامنے آئی وہ تھی عالمی ہم آہنگی اور تمام ملکوں کے مابن انتہائی تعاون۔ ہم نے تعاون و اشتراک کی ایسی نظیر پہلے کھبی نہیں دیکھی تھی۔ کووڈ 19-کے سبب لاک ڈاؤن ہوئے اور جسمانی دوری بھی رکھنی پڑی لیکن یہ انسانوں کو ایک دوسرے سے قریب لائی اور تمام انسانوں نے اجتمائی طور پر اس آزائش کا سامنا کیا ۔

عالمی وباء کے دوران ہم نے تیزی سے تبدیل ہوئی عالمی صورتحال پر قیبی نظر رکھی اور اسکے ساتھ ساتھ کووڈ 19- کے بندوبست کے لیے موثر حکمت عملی پر کام کرتے رہے۔ ٹکنالوجی کی مدد سے ہم بڑے پیمانے پر نگرانی میں کامیاب ہو سکے اور ہماری ٹیسٹ، ٹریک اور ٹریٹ حکمت عملی سے ہمیں دنیا بھر میں سب سے کم شرح اموات والے ملکوں میں سے درجہ حاصل ہوا ۔

ہمارے سائنسدانوں نے برق رفتاری  سے کام کرتے ہوئے ریکارڈ وقت میں ہمیں وہ ویکسین مہیا کرا دیں جس کی وجہ سے ہم جنوری کے وسط میں ٹیکہ کاری مہم کا آغاز کرسکے ۔

 

ہماری یہ کامیابی کتنی ہی قابل ذکر کیوں نہ ہو لیکن ہمارے سامنے یہ واحد چیلنج نہیں تھا ۔ 103بلین کی آبادی والے ملک کے طور پر ویکسن کی منصفانہ تقسیم اور آخری مرحلے کی ترسیل کو بھی یقینی بنانا تھا۔

اتنے بڑے پیمانے کا کام سامنے تھا تو ہندستان نے پیشگی طور پر ہی کام کا آغاز کرایا تھا ۔ سرکاری اور نجی دونوں نوعیت کے صحت بنیادی ڈھانچے کو شامل کرنے کی ضرورت تھی ۔ اسکے علاوہ ہمیں ایک ایسے متحرک نظام کی ضرورت تھی جو بدعنوانی اور کالا بازارکو روک سکے ۔

ان چیلنجوں کو دیکھتے ہوئے ڈومین کے ماہرین پر مشتمل با اختیار گروپ تیزی سے تشکیل دیے گئے جو پوری مستعدی اورمہارت کے ساتھ ٹیکہ کاری کا پروگرام لاگو کرے۔

اس مہم کا سب سے اہم حصہ ایک تفصیلی اور جامع پلیٹ فارم تھا جو عام ریاستوں اور مرکزی انتظام والے علاقوں میں ویکسن کی مساوی تقسیم اور متعلقہ اعداد شمار کا بندوبست رکھ سکے۔ٹیکہ کاری کے متفی نتائج کا پتہ لگانے کے نظام سے نہ  صرف اس طرح کے شہریوں کو شفایاب ہونے کے لیے مدد دی جا سکتی ہے بلکہ اس سے پالیسی سازی کے لیے اعداد شمار اکھٹا کرنے میں بھی مدد ملتی ہے ۔

ایجنڈا تیار ہونے کے بعد میری صحت کی وزارت کے ماہرین اور الیٹرونکس اور اطلاعاتی ٹکنالوجی کے ماہرین یکجا ہوئے اور دیگر کئی فریقوں کے ساتھ مل کر آپسی تعاون کے ذریعے کو ون پلیٹ فارم مشترکہ طور پر تشکیل دیا اور اس طرح ہندستان میں کوڈ 19- کی ٹیکہ کاری کے لیے منصوبہ بندی عمل آوری اور نگرانی کے لیے ایک زبردست آئی ٹی نظام قائم کیا ۔

آج مجھے یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ کو ون ہندستان میں ٹیکہ کاری کی مہم میں بنیادی مقام رکھتا ہے جس میں شہریوں کے رجسٹریشن اپائٹمنٹ کا نظام الاوقات، ٹیکہ کاری اور سرٹیفکٹ کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔ شفافیت کی وجہ سے ٹیکہ کاری میں ہر خوراک کی ٹریکنگ، ویکسن مراکز پر ویکسین کی فراہمی اور بنیادی سطح پر مانگ کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے ۔

اس وقت جب ہم یہ بات کر رہے ہیں ہندستان کووڈ 19- ویکسین کی 360 ملین خوراکوں کے قریب پہنچ رہا ہے۔ ہماری ٹیکہ کاری کے آغاز کے چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں ہم نے یہ نشانہ حاصل کر لیا اور ہم نے دسمبر 2021تک اپنی پوری بالغ آبادی کو ویکسین دینے کا پختہ عزم کر رکھا ہے ۔

 

اس عالمی وباء میں اشتراک و تعاون کا جزبہ ہمارے لیے سب سے بڑا سبق ملا۔ موجودہ بحران جیسے صحت عامہ کے مشترکہ معاملے ملے ہیں مشترکہ کارروائی اور مشترکہ وسائل کے ذریعے ہی اس پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔

 

ہر شخص کو ویکسین لگانا عالمی وباء کی روک تھام اور اسکے خاتمے کے لیے سب سے اہم ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کو ویکسین دینے کا عمل تیز تر کیا جائے اسکے لیے ہم کو ون پلیٹ فارم کوٹکنالوجی کے ایک وسیلے کے طور پر یقین کرنے کے لیےپر جوش ہیں۔ یہ پلیٹ فارم دنیا بھر میں عوام کی بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ مجھے امید ہے کہ آپ میں سے تمام ممالک ہماری اس پیشکش سے فائدہ اٹھائیں گے ۔

ہمارا کو ون پلیٹ فارم ڈجیٹل انڈیا کے ہمارے پروگرام کی کامیابی نظیر ہے جس کے تحت ترقی کی رفتار بڑھی ہے اور  جس کی وجہ سے کئی منزل حاصل کی گئی ہیں ۔

مہم نیشنل ڈجیٹل ہیلتھ مشن کے لیے بی سرگرم ہیں جس سے بہت سی خدمات ڈجیٹل طور پر حاصل ہو سکیں گی۔ NDHMمیں تمام ڈاٹا بیس موجود رہے گا جس سے کوئی بھی شہری ضرورت پڑنے پر اپنے ریکارڈ کو آسانی سے نکالے سکے گا ۔

اطلاعاتی ٹکنالوجی اور مواسلاتی ٹکنا لوجیز خاصی طور سے ترقی پزیر ملکوں کے لیے نئے مواقع اور چیلنجوں کے لیے وسیع امکانات رکھتی ہیں۔ ہندوستانی منڈیوں کو کھولنے کے لئے وسیع معاشی اصلاحات کے ساتھ ٹکنالوجیوں کا استعمال کر رہا ہے۔ ڈجیٹل نظام اوراستعمال کو بڑھانے پر ہماری توجہ مرکوز ہے اور ہندستان کو ایک اصل ٹکنالوجی فائٹ میں بدلنے کے امکانات کو ہم نے پہچاننا شروع کر دیا ہے ۔

 

*******

 

ش ح،ع س، ج

U.No. : 6224

 



(Release ID: 1732989) Visitor Counter : 223