سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

اختراعی انداز کی مریض کے لئے ساز گار سیلین غرارے والی آر ٹی- پی سی آر جانچ کا طریقہ – نیری ناگپور کا شکریہ

سیلین غرارے، کوئی پھریری نہیں،آسان ، تیز اور کفایتی
تین گھنٹے میں نتیجہ حاصل کیجئے، دیہی اور قبائلی علاقوں کے لئے موزوں

Posted On: 28 MAY 2021 11:39AM by PIB Delhi

نئی دہلی،28؍مئی  :  کووڈ – 19 وبا جب سے پھیلی ہے، اسی وقت سے  بھارت  اپنے ، جانچ سے متعلق بنیادی ڈھانچے اور صلاحیت میں اضافے کی لگا تار کوششیں کر رہا ہے۔ ناگپور میں قائم  ماحولیاتی انجینئرنگ سے متعلق  تحقیق کے  قومی ادارے  (نیری)  کے سائنس دانوں نے ،  سائنسی وصنعتی  تحقیق کی کونسل کے تحت ، کووڈ  - 19 کے نمونوں کی جانچ کے لئے  سیلین غرارے والا  آر ٹی – پی سی آر طریقہ  ایجاد کرکے  اس سفر میں ایک اور  سنگ میل طے کیا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/1SSO3.jpg

 

ایک ایسا طریقہ جس کے بہت سے فائدے ہیں: آسان، تیز  ، آرام دہ ، کفایتی۔

سیلین غرارے  کے طریقے کے  بہت سے فائدہ ہیں، جو  اس طریقے میں  یکجا کردیئے گئے ہیں۔  یہ آسان ، تیز ، کم لاگت ، مریض کے لئے ساز گار اور  آرام دہ ہے۔ اس  کے فوری نتائج بھی آ جاتے ہیں اور دیہی اور قبائلی علاقوں کے لئے پوری طرح موزوں ہے۔ نیز اس  کے لئے  برائے نام بنیادی ڈھانچہ درکار ہوتا ہے۔ پی آئی بی سے بات کرتے ہوئے  نیری  کے  ، ماحولیاتی وائرولوجی  کے سیل کے  سینئر سائن داں  ڈاکٹر  کرشنا کھیر نار  نے کہا کہ ’’پھریری  سے  نمونہ حاصل کرنے کے طریقہ کے لئے  وقت در کار  ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ  چونکہ یہ ایک  جبری تکنیک ہے، لہذا یہ  مریضوں کے لئے  ذرا بے آرام دہ ہے۔ کئی بار  یہ  پھریری  نمونے  جمع کرنے کے مرکز  کو لے جاتے ہوئے  غائب بھی ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف  سیلین  غرارے والا  آر ٹی – پی سی آر طریقہ فوری نتیجہ دینے والا  آرام دہ  اور مریض کے لئے ساز گار ہے۔ اس کے تحت  نمونہ  فوری طور پر حاصل کیا جاتا ہے اور  نتیجہ  بھی تین گھنٹے کے اندر اندر  بتا دیا جاتا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/27NGE.png

 مریض خود اپنا نمونہ دے سکتا ہے۔

 

ڈاکٹر کھیرنار نے وضاحت کی کہ  یہ طریقہ  غیر جارحانہ اور  اتنا آسان ہے کہ مریض خود اپنا نمونہ  دے سکتا ہے۔ ’’ناسو فیرنجئل اور  اورو فیرنجئل پھریری کے ذریعے نمونہ حاصل کرنے کے لئے تکنیکی ماہر کی ضرورت ہوتی  ہے؛ اس طریقہ میں زیادہ وقت بھی درکار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس  سیلین غرارے  کے  آر ٹی – پی  سی  آر طریقے میں  ایک سادہ قسم کی  نمونہ حاصل کرنے والی  نلی کا استعمال کیا جاتا ہے، جس میں سیلین  محلول ہوتا ہے۔ مریض  اس محلول  کے غرارے کرتا ہے اور پھر  نیہ نمونہ  ٹیوب کے اندر  داخل کر دیتا ہے۔ ٹیوب میں حاصل کئے  گئے اس نمونے کو لیباریٹری  لے جایا جاتا ہے، جہاں اسے  معمول کے درجہ حرارت پر ایک خصوصی  محلول میں  رکھا جاتا ہے۔ یہ محلول  نیری نے تیار کیا ہے۔ جب اس محلول کو  گرم کیا جاتا ہے تو  ایک  آر این اے  سانچہ  تیار ہو جاتا ہے، جسے  ریورس ٹرانسکرپشن پولی میریز چین ری ایکشن (آر ٹی – پی سی آر) کے عمل سے  گزارا جاتا ہے۔ نمونے  کو  حاصل کرنے اور اسے  عمل سے گزارنے  کے  اس محصوص طریقے سے ہم  آر این اے  ایکسٹرکشن کے  مہنگے بنیادی ڈھانچے سے  بچ جاتے ہیں۔ لوگ خود بھی اپنی جانچ کر سکتے ہیں کیونکہ اس طریقے سے  خود  اپنا نمونہ  لیا جاسکتا ہے۔ یہ  طریقہ  ایک ماحول دوست طریقہ بھی  ہے، کیونکہ اس میں ضائع ہونے والی چیزیں برائے نام ہوتی ہیں۔

دیہی اور قبائلی علاقوں میں جانچ کے لئے ایک نعمت

سائنس داں امید کرتے ہیں  کہ جانچ کی اس  اختراعی تکنیک سے  خاص طور پر دیہی اور قبائلی علاقوں کو فائدہ ہوگا ، جہاں  بنیادی ڈھانچے کی ضرورتیں  محدود  ہیں۔ اس غیر تکنیکی طریقے کو  طبی تحقیقی کی بھارتی کونسل آئی سی ایم آر سے  منظوری مل چکی ہے  ۔ نیری نے  جانچ کرنے والی دیگر  لیبس کو  تربیت دینے کے لئے کہا ہے تاکہ  پورے ملک میں  اس طریقے کو  اختیار  کئے جانے میں مدد مل سکے۔

ناکپور میونسپل کارپوریشن نے  اس  طریقہ کو آگے بڑھانے کی  اجازت دے دی ہے، جس کے بعد  نیری  میں   جانچ کے  پروٹوکول کے مطابق  یہ   کام   شروع کردیا  گیاہے۔

پورے ملک میں اس طریقے پر عمل کئے جانے  کی ضرورت ہے

نیری نے  ماحولیاتی وائرلوجی  کے  سیل کے  سائنس دانوں ، محققین  اور  لیب ٹیکنیشئز نے  ودربھ  خطے میں  کووڈ – 19  کے بڑھتے ہوئے انفیکشن کے دوران  مریض کے لئے ساز گار  اس  تکنیک کو فروغ دینے  کی زبردست کوششیں کی ہیں۔ ڈاکٹر کھیر نار  اور ان کی ٹیم کو امید ہے کہ  اس طریقے کو  قومی سطح پر اپنایا جائے گا، جو  تیز تر ہے  اور  شہریوں کے لئے موزوں تر  جانچ ہے، جس سے  وبا کے خلاف ہماری لڑائی کو استحکام  حاصل ہوگا۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/3B4X2.jpg

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۰۰۰۰۰۰۰۰

(ش ح- ا س- ق ر)

U-4916



(Release ID: 1722441) Visitor Counter : 50