سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

برکس ممالک نے ماہرینِ فلکیات کے درمیان اشتراک کو بڑھانے کی اہمیت کو اجاگر کیا

Posted On: 21 MAY 2021 4:27PM by PIB Delhi

 

نئی دلّی ، 21 مئی / برکس ملکوں کے مندوبین نے  برکس  کی  فلکیات سے متعلق   ورکنگ  گروپ  کی ساتویں  میٹنگ میں برکس ملکوں کے ماہرینِ فلکیات کے درمیان   اشتراک   بڑھانے کی اہمیت  کو اجاگر کیا ۔

         برکس ملکوں کے  سائنس و ٹیکنا لوجی   اور  اختراعات   کے کلینڈر – 2021 کے تحت بھارت  نے  برازیل ، روس    ، بھارت   ، چین اور جنوبی افریقہ  کے  ماہرینِ  فلکیات کے ورکنگ گروپ  ( بی اے ڈبلیو جی ) کی ساتویں میٹنگ کی میزبانی  کی ، جو  19 سے 20 مئی ، 2021 ء کو آن لائن طریقے پر منعقد کی گئی  ۔

         بھارت کی جانب سے پونے کی   انٹر یونیورسٹی  سینٹر برائے علمِ فلکیات اور ایسٹرو فزکس   ( آئی یو سی اے اے ) اور حکومتِ ہند کے سائنس اور ٹیکنا لوجی کے محکمے  ( ڈی ایس ٹی ) نے میٹنگ  کی نظامت کی ۔ اس میں برکس کے پانچوں ملکوں نے شرکت کی  ، جس میں تحقیق کار  ، ماہرینِ تعلیم اور سرکاری عہدیداروں   سمیت 50  سے زیادہ لوگوں  نے شرکت کی ۔

         مندوبین نے  کلیدی اہمیت کے حامل   معاملات پر  تبادلۂ خیال کیا اور   برکس ملکوں میں  موجودہ   ٹیلیسکوپ   کی نیٹ ورکنگ   کرنے اور ایک  علاقائی ڈاٹا نیٹ ورک تیار کرنے کی سفارش کی ۔ انہوں نے  اِس شعبے میں ایک اہم پروجیکٹ   تیار کرنے سے اتفاق کیا ۔  ورکنگ گروپ  کے ارکان نے   ، اِس شعبے میں تحقیق کی  مستقبل  کی سمت  کی جانب اشارہ کیا  ۔ اس میں   انٹلیجنٹ   ٹیلیسکوپ اور   ڈاٹا نیٹ ورک   ، کائنات میں  اجرام  فلکی   کے مطالعے  ، بِگ ڈاٹا ، مشین لرننگ  ، مصنوعی ذہانت   کے ذریعے تیار کردہ  اعداد و شمار  کے مطالعے اور  کثیر  ویو لینتھ   ٹیلیسکوپ   رسد  گاہ  کےمطالعے پر زور دیا ۔

         بی اے ڈبلیو جی  نے ، جو  برکس کے ممبر ملکوں کو  علمِ فلکیات کے شعبے میں اشتراک کے لئے ایک  پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے ، سفارش کی کہ ہر ملک کے   اہم نکات کو   ، وہاں جاری کام  کو سائنسی  نتائج  کے طور پر پیش کیا جانا چاہیئے  ۔ اس سے  برکس کی فنڈنگ  ایجنسیوں  کے ذریعے  ، جب بھی فنڈ کے حصول  کا موقع ملے گا  تو اہم پروجیکٹوں  کی نشاندہی کرنے  میں مدد ملے گی ۔ بی اے ڈبلیو جی نے  برکس ملکوں کے   ماہرینِ فلکیات کے درمیان اشتراک میں اضافہ کرنے  کی اہمیت کو  اجاگر کیا ۔

         سائنسداں اور بین الاقوامی  تعاون کے سربراہ  جناب ایس کے وارشنے  نے  بھارت ( ڈ ی ایس ٹی ) کے موقف کو پیش کیا  اور برکس ملکوں کے  ممتاز سائنسی تحقیق کاروں نے  اپنے ملک کی رپورٹ  پیش کی اور  تحقیقی بنیادی ڈھانچے میں جاری تحقیقی سرگرمیوں کو اجاگر کیا ۔

         برکس ملکوں  کے ، جن  اہم سائنسی اداروں نے  ، اِس میں شرکت کی  ، اُن میں بھارت کی جانب سے   ممبئی کا  ڈاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامینٹل ریسرچ  ، بنگلور کا انڈین انسٹی ٹیوٹ آف  ایسٹرو فزکس  ،   پونے کا  نیشنل سینٹر فار  ریڈیو  ایسٹرو فزکس  ، دلّی یونیورسٹی   ، نیشنل لیباریٹری  آن ایسٹرو فزکس   ، برازیل کے  سینٹر فار  ریسرچ اِن فزکس   ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ  فار اسپیس ریسرچ  ، روس کے  انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرونومی   ، اکیڈمی آف سائنسز   ، نیشنل ایسٹرو نومیکل آبزرویٹری   ، چین کی اکیڈمی  آف سائنس  اور جنوبی افریقہ کی افریقن  ایسٹرو نومیکل سوسائٹی شامل ہیں ۔

         بھارت نے  جنوری ، 2021 ء میں برکس کی صدارت  سنبھالی ہے ۔   برکس ، 2021 ء کے کلینڈر  کے مطابق   وزارتی سطح کی میٹنگوں ،  سینئر عہدیداروں کی میٹنگوں ،  شعبہ جاتی میٹنگوں  اور کانفرنسوں سمیت  تقریباً 100 تقریبات کا  انعقاد  کیا جائے گا ۔

image00147SB.png

image002LZ5S.png

 

۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔

U.No. 4746



(Release ID: 1721167) Visitor Counter : 238


Read this release in: English , Hindi , Bengali , Kannada