سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

سی ایس آئی آر-سینٹرل سائنٹفک انسٹرومنٹس آرگنائزیشن(سی ایس آئی او) نے 27ملکی مینوفیکچررز کوایس اے آر ایس- سی او وی -2کا مقابلہ کرنے کےلئے یو وی جرثومہ کش ٹیکنالوجی منتقل کی

Posted On: 22 MAY 2021 6:43PM by PIB Delhi

ایروسول کے توسط سے ایس اے آر ایس –سی او وی-2 کے ہوائی راستوں سے پھیلنے کے ثبوت میں اضافہ ہورہا ہے، جسے اب بین الاقوامی ایجنسیوں ڈبلیو ایچ او ، آر ای ایچ وی اے ، اے ایس ایچ آر اے ای اور کئی ملکوں میں صحت حکام کے ذریعے بہت اہم ماناجارہا ہے۔ انڈور سیٹنگ میں ایئربورن ٹرانسمیشن ایک بڑا جوکھم ہے۔ غور طلب ہے کہ ستمبر 2020ء میں سی ایس آئی آر کی لیباریٹریوں سینٹر فار سیلولر اینڈ مالی کیولر بایولوجی(سی ایس آئی آر-سی سی ایم بی)اور سی ایس آئی آر-انسٹی ٹیوٹ آف مائیکرو بیئل ٹیکنالوجی (سی ایس آئی آر-آئی ایم ٹی ای سی ایچ)کے ذریعے کی گئی تحقیق نے تجربے کی شکل میں پیش کیاگیا تھا کہ ایس اے آر ایس-سی او وی-2وائرل ذرات کا پتہ لگا یاجاسکتا ہے۔ ایک کمرے سے متاثرہ اشخاص سے باہر نکلنے کے دو گھنٹے بعد بھی ہوا میں اور کچھ میٹر سے بھی زیادہ دوری پر ایس اے آر ایس-سی او وی-2کے ہوائی پھیلاؤ کے ثبوت مضبوط ہوئے تھے۔

https://www.medrxiv.org/content/10.1101/2020.12.30.20248890v1)

ان مطالعات کی بنیاد پر اور وائرل جرثومہ کش کے مؤثر حل کی ضرورت کو پہچانتے ہوئے موجودہ ایچ وی اے سی سسٹم کے ہوا نسوں میں کم از کم مداخلت کے ساتھ تیز ہوا کی رفتار کو سنبھالنے کے لئے انتہائی تیزی کے ساتھ ایک مؤثر پروف ریٹرو –فِٹ ڈیوائس تیار کرنا ایک چیلنج تھا۔ صنعتی اور کاروباری ماحول میں جسے وسیع طور سے استعمال کیاجاسکے۔سی ایس آئی آر-سی ایس آئی او نے یووی –سی  ایئرڈکٹ ڈس انفیکشن سسٹم تیار کیا ہے۔ اس تکنیک کا استعمال ہالوں، بڑے سیمینار والے کمروں، درجات، مال وغیرہ میں کیا جاسکتا ہے، جو موجودہ وباء کےد وران سرگرمیوں کے لئے پہلے کے مقابلے محفوظ ماحولیات مہیا کرے گا۔ ضروری وینٹی لیشن ، ضروری تحفظ، استعمال کرنے کے اصول و ضوابط اور تجربہ کئے گئے انسانی تحفظ ، معیارات کے ساتھ ایک ایرو سول میں موجود ایس اے آر ایس –سی او وی-2وائرس کو بے اثر کرنے کی ضروریات کے مطابق ٹیکنالوجی تیار کی گئی ہے۔ یو وی –سی 99 فیصد سے زیادہ وائرس ، بیکٹیریا کو بے اثر کرتا ہے۔254 این ایم یووی روشنی کا استعمال کرکے وباء کےدوران موجودہ لہر میں دیکھے جارہے فنگل کے اثرات کو بھی کم کرنے میں یہ بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

سی ایس آئی آر –سی ایس آئی او نے درج ذیل کمپنیوں کو یہ ٹیکنالوجی منتقل کی ہے۔

 

  1. آرکو انجینئرنگ پروجیکٹ پرائیویٹ لمٹیڈ
  1. فلیکسا تھرم اِکسپینلو پرائیویٹ لمٹیڈ، ودودرا گجرات390010
  1. ایوون کریئشنز پرائیویٹ لمٹیڈ، ممبئی ، انڈیا
  1. شری سن ٹیکنالوجیز   پرائیویٹ لمٹیڈ ناسک، مہاراشٹر
  1. ریز الیکٹروکنٹرولز پرائیویٹ لمٹیڈ، گروگرام ، ہریانہ
  1. سارس انجینئرنگ اینڈ پروجیکٹ پرائیویٹ لمٹیڈ، سیکندر آباد
  1. انڈی کیئر ہیلتھ سولیوشنز پرائیویٹ لمٹیڈ ، نئی دہلی
  1. ڈیوائن ٹیک الیکٹریکل ٹیکنالوجیز، جالندھر پنجاب
  1. ایس آر آئی اے ایس انجینئرنگ پرائیویٹ لمٹیڈ، حیدرآباد ، تلنگانہ
  1. اوزون ریسرچ اینڈ ایپلی کیشن(I)  پرائیویٹ لمٹیڈ، ناگپور
  1. اِلائٹ ایئر ٹیکنکس پرائیویٹ لمٹیڈ، بہادر گڑھ، ہریانہ
  1. ایری فِک سسٹمز پرائیویٹ لمٹیڈ، نوئیڈا
  1. کوالٹی نیڈس آٹوموٹیوس  پرائیویٹ لمٹیڈ، بھیواڑی، ضلع، الور ، راجستھان
  1. ٹی آئی سی ای او این-ایچ ایس ای ایل ایل پی، چِنگا ونم پوسٹ ، کوٹٹایم، کیرالہ
  1. الفا لائنر، پینیا انڈسٹریل اسٹیٹ ، بنگلور
  1. کویانا انجینئرز ، ناسک
  1. الٹرافریش مارکیٹنگ پرائیویٹ لمٹیڈ، ممبئی
  1. سیناورا ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمٹیڈ، حیدر آباد
  1. آئیڈیا مائنس مینجمنٹ  کنسلٹینٹس پرائیویٹ لمٹیڈ گوتم بدھ نگر، اترپردیش
  1. میسرز پین گوئنس انڈیا، راؤر کیلا، سندرگڑھ، اُڈیشہ
  1. سافٹ ریز پاور سولیوشنز، تھروونتھاپورم ، کیرالا
  1. کے آئی آر آئی ٹی انجینئرنگ ، جلگاؤں ، مہاراشٹر
  1. چولا جیوانرجی پرائیویٹ لمٹیڈ تھنجاوُر ، تمل ناڈو
  1. بی ڈی ایس ڈیکور اینڈ پری فیب پرائیویٹ لمٹیڈ، چنڈی گڑھ
  1. لدھا انٹرپرائزز اکولہ ، ناگپور
  1. سُکرُت یو وی سسٹمز پرائیویٹ لمٹیڈ، پونے
  1. اے بی ایس  اے آئی آڑ ٹیک پرائیویٹ لمٹیڈ، گڑگاؤں، ہریانہ
  1. یونی سیم الیکٹرونکس پرائیویٹ لمٹیڈ، بنگلورو

 

سی ایس آئی آر-سی ایس آئی او کے ڈائریکٹر پروفیسر ایس اننتا رام کرشنا نے کہا کہ ڈاکٹر ہیری گارگس کی قیادت میں فبریونکس ڈویژن کے ذریعے تیار کی گئی یہ تکنیک اِن کمپنیوں کی توسط سے پورے ملک میں وسیع پیمانےپر دستیابی کے ساتھ دستیاب ہے۔آگے دیگر صورتحال کے لئے ڈاکٹر گرگ گروپ کے ذریعے یووی پر مبنی صاف صفائی  کی مصنوعات کو بھی تیار کیا جارہاہے۔ الٹراوائلٹ لائٹ پر مبنی حل کے سامنے آنے سے لوگوں کا اعتماد بڑھ سکتا ہے اور جب بھی لاک ڈاؤن ؍کرفیو میں چھوٹ کے لئے مناسب اصول و ضوابط جاری کئے جاتے ہیں، کام کرنے کی جگہوں، عوامی ٹرانسپورٹ اور تعلیمی اداروں میں واپسی کی سہولت مہیا کی جاسکتی ہے۔

***********

ش ح۔ج ق۔ن ع

(22.05.2021)

(U: 4737)



(Release ID: 1721000) Visitor Counter : 216