سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

سویابین کی اعلیٰ پیداوار اور کیڑوں سے بچاؤ والی نئی قسم سے ملک گیر پیداوار میں اضافے میں مدد مل سکتی ہے

Posted On: 29 APR 2021 4:19PM by PIB Delhi

ہندوستانی سائندانوں نے سویابین کی ایک زیادہ پیداوار والی اور کیڑوں سے بچاؤ کی قسم کو فروغ دیا ہے۔ ایم اے سی ایس 1407 نام کی یہ نئی تیار کردہ قسم آسام، مغربی بنگال، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور شمال مشرقی ریاستوں کے لیے موزوں ہے اور اس کے بیج سال 2022 کے خریف کے موسم کے دوران کسانوں کو بونے کے لیے فراہم کرائے جائیں گے۔

سال 2019 میں، ہندوستان نے وسیع پیمانے پر تخم روغن کے ساتھ ساتھ جانوروں کے چارے کے لیے پروٹین کے سستے ذرائع اور کئی ڈبہ بند کھانے کے طور پر سویابین کی کھیتی کرتے ہوئے اس کا تقریباً 90 ملین ٹن پیداوار کیا اور وہ دنیا کے بڑے سویابین پیداواری ملک میں شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ سویابین کی زیادہ پیداوار والی اور بیماری سے بچاؤ والی قسمیں ہندوستان کے اس ہدف کو حاصل کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔

اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے، حکومت ہند کے محکمہ سائنس و ٹکنالوجی کے ایک خود مختار ادارے ایم اے سی ایس - اگرکر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اے آر آئی)، پونے کے سائنس دانوں نے زرعی تحقیق کی ہندوستانی کونسل (آئی سی اے آر)، نئی دہلی کے شراکت سے سویابین کی زیادہ پیداوار والی قسموں اور سویابین کی کھیتی کے جدید طریقوں کو فروغ دیا ہے۔ انھوں نے روایتی کراس بریڈنگ تکنیک کا استعمال کرکے ایم اے سی ایس 1407 کو تیار کیا، جو کہ فی ہیکٹیر 39 کوئنٹل کی پیداوار دیتے ہوئے اسے ایک زیادہ پیداوار والی قسم بناتا ہے اور یہ گرڈل بیٹل، لیف مائنر، لیف رولر، اسٹیم فلائی، ایفڈز، وہائٹ فلائی اور ڈیفولئیٹر جیسے اہم کیڑوں سے بچاؤ بھی کرتا ہے۔ اس کا موٹا تنا، پھلی کا زمین سے اوپر (7 سینٹی میٹر) ہونا اور پھلی کو بکھرنے سے بچاؤ اسے میکانی کٹائی کے لیے بھی موزوں بناتا ہے۔ یہ شمال مشرقی ہندوستان کی بارش پر منحصر صورتحال کے لیے بھی مناسب ہے۔

اس تحقیق کی قیادت کرنے والے اے آر آئی کے سائنس داں جناب سنتوش جے بھائی نے کہا کہ ”ایم اے سی ایس 1407 نے سب سے اچھی جانچ قسم  کے مقابلے میں 17 فیصد کا اضافہ کیا اور اہل قسموں کے مقابلے میں 14 سے 19 فیصد زیادہ پیداواری فائدہ دکھایا۔ سویابین کی یہ قسم بغیر کسی پیداواری نقصان  کے 20 جون سے 5 جولائی کے دوران بوئے جانے کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ یہ اسے دیگر قسموں کے مقابلے میں مانسون کی غیر یقینیوں سے بچاتا ہے“۔

ایم اے سی ایس 1407 میں 50 فیصد  پھول آنے کے لیے اوسطاً 43 دنوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اسے پختہ ہونے میں بوئے جانے کی تاریخ سے 104 دن لگتے ہیں۔ اس میں سفید رنگ کے پھول، پیلے رنگ کے بیج اور سیاہ نافچہ ہوتے ہیں۔ اس کے بیجوں میں 19.81 فیصد تیل کی مقدار ، 41 فیصد پروٹین کی مقدار ہوتی ہے۔ زیادہ پیداوار، کیڑوں سے بچاؤ، کم پانی اور کھاد کی ضرورت والی اور میکانی کٹائی کے لیے موزوں سویابین کی اس قسم کو حال ہی میں حکومت ہند  کی زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت کے تحت آنے والی فصل کے معیاروں سے متعلق  مرکزی ذیلی کمیٹی، زرعی فصلوں کی قسموں کی نوٹیفکیشن کے ذریعہ جاری کیا گیا ہے اور اسے بیج پیداوار  کھیتی کے لیے قانونی طور سے فراہم کرایا جا رہا ہے۔

 

حوالے:

ہندوستان کا گزٹ، CG-DL-E-03022021-224901، غیر معمولی، حصہ II سیکشن 3 ذیلی سیکشن  (ii)، نمبر 456، نئی دہلی، منگل، 2 فروری، 2021۔

آئی سی اے آر -آئی آئی ایس آر 2021۔ سویابین  پر اے آئی سی آر پی کی ڈائریکٹر کی رپورٹ 2020-21، ایڈ:  نیتا کھانڈیکر۔  آئی سی اے آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سویابین ریسرچ ، اندور ، مدھیہ پردیش، ہندوستان، پی پی 35۔

ایس اے جے بھائی، فلپس ورگیس۔ ایس پی ٹاورے، بی ڈی ایدھول بی این واگھ مارے، ڈی ایچ سالنکھے اور جے ایس سروڈے۔ 2021۔ ایم اے سی ایس 1407 : شمال مشرقی ریاستوں کے لیے زیادہ پیداوار والی  سویابین کی قسم۔ سویابین ریسرچ، 19(1)۔

 

 

پھول

 

 

بیج

 

 

سبز پھلیوں کے ساتھ پودا

 

 

پختہ پودا

 

 

ایم اے سی ایس 1407 کی کھیتی کا منظر

 

مزید تفصیلات کے لیے سائنسداں جناب سنتوش جے بھائی (sajaybhay@aripune.org, 020-25325036)، جینیات اور پلانٹ بریڈنگ گروپ، اور ڈاکٹر پی کے  ڈھکے پھالکر، ڈائریکٹر، اے آر آئی، پونے، (director@aripune.org, pkdhakephalkar@aripune.org, 020-25325002) سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

                                          **************

 

ش ح۔ف ش ع-م ف

03-05-2021

U: 4171



(Release ID: 1716072) Visitor Counter : 11


Read this release in: English , Hindi , Punjabi , Kannada