کامرس اور صنعت کی وزارتہ

مصالحوں اور رسوئی میں کام آنے والی جڑی بوٹیوں سے متعلق کوڈیکس کمیٹی کا پانچواں اجلاس ورچوئل طریقے سے شروع ہوا – بھارت میزبان ہے اور بھارت کا مصالحوں سے متعلق بورڈ کمیٹی کے سکریٹریٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے

Posted On: 21 APR 2021 1:58PM by PIB Delhi

نئی دہلی،21  اپریل ، 2021 / عالمی وبا کے دوران محفوظ اور کوالٹی والے کھانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے  بھارت کی خوراک کی حفاظت اور معیارات سے متعلق اتھارٹی ایف ایس ایس اے آئی کی چیئر پرسن محترمہ ریتا تیااوتیا نے کل کہا کہ ضابطہ کار ادروں  کو ضرورت ہے کہ وہ  خوراک کی حفاظت اور کوالٹی کو یقینی بنانے کے لیے مزید چوکس رہیں۔  مصالحوں اور رسوئی میں کام آنے والی جڑی بوٹیوں سے متعلق کوڈیکس کمیٹی (سی سی ایس سی ایچ) کے پانچویں اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے جو کوڈیکس الیمینٹیریئس کمیشن (سی اے سی) کے تحت قائم ہے، محترمہ ریتا تیااوتیا نے مصالحوں کی زیادہ قیمت کی وجہ سے ان کے متبادل کی قصداً ملاوٹ کے اندیشے کو ظاہر کیا۔  انہوں نے کہا کہ منافع کمانے کے مقصد سے یہ ملاوٹ بڑے پیمانے پر ایک طریقہ ہے اور ہمیں اس طرح کے طور طریقوں سے محفوظ رہنے کے لیے خاص طور پر ضابطوں کے میدان میں انتہائی چوکس رہنا چاہیے۔ 

سی سی ایس سی ایچ کا پانچواں جلاس 20 اپریل کو ورچوئل طریقے سے سلسلے وار اجلاس کے ساتھ شروع ہوا۔ یہ سلسلہ 29 اپریل 2021 تک جاری رہے گا۔ اِس اجلاس میں 50 ملکوں کے تقریباً  300 ماہرین حصہ لے رہے ہیں۔ فی الحال اجلاس میں کمیٹی ادرک، لونگ، جعفران اور رسوئی میں کام آنے والی دو بوٹیوں اوریگانو اور بیسل کی خشک کی ہوئی اقسام کے لیے کوالیٹی معیارات پر غور و خوض کر رہی ہے۔ یہ غور و خوض 7ویں مرحلے کے تحت کیا جا رہا ہے۔  نئے کام کے لیے تین تجاویز بھی ہیں ان تجاویز کا تعلق چھوٹی الائچی، ہلدی اور خشک پھلوں اور بیری کی شکل میں مصالحوں کے لیے  ترجیح شدہ معیارات سے ہے۔

افتتاحی خطبہ دیتے ہوئے مصالحہ بورڈ کے سکریٹری جناب ڈی ساتھین نے کہا "  سی سی ایس سی ایچ کو پہلی کوڈیکس کوموڈیٹی کمیٹی ہونے پر فخر ہے کہ اُس نے یہ اجلاس آن لائن طریقے سے منعقد کیا۔ یہ جان کر خوشی ہوگی کہ اس کووڈ – 19 عالمی وبا کے باوجود رکن ملکوں نے سرگرم حصہ لیا۔  کمیٹی کی طرف سے غور و خوض کے لیے درجہ بندی میں بڑے پیمانوں پر مصالحوں اور رسوئی میں کام آنے والی جڑی بوٹیوں کے شمار کا انتظار ہے۔ "

رکن ملک کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے کوڈیکس ایلیمینٹیریئس کمیشن کے  چیئر مین  جناب گل ہیرمے دا کوستا جونیئر نے کہا " خوراک کی حفاظت پر کنٹرول کی کمی کی وجہ سے شدید پریشانیوں کی وجہ سے کھانے سے متعلق ہزاروں بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ لوگوں کی اموات ہو رہی ہیں اور ہر سال بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ا س کے ساتھ ساتھ مختلف ملکوں میں معاشی بحران پیدا ہو رہا ہے۔ "

بھارت میں عالمی صحت تنظیم(ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے ، ڈاکٹر روڈریکو ایچ اوفرین نے، "فارم ٹو فراک" کے نقطہ نظر کو اپنانے کی ضرورت کی نشاندہی کی، جس کا مقصد پورے سپلائی چین کے ذریعے حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔ حفاظت، دونوں پروڈیوسر  اور فوڈ ریگولیٹرز ، معیار اور پائیداری معیاروں کی تعمیل کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس کی طلب خورک کے تحفظ کے خدشات کی وجہ سے بڑھ رہی ہے، خاص طور پر کووڈ – 19 کے موجودہ تناظر میں۔

بھارت میں خوراک اور زرعی تنظیم (ایف اے او) کے اسسٹنٹ نمائندہ جناب کونڈا چھوا نے کہا کہ ایف اے او خصوصی اقدامات کر کے اور خوراک کی حفاظت ایماندارنہ تجارت کو یقینی بنا کر مختلف سطحوں پر مختلف اقدامات پر عمل کر کے اور گنجائش پیدا کر کے یکساں معیارات قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ پروڈیوسر اور صارف کے مفاد کی حفاظت اور مصالحوں اور رسوئی میں کام آنے والی جڑی بوٹیوں کے لیے  عالمی معیار کو ہم آہنگ کرنے کے لیے غور و خوض کی بھی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

سی سی ایس ایچ اور سی اے سی کے بارے میں

مصالحوں اور رسوئی میں کام آنے والی جڑی بوٹیوں کے لیے دنیا بھر میں معیار کی ترقی و توسیع کے عمل میں دیگر عالمی تنظیموں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے 2013 میں سی سی ایس سی ایچ کا تشکیل بھارت کی میزبانی میں سو سے زیادہ ملکوں کے تعاون  سے کیا گیا تھا اور اس کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد کے لیے مصالحہ بورڈ بھارت میں واقع تھا۔ اپنی تشکیل کے بعد سے ، کوڈیکس کمیٹی آن اسپائس اینڈ کلینری ہربس (سی سی ایس سی ایچ) مصالحے اور جڑی بوٹیوں کےلیے سنجیدہ نوعیت کے عالمگیر کوڈیکس معیار کو فروغ دینے  میں کامیاب رہی ہے۔ اپنے گزشتہ چار اجلاس میں اس کمیٹی نے چار مصالحوں – سیاہ / سفید / سبز مرچ، زیرا، اجوائن اور لہسن کے خشک یا طے شدہ شکل – کے لیے معیار کو فروغ دیا اور اسے حتمی شکل دی۔

سال 1963 میں قائم، کوڈیکس ایلیمنٹرس کمیشن (سی اے سی) اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او او) اور عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کے ذریعے مشترکہ طور پر انفرادی طور پر مقیم ایک غیر سرکاری تنظیم ہے، جو صارفین کی  صحت کی  حفاظت اور کھانے کے کاروبار  میں درست  رویہ کو بقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے فوڈ سکیورٹی پروگرام کے ڈھانچے کے اندر شامل ہے۔

مزید معلومات کے لیے : http://www.fao.org/fao-who-codexalimentarius/news-and-events/news-details/en/c/1395771/ پر کلک کریں

۔۔۔

                                                                       

م ن ۔ اس۔ ت ح ۔                                               

U –3877



(Release ID: 1713414) Visitor Counter : 217