زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

زراعت کے مرکزی وزیر نے مدھو کرانتی پورٹل اور ہَنی کارنرس کا آغاز کیا


پورٹل سے صارفین کوشہد کے وسیلے کے بارے میں جاننے اور مصنوعات کی کوالٹی کو یقینی بنایا جا سکے گا

شہد کمیشن کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گا، روز گار پیدا کرے گا اور برآمدات میں اضافہ کرے گا: جناب نریندر سنگھ تومر

Posted On: 07 APR 2021 5:25PM by PIB Delhi

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001C2NY.jpg

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے آج نئی دلی میں ‘‘ مدھو کرانتی پورٹل’’ اور نیفیڈ کے ‘‘ ہنی کارنرس’’ کا آغاز کیا۔ مدھو کرانتی پورٹل زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت کے تحت قومی مکھی پالن اور ہنی مشن (این بی ایچ ایم)کے نیشنل بی بورڈ (این بی بی) کی ایک پہل ہے۔ یہ پورٹل ڈیجیٹل پلیٹ فار م پر شہد اور شہد کی مکھی کی دیگر اشیا کے وسیلے کے بارے میں جانکاری حل کرنے کی خاطر آن لائن رجسٹریشن کے لئے تیار کیا جا رہاہے۔ اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی تکنیکی اور تیاری کےلئے بینکنگ ساجھیدار ، انڈین بینک ہے۔ اس پروجیکٹ کے لئے این بی بی اور انڈین بینک کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے ہیں۔

پورٹل لانچ کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب تومر نے کہا کہ ہنی مشن کسانوں کی آمدنی میں اضافے، روزگار پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافہ کرنے میں مدد کرے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ میٹھا انقلاب پورے ملک میں پھیلنا چاہئے اور ہندوستانی شہد عالمی معیار پر پورا اترنا چاہئے۔

 

پورٹل پر شہد او ر شہد چھتوں سے بننے والی دیگر اشیا  سے متعلق تمام فریقوں ، اشیا کی خریدو فروخت وغیرہ کے مکمل سلسلے کا ڈاٹا بیس تیار کیا جائے گا۔پہلے مرحلے میں شہد کی مکھی پالنے والوں کا آن لائن رجسٹریشن کیا جا رہا ہے، جس کے بعد شہد کی تجارت سے جڑے دوسرے فریقوں کا رجسٹریشن کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں ملک میں شہد کی تجارت سے متعلق تمام فروخت اور لین دین کو ایک موبائل ایپ میں شامل کیا جائے گا تاکہ شہد کے وسیلے تک رسائی کے بارے میں مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکیں۔

شہد اور شہد کے چھتوں سے متعلق دیگر مصنوعات کے آن لائن رجسٹریشن ؍ رسائی کے نظام سے شہد کی کوالٹی کو چیک کرنے اور اس میں ملاوٹ وغیرہ کے بارے میں جانکاری حاصل کی جا سکے گی۔ یہ نظام صارفین ؍ عوام کو  شہد کے حصول اور اس کے معیاری ہونے کی یقین دہانی کرائے گا۔

ایف پی اوز کو مارکٹنگ کے لئے مدد دینے کی خاطر نیفیڈ نے آشرم، نیو موتی باغ،  ایسٹ آف کیلاش ، پنکچولا اور مسوری میں اپنے بازاروں ؍ ریٹیل  اسٹورس پر 15-14 ہنی کارنر تیار کئے ہیں۔ نیفیڈ اپنے 200 بڑے اسٹورس پر  شہد اور شہد کے چھتوں کی دیگرمصنوعات کی فروخت کو فروغ دینے کی خاطر مزید ہنی کارنر تیار کرے گا۔ ایف پی اوز کے ذریعے سپلائی کئے گئے شہد کی فروخت اور فروغ کے لئے آن لائن مارکٹنگ کے متبادلوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

شہد کی مکھی پالن کی اہمیت کے پیش نظر حکومت ہند نے ‘‘ سوئٹ ریولوشن یا میٹھا انقلاب’’ کا ہدف حاصل کرنے کی خاطر آتم نربھر بھارت کے تحت سائنسی طریقے سے مکھی پالن کو فروغ دینے کے لئے ایک مرکزی سیکٹر کی اسکیم ‘‘ نیشنل بی کیپنگ اینڈ ہنی مشن’’ (این بی ایچ ایم) کے لئے 500 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ این بی ایچ ایم کو نیشنل بی بورڈ (این بی بی) کے  ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔اس اسکیم میں تین چھوٹے مشن شامل ہیں،جس میں خاص توجہ ہنرمندی کے فروغ ؍ تربیت ، شہد کی مکھی پالن کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے، ضروری بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے علاوہ شہد کی مکھیوں سےمتعلق مربوط ترقیاتی مرکز (آئی بی ڈی سی)، شہد کی مکھیوں کی بیماری کی تشخیص کے لئے لیبس، شہد کی جانچ کےلئے لیبس کاقیام، شہدکی مکھی پالن کے یونٹوں کی تیاری، کسٹم ہائرنگ سنٹرد، اے پی تھیریپی سینٹر ، معیاری نیو کلوز اسٹاک سینٹر اور بی بریڈرس، ڈیجیٹائزیشن ؍ آن لائن رجسٹریشن ، پروسیسنگ اور مارکٹ سپورٹ وغیرہ شامل ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002ZMVN.jpg

زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت  معیاری ٹیسٹنگ لیبس کے قیام شہدکے وسیلے کی جانچ کے لئے آن لائن رجسٹریشن اور این ڈی ایچ ایم کےتحت شہد اور شہد کے چھتے کی دیگر مصنوعات کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔

ڈی اے سی اینڈ ایف ڈبلیو کے این بی بی کے ذریعے شہد کی مکھی پالن ؍ شہد سے متعلق حاصل اہم کامیابیاں مندرجہ ذیل ہیں:

  • گجرات کے آنند میں این بی ایچ ایم کے تحت این ڈی ڈی بی میں شہد کو ٹیسٹ کرنےکی جدید ترین عالمی معیار کی لیب قائم کی گئی ہے۔ یہ لیب این اے بی ایل کی تسلیم شدہ ہے اور اس نے   شہد کے نمونوں کی جانچ کا کام شروع کر دیا ہے۔ اس کا افتتاح زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر نے 24 جولائی 2020 کو کیا تھا۔
  • ایف ایس ایس اے آئی نے شہد، موم اور روائل جیلی کے لئے معیارات مقرر کردیئے ہیں۔ ایف ایس ایس اے آئی کے نوٹیفائی شدہ معیارات میں ایس ایم آر اور بیرونی اولیگوسیکرائڈس ٹیسٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
  • این بی ایچ ایم کے تحت اب تک فنڈنگ کے لئے 88.87 کروڑ روپے کے 45 پروجیکٹوں کو امداد کےلئے منظوری دی گئی ہے، جن میں آنند میں این ڈی ڈی بی میں شہد کی ٹیسٹنگ کے ایک لیب کا قیام، سائنسی طور پر شہد کی مکھی پالن میں صلاحیت سازی کے لئے بیداری پیدا کرنے کی خاطر سیمینار وغیرہ جیسے 44 پروجیکٹوں کی تجاویز شہد کی مکھی پالن کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے، زرعی ؍ باغبانی کی مصنوعات کے لئے پیداوار اور معیار میں بہتری  پر شہد کی مکھیوں کے اثرات کی جانچ کےلئے ٹیکنالوجی کا فروغ  ، روائل جیلی، شہد کی مکھی کا زہر، کومب ہنی وغیرہ  جیسی مصنوعات پیداوار کے لئے مخصوص آلات کی تیاری معیاری نیو کلوز اسٹاک کا فروغ، شہد اور چھتے کی دیگر مصنوعات  کے وسیلے کے بارے میں جانکاری کے لئے آن لائن رجسٹریشن وغیرہ ، 13 چھوٹی ؍ سیٹلائٹ اور 2 بڑی ؍ علاقائی شہد ٹیسٹنگ کی لیبس ، شہد کی مکھیوں میں بیماری کی تشخیص کے لئےلیب، شہد کی ڈبہ بندی اِن ہاؤس ٹیسٹنگ لیب، ان کا اسٹوریج، آر اینڈ ڈی وغیرہ کی این بی ایچ ایم کےتحت منظوری دی جا رہی ہے۔ ان میں سے کچھ پروجیکٹوں کو شمال مشرقی اور پہاڑی علاقوں سمیت امنگوں والے اضلاع ؍ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں نفاذ کے لئے منظوری دی گئی ہے۔
  • بھارت کی آزاد ی کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر وزیراعظم کے ذریعے شروع کیا گیا بھارت کا امرت مہوتسو ملک کے تمام حصوں میں منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ڈی اے سی اینڈ ایف ڈبلیو کے این بی بی کے ذریعے ان سہولیات   ؍ پروجیکٹوں کو منظوری ؍ نفاذ کیا جا رہا ہے۔
  • این بی ایچ ایم کے تحت 3 برسوں کے دوران دیگر کے علاوہ 100 بہت چھوٹے اور 5-4 علاقائی ؍ بڑے شہد اور شہد کے چھتے کی  مصنوعات کی ٹیسٹنگ کے لئ لیب قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
  • نبارڈ کے ذریعے65 اور نیفیڈ کے ذریعے 5سمیت  شہد کی مکھی پالنے والوں ؍ شہد پیدا کرنے والوں کے 70 ایف پی اوز بہار، اترپردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان اور مغربی بنگال میں تشکیل دیئے گئے ہیں۔
  • شہد کی مکھی پالن کو فروغ دینے کی خاطر سڑکوں کے اطراف شہد کی مکھیو ں کے پسندیدہ پھولوں والے درختوں کی شجر کاری کے لئے قومی شاہراہوں کی  بھارتی اتھارٹی (این ایچ اے آئی) کے اشتراک سے ایک خاکہ تیار کیا جا رہاہے ۔
  • شہد کی پیداوار ، جو  14-2013 میں 76150 ایم ٹی ایس تھی، 20-2019 میں بڑھ کر 120000 ایم ٹیز تک پہنچ گئی ہے۔
  • شہد کی برآمدا ت (14-2013)، 28378.42 ایم ٹی سے بڑھ کر (20-2019)، 59536.74ایم ٹی تک پہنچ گئی ہے۔
  • معیاری شہد کے چھتوں کی تیاری کے لئے 29 بی بریڈرس تیار کئے گئے ہیں، جو شہد کی مکھی پالنے والوں کو رانی مکھی کے ساتھ ساتھ تربیت فراہم کرتےہیں۔ ہر ایک بی بریڈر سالانہ کم از کم 2000 چھتے تیار کرتا ہے۔
  • مدھو کرانتی پورٹل پر 10000 مکھی پالنے والوں ؍ شہد تیار کرنے والی سوسائٹیوں ؍ فرموں ؍ کمپنیوں نے 16 لاکھ چھتوں کا ایم ڈی بی کے ساتھ رجسٹریشن کرایا ہے۔
  • 16 مربوط بی کیپنگ ڈیولپمنٹ سنٹر (آئی بی ڈی سی)تیار کئے گئے ہیں، جو ہریانہ ، دلی، بہار، پنجاب، مدھیہ پردیش، اترپردیش، منی پور، اتراکھنڈ، جموں وکشمیر، تمل ناڈو، کرناٹک، ہماچل پردیش، مغربی بنگال، تریپورہ ، آندھرپردیش اور اروناچل پردیش سب میں ایک ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
  • مکھی پالنے سے متعلق بہتر طریقہ کار کے لئے تمام ریاستی حکومتوں اور متعلقہ ایجنسیوں  ؍ فریقوں کے ذریعے مشاورت کی اشاعت کی جاتی ہے اور تقسیم کیا جاتا ہے۔
  • اس سلسلے میں بھی بیداری پیدا کی گئی ہے کہ شہد کی مکھی پالنےسے مختلف فصلوں کی تخم کاری میں بھی مدد ملتی ہے۔

اس موقع پر زراعت اور کسانوں کی بہبودکے مرکزی وزیر مملکت جناب پرشوتم روپالا اور جناب کیلاش چودھری، زراعت  اور کسانوں کی بہبود کے سکریٹری جناب سنجے اگروال اور دیگر سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔

*************

ش ح ۔و ا۔  ک ا

U. No. 3593



(Release ID: 1711129) Visitor Counter : 236


Read this release in: English , Marathi , Hindi , Punjabi