نیتی آیوگ

تنازعات کے حل میں آن لائن رول وبائی بیماری کووڈ-19 کے دوران بڑا اہم ثابت ہوا ہے: جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ

نیتی آیوگ ا ٓگامی اور اومی دیارنے او ڈی آر کتابچہ جاری کیا

Posted On: 10 APR 2021 7:52PM by PIB Delhi

نئی دہلی ،10مارچ ، 2021، تنازعات کے آن لائن حل (او ڈی آر) میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ  جسٹس ڈلیوری سسٹم کو غیر مرتکز متنوع جمہوری نوعیت کا اور سلجھانے والا  بناسکے۔ یہ بات سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے آج کہی ہے۔ وہ آگامی اور امی دیار انڈیا کی طرف سے نیتی آیوگ کے تال میل سے اور آئی سی آئی سی آئی بینک ، اشوکا اننوویٹرس فار دی پبلک، ٹرائی لیگل، ڈالبرگ،دوارا اور این آئی پی ایف پی کے تعاون سے تیار کردہ کتابچے او ڈی آر کی رسم اجرا سے خطاب کر رہے تھے۔

کووڈ-19 نے ہماری زندگیوں میں ناقابل تصور طریقوں سے تبدیلی پیدا کی ہے، اس میں  عدالتوں میں کام کاج کے طریقوں میں تبدیلی آئی ہے یعنی جسمانی طو رپر معاملات سننے کے بجائے ان کی ورچوئل طریقے پر سماعت کی جارہی ہے۔ جسٹس چندر چوڑ نے کہا ’’یہ تبدیلی  ہر ایک کے لیے مشکل تھی جن میں ایڈوکیٹ، مقدمات کے فریق  اور یہاں تک کہ عدالت کا عملہ بھی شامل تھا۔ اگرچہ ابتدا میں اس عمل کی رفتار سست رہی لیکن آخرکار ورچوئل طو رپر سماعت کے طریقے نے عدالتی ایکوسسٹم میں راہ پا لی‘‘۔

وبائی بیماری کے بعد جسمانی طور پر سماعت  کا طریقہ پھر سے شروع کرنے کی مزاحمت اور اصرار کے باوجود جسٹس چندر چوڑ نے اس بات پر زور دیا کہ او ڈی آر کے بہت سے فائدوں کو دیکھتے ہوئے یہ وقت کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ او ڈی آر کتابچے میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مقدمات کا طریقہ کار وقت طلب، مہنگا اور زحمت طلب ہے۔ حالانکہ عدلیہ ان مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں کام کر رہا ہے، او ڈی آر اس سلسلے میں مدد  کرسکتا ہے اور یہ کام تنازعات کی تعداد محدود کرکے کیا جاسکتا ہے جو اکثر پہلی مرتبہ  عدالت میں آتے ہیں۔

جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ انھیں پکا یقین ہے کہ او ڈی آر آج کی ڈیجیٹل اعتبار سے تیار شدہ دنیا میں  ایک رول ادا کرسکتا ہے۔ ا نھوں نے کہا ’’یہ اس لیے نہیں ہے کہ یہ عمل  ورچوئل طریقے پر چلایا جاتا ہے بلکہ اس لیے بھی ہے کہ  اس طریقہ کار کے ذریعے ہر طرح کے فراہم ڈیجیٹل حل کو  اختیار کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا جاتاہے۔ میرے خیال میں پچھلے ایک سال میں ہم نے ورچوئل طریقے پر سماعت سے جو سبق لیا ہے وہ یہ ہے کہ  یہ عمل  بہت آسان تبدیلیوں کی وجہ سے زیادہ کارگر ہوسکتا ہے— تمام فریقوں کی طرف سے ڈیجیٹل فائلوں کا استعمال ، ڈیجیٹل نوٹ بنانے کی صلاحیت اور تمام دستاویزات ایک ہی جگہ فراہم ہونا۔ مزید برآں یہ کہ تمام تنازعات کو آن لائن  چلانے سے  مزید ڈاٹا فراہم ہوتاہے جو مستقبل میں او ڈی آر کے عمل کو  بہتر بنانے میں ضروری ا بتدائی عمل میں مددگار ہوگا۔درحقیقت یہ ڈاٹا بامعنی طور پر عدالتوں کے ورچوئل تجربے کو بہتر بنانے میں استعمال کیا جائے گا۔آخری بات یہ کہ  سستی او ڈی آر خدمات کے مؤثر استعمال سے تنازعات میں ملوث فریقوں کے نقطہ نظر میں ایک بڑی تبدیلی آئے گئی اور یہ تبدیلی اس عمل کو مزید قابل رسائی  سستا اور عملی بنا کر پیدا ہوگی۔ تمام فریق اسے زیادہ  آرام دہ اور جلد حل نکالنے والا عمل سمجھیں گے۔ اس کے ذریعے تنازعات کا باصلاحیت انداز سے حل نکل سکے گا‘‘۔

کتابچے کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ اس میں تین اہم باتوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ ملک میں تمام طبقوں کے لوگوں میں ڈیجیٹل استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ اعلیٰ عدالت کی اسے واضح حمایت حاصل ہے اور تیسرے یہ کہ  آر بی آئی اور این پی سی آئی نے او ڈی آر کو ڈیجیٹل ادائیگی،  وبائی بیماری کی وجہ سے تمام عدالتوں میں سماعت کو تبدیل کرکے ورچوئل طور پر کرنے کے سلسلے میں اقدامات کئے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’اس طرح کے نظام  کے باصلاحیت ہونے کے بارے میں سوالات اب نظریاتی نہیں رہے ہیں۔ معاملات میں بہتری کی ہمیشہ ہی گنجائش رہتی ہے اور مسائل کو حل کرنے کے لیے جو اوڈی آر نظام ہے وہ بہرحال کام کر رہا ہے۔او ڈی آر کی کہانی بھی اسی طرح کی ہے، حالانکہ تنظیمیں اس کو آگے بڑھا رہی ہیں اور اسے  ورچوئل عدالتوں سے بھی کہیں زیادہ استعمال کر رہی ہیں۔لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ او ڈی آر عمل  ہر تنازع کے حل  کا متبادل نہیں ہے۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ ہم بھارت میں ہر جگہ ڈیجیٹل استعمال اور خواندگی کو نہ اپنا لیں۔  لیکن میں اسے او ڈی آر کی کمزوری نہیں سمجھتا۔ دوسری طرف میرا خیال ہے کہ اس کی افادیت ایک مضبوط ڈیجیٹل استعمال اور خواندگی کو آگے بڑھانے میں استعمال کی جاسکتی ہے‘‘۔

جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ او ڈی آر کتابچے میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ او ڈی آر معیشت کی توسیع کے لیے کیوں مددگار ہے، کاروبار کے معاملات تیزی سے اور باصلاحیت طریقے پر حل کرنے میں کیوں مددگار ہے اور یہاں تک کہ افراد کے لیے  جن کے لیے تنازعات کے حل کے روایتی طریقوں کا استعمال بہت زحمت طلب اور ناقابل رسائی ہے، کس طرح فائدے مند ثابت ہوسکتاہے۔

نیتی آیوگ کے سی ای او امیتابھ کانت نے کہا ’’او ڈی آر کتابچہ اس سلسلے میں مختلف  اداروں کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بھارت میں او ڈی آر طریقہ اپنایا جائے اور اس میں ان کاروباروں کے لیے قابل عمل طریقہ کار کو اجاگر کیا گیا ہے جو او ڈی آر کو اپنانا چاہتے ہیں‘‘۔

کووڈ-19 نے او ڈی آر کی ضرورت کو اجاگر کردیا ہے۔ اندازہ ہے کہ عدالت میں لائے جانے والے تنازعات میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر  قرضے، کریڈٹ، املاک، کامرس اور خردہ شعبوں میں ۔ مثال کے طور پر اڑان میں جو کہ بھارت کا کاروباریوں اور دوکانداروں کا سب سے بڑا  بی2 بی پلیٹ فارم ہے، اس نے  او ڈی آر سروس پرووائڈر کا استعمال کرتے ہوئے ایک مہینے میں 1800 سے زیادہ تنازعات کا حل نکالا ہے۔ ہر ایک جھگڑے کو حل کرنے میں اوسطاً 126 منٹ لگے۔ ا ٓنے وا لے مہینوں میں او ڈی آر ایک ایسا میکنزم ثابت ہوسکتا ہے جو تیز رفتار حل کے حصول  میں کاروباریوں  کی مدد کرتاہے۔ او ڈی آر کتابچہ کاروباریوں کو اس طرح کی مدد دیتا ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے disputeresolution.online ملاحظہ کیجیے۔

*****

ش ح ۔اج۔را

U.No.3599



(Release ID: 1711059) Visitor Counter : 15