بجلی کی وزارت

بجلی کے وزیر جناب آر کے سنگھ نے بہار میں گرام اُجالا کا آغاز کیا

قابل استعمال پرانے روشن بلبوں کے بدلے ہر دیہی کنبوں کے لئے صرف دس روپئے میں ایل ای ڈی بلب فراہم ہوں گے : جناب آر کے سنگھ

Posted On: 19 MAR 2021 3:32PM by PIB Delhi

بجلی ( آزادانہ چارج ) جدید اور قابل تجدید توانائی ، ہنرمندی کے فروغ اور انترپرنیورشپ  کے مرکزی وزیرمملکت جناب آر کے سنگھ نے آج بہار کے آرا میں منعقد ایک ورچوئل تقریب میں گرام اجالا پروگرام کی شروعات کی ۔

1.jpeg

اس تقریب میں بجلی کے وزیرنے کہا  ‘‘ ابھی بھی ہماری دیہی آبادی رعایت والی ایل ای ڈی کا خرچ اٹھانے سے قاصر ہے۔ اسی وجہ سے ہی ہم نے اب گرام اُجالا دیہی ہندوستان کے لئے موافق پروگرام ، جو خاص طور سے اور اختراعی طور پر کاربن فائنانس پر مبنی ہے، کو بنایا ہے، قابل استعمال پرانے روشن بلبوں کے بدلے ہر دیہی خاندان کے لئے صرف دس روپئے میں ایل ای ڈی دستیاب ہوں گے۔ ہر خاندان کو زیادہ سے زیادہ پانچ ایل ای ڈی بلب ملیں گے’’۔

بجلی کے وزیرنے مزید کہا کہ گرام اُجالا پروگرام کا ہندوستان کی آب و ہوا میں تبدیلی کے پروگرام کی کارروائی پر اہم اثر پڑے گا۔ اگر ہندوستان میں سبھی 30 کروڑ بلبوں کو تبدیل کردیا جائے تو ہر سال 40743 ملین کلوواٹ توانائی کی بچت ہوگی۔ وہیں 22743 میگاواٹ سالانہ کی انتہائی مانگ سے بچا جاسکے گا اور ہر سال 370 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکاسائڈ کی تخفیف ہوپائے گی۔

بجلی کی وزارت کے سکریٹری جناب آلوک کمار نے کہا کہ یہ کاربن کریڈٹوں کا استعمال کرنے سے متعلق ایک انوکھے ماڈل پر مبنی ایک انتہائی اہم پہل ہے۔ گرام اُجالا نہ صرف توانائی کی صلاحیت کو بڑھا کر آب وہوا میں تبدیلی کے خلاف ہماری لڑائی کو رفتار دے گا  ، بلکہ دیہی علاقوں کے باشندوں کے لئے بہتر معیار زندگی ، مالی بچت اور بہتر سیکورٹی بھی لائے گا۔

اس پروگرام کے تحت دیہی صارفین کو قابل استعمال روشن بلب جمع کرنے کے عوض تین سال کی وارنٹی کے ساتھ سات واٹ اور 12 واٹ کے ایل ای ڈی بلب دئے جائیں گے۔ گرام اُجالا پروگرام کو صرف پانچ ضلعوں کے گاوں میں نافذ کیا جائے گا اور ایک صارف قابل استعمال بلبوں کو بدل کر زیادہ سے زیادہ پانچ ایل ای ڈی بلب حاصل کرسکتا ہے۔ ان دیہی خاندانوں کو اپنے استعمال کا حساب رکھنے کے لئے گھروں میں میٹر بھی لگوانے ہوں گے ۔ اس کے علاوہ کاربن کریڈٹ ڈاکیومنٹیشن کو شائن پروگرام کی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لئے اقوام متحدہ (یو این)  سے منظور شدہ ویلی ڈیٹر ز کو بھیجا جائے گا ۔ شائن پروگرام کی سرگرمیوں کے تحت  رضاکارانہ کاربن اسٹینڈرڈ سے متعلق تصدیق کے لئے خریداروں کی ضرورتوں کی بنیاد پر ایک متبادل کے ساتھ کاربن کریڈٹوں کو تیار کیاجائے گا۔ وہیں بازار کے ساتھ ابتدائی صلاح و مشورہ پر مبنی ایک کھلے عمل کے توسط سے بھی کاربن کریڈٹ خریداروں کو مانگا جائے گا۔ ایل ای ڈی لاگت پر اضافی لاگت اور مارجن کو حاصل شدہ کاربن کریڈٹ کے توسط سے دوبارہ حاصل کیا جائے گا۔

2.jpeg

اہم رکاوٹوں میں سے ایک قیمت کے ہونے کے ساتھ ، گرام اُجالا پروگرام کو دیہی صارفین کے لئے اصل رکاوٹ کو ختم کرکے وسیع تر تقسیم میں مدد کرنے کے تعلق سے بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کی بچت سے گھر کی توانائی کا خرچ بھی کم ہوجائے گا، جس سے زیادہ آمدنی اور بچت ہوپائے گی ۔

یہ پروگرام صاف ستھری توانائی فراہم کرے گا اور آب وہوا میں تبدیلی کو کم کرنے اور ایک پائیدار مستقبل کو حاصل کرنے کی سمت میں اہم رول ادا کرے گا۔ گرام اُجالا پروگرام کے تحت کنورجنس انرجی سروسز لمیٹیڈ (سی ای ایس ایل)  دیہی علاقوں میں 10 روپئے فی بلب کی سستی قیمت پر اعلیٰ معیار والے ایل ای ڈی بلبوں کو تقسیم کرے گا۔ سی ای ایس ایل ، بجلی کی وزارت کے تحت ایک سرکاری شعبہ کی کمپنی (پی ایس یو ) – انرجی ایفیشی اینسی سروسز لمیٹیڈ ( ای ای ایس ایل) کی مکمل ملکیت والی ذیلی کمپنی اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں میں آرا (بہار )، وارانسی (اترپردیش)، وجے واڑہ (آندھراپردیش)، ناگپور (مہاراشٹر) اور مغربی گجرات کے گاؤں میں 1.5 کروڑ روپئے ایل ای ڈی بلبوں کی تقسیم کی جائے گی۔ گرام اُجالا پروگرام کو پوری طرح سے کاربن کریڈٹ کے توسط سے مالی مدد فراہم کی جائے گی اور یہ ہندوستان میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہوگا۔

گرام اُجالا پروگرام ہندوستان کی آب وہوا میں تبدیلی کی کارروائی پر اہم اثر پڑے گا۔ اس سے ہر سال 2025 ملین کلوواٹ گھنٹہ توانائی کی بچت ہوگی اور ہر سال 1.65 ملین ٹن کارن ڈائی آکسائیڈ کی کمی ہوگی۔ وہیں یہ پروگرام دس روپئے فی بلب کی سستی قیمت پر  لوگوں کو بہتر روشنی فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ دیہی باشندوں کے لئے بہتر معیار زندگی ، مالی بچت ، زیادہ معاشی سرگرمی اور سیکورٹی کا آغاز کرے گا اور ایک پائیدار مستقبل کو حاصل کرنے میں مددگار ہوگا۔

*************

( ش ح ۔ف ا۔  م ص )

U. No. 2861



(Release ID: 1706530) Visitor Counter : 96


Read this release in: English , Hindi , Punjabi