مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت

شہری حکمرانی میں تبدیلی پیدا کرنے کے لیے قومی شہری ڈجیٹل مشن (این یو ڈی ایم) اور اور کئی ڈجیٹل اقدامات اٹھائے گئے

شہری حکمرانی کی ایکو سسٹم پر مبنی اپروچ
بھارتی شہری ڈیٹا ایکسچینج (آئی یو ڈی ایکس) پروڈکشن ورژن، اسمارٹ کوڈ پلیٹ فارم بھی شروع کیا گیا
محفوظ اور قابل اعتماد ڈیٹا کا اشتراک آئی یو ڈی ایکس کے ذریعے ہوگا
ڈیٹا فراہم کنندگان اور ڈیٹا صارفین کے لیے بے جوڑ انٹرفیس
سمارٹ شہروں کی نئی ویب سائٹ اور منصوبوں کی نگرانی کے لیے جیو اسپیشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم تیار کیے گئے

Posted On: 23 FEB 2021 6:13PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 23؍فروری: رہائش اور شہری امور کے وزیر (آزاد چارج) جناب ہردیپ ایس پوری نے کہا کہ قومی شہری ڈجیٹل مشن شہری مرکوز حکمرانی کی تشکیل کے لیے شہری و ٹکنالوجی شعبوں میں مثالی ہم آہنگی پیدا کرے گا، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کم سے کم حکومت، زیادہ سے زیادہ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے، آج یہاں نیشنل اربن ڈجیٹل مشن (این یو ڈی ایم) اور دیگر اقدامات کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت کو تمام یو ایل بی کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے، چھوٹے سے چھوٹے سے بڑے سے بڑے تک، تاکہ تمام شہریوں کی خدمت کے وعدے کو پورا کیا جاسکے، اور یہی آج کے شہری بھارت کے لیے سب کاساتھ – سب کا وکاس – سب کا وشواس کا مطلب ہے، یعنی شہریوں کی خدمت، شراکت داری اور مقامی مسائل کو مقامی طور پر حل کرنے کے لیے ہر شہر اور قصبے کی گنجائش کو بڑھانا۔

 الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب روی شنکر پرساد نے، جو اس موقعے پر ورچوئل وسیلے سے شریک تھے، کہا کہ اگر ڈجیٹل ٹکنالوجی کا صحیح طریقے سے فائدہ اٹھایا جائے تو شہر زیادہ بہتر ہوجائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس افتتاح کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ ڈجیٹل وسیلے کے ذریعہ انضمام اچھی حکمرانی کے لیے لازمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ انضمام اس اسکیم کے فائدہ اٹھانے والوں میں نہیں ہوگا بلکہ وہ ان شعبوں میں ہوگا جو اس کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈجیٹل انڈیا کا ہدف ٹکنالوجی کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے جو دیسی، ترقیاتی، کم خرچ اور شمولیت پر مبنی ہو۔

آج یہاں وزارت الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹکنالوجی اور وزرات رہائش و شہری امور نے نیشنل اربن ڈجیٹل مشن (این یو ڈی ایم) کا افتتاح کیا۔ اس پروگرام میں جناب درگا شنکر مشرا، سکریٹری، ایم ایچ یو اے اور جناب اے پی سوہنی، سکریٹری، میٹی اور مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے دیگر افسران بھی موجود تھے ۔ وزرات شہری امور کے کئی دوسرے ڈجیٹل اقدامات جیسے انڈیا اربن ڈیٹا ایکسچینج (آئی یو ڈی ایکس)، اسمارٹ کوڈ، اسمارٹ سٹیٹس 2.0 ویب سائٹ، اور جیو اسپیشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم، جی ایم آئی ایس کا بھی افتتاح کیا گیا۔ یہ اقدامات شہروں کو زیادہ خود کفیل بناکر اپنے شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے اور خدمات کی فراہمی کے اہل بنانے کے لیے تاکہ وزیر اعظم کے ڈجیٹل انڈیا اور آتم نربھر بھارت کے خواب کو سچ کیا جاسکے، دونوں وزارتوں کی جاری کوششوں میں شامل ہیں۔

 

قومی شہری ڈجیٹل مشن (این یو ڈی ایم)

 نیشنل اربن ڈجیٹل مشن (این یو ڈی ایم) شہری بھارت کے لیے مشترکہ ڈجیٹل بنیادی ڈھانچہ تشکیل دے گا، جو شہروں اور قصبوں کو مجموعی مدد فراہم کرنے کے لیے لوگوں، طریقہ کار اور پلیٹ فارم کے تین ستونوں پر کام کرے گا۔ یہ 2022 تک 2022 شہروں میں اور 2024 تک بھارت کے تمام شہروں اور قصبوں میں شہری حکمرانی اور خدمات کی فراہمی کے لیے شہری مرکوز اور ایکو سسٹم پر مبنی اپروچ کو اختیار کرے گا۔

این یو ڈی ایم ایک مشترکہ ڈجیٹل بنیادی ڈھانچہ تشکیل دے گا جن سے وزارت رہائش و شہری امور کے مختلف ڈجیٹل اقدامات مستحکم ہوسکیں گے، اور جن سے بھارت کے شہروں اور قصبوں کو ان کی ضروریات اورمقامی ضرورتوں اور چیلنجوں کے پیش نظر جامع اور متنوع مدد سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

این یو ڈی ایم شہری مرکوز، ایکو سسٹم اساس، اور ڈیزائن اور عمل دونوں میں اصول اساس ہے۔ این یو ڈی ایم نے حکمرانی کے اصولوں کا ایک سیٹ دیا ہے، اور قومی شہری جدت طرازی اسٹیک (این یو آئی ایس) سے تکنیکی ڈیزائن کے اصول اخذ کرتا ہے، جس کی اسٹریٹجی اور اپروچ وزارت کی جانب سے فروری، 2019 میں جاری کی گئی تھی۔ ان اصولوں سے نتیجتاً معیار، تخصصات اور اسناد پیدا ہوتی ہیں۔

انڈیا اربن ڈیٹا ایکسچینج (آئی یو ڈی ایکس)

 انڈیا اربن ڈیٹا ایکسچینج کو اسمارٹ اسٹیٹس مشن اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس بنگلورو نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ آئی یو ڈی ایکس اعداد و شمار فراہم کرنے والوں اور ڈیٹا صارفین کے لیے یو ایل بی، شہروں، شہری حکمرانی، اور شہری خدمات کی فراہمی سے متعلق ڈیٹاسیٹس کو شیئر کرنے، درخواست کرنے اور ان تک رسائی حاصل کرنے کے لیے صاف ستھرے انٹرفیس کا کام کرتا ہے۔ آئی یو ڈی ایکس ایک اوپن سورس سافٹ ویئر پلیٹ فارم ہے، جس میں مختلف اعداد و شمار کے پلیٹ فارمز، تیسرے فریق کی توثیق اور مجاز ایپلی کیشنز، اور دوسرے ذرائع کے درمیان ڈیٹا کی محفوظ توثیق، اور منظم تبادلہ ہوتا ہے۔ جیسے جیسے آئی یو ڈی ایکس پر شہروں کی تعداد بڑھے گی، ویسے ویسے پورے بھارت میں ڈیٹا پروڈیوسروں اور ڈیٹا صارفین کے مابین یکساں اور ہموار شیئرنگ ہوگی۔ آئی یو ڈی ایکس کو شہروں کے اندر اور اس ان کے مابین، ڈیٹا سائلوز کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ شہروں میں بڑی تعداد میں ڈیٹا تیار ہوتا ہے، جو حکومت کے اندر اور صنعت، تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی کے درمیان وسیع پیمانے پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ ان ڈیٹاسیٹس کے امتزاج سے تیزی سے جدت طرازی کے ساتھ ساتھ شہری ضروریات اور چیلنجوں کو بہتر طور سے سمجھنے اور منصوبہ بندی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ آئی یو ڈی ایکس ڈیٹا پروڈیوسروں یا مالکان کو اپنے ڈیٹا کو شیئر کرنے کے لیے ایک محفوظ اور قابل اعتماد چینل بخشتا ہے، جس کے ذریعے ڈیٹا شیئر کیا جاتا ہے اور سیکیورٹی اور رازداری سے متعلق تحفظات سے نمٹا بھی جاسکتا ہے۔

اسمارٹ کوڈ پلیٹ فارم

 اسمارٹ کوڈ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو ایکو سسٹم کے تمام اسٹیک ہولڈروں کو شہری حکمرانی کے لیے مختلف حلوں اور درخواستوں کے لیے اوپن سورس کوڈ کے ذخیروں میں اشتراک کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جن کا سامنا شہری مسائل سے نمٹنے میں ڈجیٹل ایپلی کیشنز کی ترقی اور تعیناتی کے دوران یو ایل بی کو کرنا پڑتا ہے۔ اس سے شہر اس بات کے اہل ہوسکتے ہیں کہ وہ شروع سے نئے حل تیار کرنے کے بجائے، مقامی کوڈز سے فائدہ اٹھائیں اور انہیں مقامی ضروریات کے مطابق بنائیں۔ اوپن سورس سافٹ ویئر کے ایک ذخیرہ کی حیثیت سے، پلیٹ فارم پر دستیاب سورس کوڈ بغیر لائسنس یا رکنیت کی فیس کے استعمال کیا جاسکے گا، اس طرح کوڈ کو کسٹمائز کرنے والوں اور مقامی طور پر متعلقہ حل تیار کرنے میں شامل افراد کے اخراجات کو کم کیا جاسکے گا۔

نیا اسمارٹ سٹیس ویب سائٹ 2.0 اور جی ایم آئی ایس

سمارٹ سٹی مشن کی کاوشوں اور کامیابیوں سے لوگوں سے بہتر طور پر رابطہ قائم کرنے اور یو ایل بی اور شہریوں کو ان کے کام سے متعلق وسائل تک رسائی آسان بنانے کے لیے اسمارٹ سٹی مشن کی ویب سائٹ کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ یہ ایک سنگل اسٹاپ کے طور پر کام کرسکے۔ جیو اسپیٹل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم جی ایم آئی ایس اس ویب سائٹ کے ساتھ مربوط ہے۔ ویب سائٹ سمارٹ سٹی مشن کے لیے ایک ونڈو ہب بناتی ہے۔ ایک پورٹل جو مشن کے تحت شروع کردہ تمام پلیٹ فارموں اور اقدامات کے گیٹ وے کا کام کرتا ہے۔ بغیر کسی رکاوٹ اور متحد انٹرفیس کے ذریعے، ویب سائٹ مشن سے متعلق تمام معلومات / اقدامات کو مختلف پلیٹ فارمز سے اکٹھا کرتی ہے اور عوامی صارف کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے خودکار مشن کے اپڈیٹ کو ظاہر کرتی ہے۔ ویب سائٹ کو انتہائی موثر مواصلات اور رسائی کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اسمارٹ سٹی مشن کے بارے میں چند باتیں

 2015 میں آغاز کیے جانے بعد سے اسمارٹ سٹی مشن نے اپنی کوششوں میں اہم پیش رفت کی ہے۔ اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ٹکنالوجی کے فوائد تمام شہریوں تک پہنچیں۔ پچھلے ایک سال کے دوران، مشن نے سمارٹ سٹیز کے منصوبوں کو زمینی سطح پر لانے کے لیے منصوبوں کی تکمیل پر زور دیتے ہوئے تیز رفتار پروجیکٹ پر عمل درآمد کی ہے۔ 21 فروری 2021 تک، اسمارٹ سٹی کے منظور شدہ منصوبوں کے مطابق، 205018 کروڑ کی مجموعی عہد بند سرمایہ کاری میں سے مشن کے تحت سمارٹ سٹیز نے 5445 منصوبوں کو ٹینڈر کیا ہے، جو 172425 کروڑ کی لاگت کے منصوبے ہیں اور 4687 منصوبوں کو ورک آرڈر جاری کیے ہیں جن کی لاگت 138068 کروڑ روپے ہے (مجموعی بجٹ کا 67 فیصد) اور 2255 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں (مجموعی کے 18 فیصد)۔

 مزید، 50 سے زیادہ اسمارٹ شہروں نے اپنے آئی سی سی سی کو کووڈ19سے نبرد آزما ہونے کے لیے مختلف سرکاری محکموں کے ساتھ تعاون کو ممکن بنایا۔ متعدد اسمارٹ شہروں میں مربوط ڈیش بورڈ تیار کیے گئے تھے تاکہ موثر فیصلہ سازی، کووڈ ہاٹ اسپاٹ اور طبی بنیادی ڈھانچے کی نگرانی، سامان اور خدمات کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا جاسکے اور لاک ڈاؤن کا انتظام سنبھالا جاسکے۔

 دیگر اقدامات 100 سمارٹ شہروں سے آگے جاچکے ہیں۔ معیار زندگی اور شہروں کی کارکردگی کی پیمائش کے لیے نتائج اور کارکردگی کی تشخیص کے فریم ورکز کو آسانی سے رہائشی اشاریہ اور میونسپل پرفارمنس انڈیکس کے ذریعے 114 شہروں میں ترتیب دیا گیا۔ 31 لاکھ سے زیادہ شہریوں نے سٹیزن پرسپیشن سروے میں شرکت کی۔

 اربن لرننگ اینڈ انٹرن شپ پروگرام، ٹولپ، کا مقصد یو ایل بی میں مواقع کا مقابلہ کرنا ہے جو نئے گریجویٹس کی سیکھنے کی ضروریات کے ساتھ منسلک ہے۔ 280 سے زیادہ یو ایل بی نے 14240 سے زیادہ انٹرن شپ پوسٹ کی ہیں۔ اب تک 932 طلبا انٹرن شپ سے کر رہے ہیں، اور 195 طلبا نے انٹرن شپ مکمل کرلی ہے۔

 شہروں کو مزید پائیدار اور لچک دار بنانے کے لیے، کلائمیٹ اسمارٹ شہروں کا تشخیصی فریم ورک (سی ایس سی اے ایف) کو 100 اسمارٹ شہروں میں تیار کیا گیا تاکہ شہروں کو ماحولیاتی تبدیلی کے چشمے سے شہری منصوبہ بندی اور حکمرانی کو دیکھنے میں مدد ملے، فی الحال دوسرے سال کا جائزہ جاری ہے۔ این آئی یو اے میں شہروں کے لیے موسمیاتی مرکز (سی 3) قائم کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انڈیا سائکلس فار چینج چیلنج، اسٹریٹ فار پیپل چیلنج، نرچرنگ نیبرہڈز چیلنج جیسے متعدد قومی چیلینج بھی نافذ کیے گئے ہیں۔

***

ش ح۔ ع ا۔ م ف

U. No. 1877



(Release ID: 1700645) Visitor Counter : 4


Read this release in: English , Marathi , Hindi , Telugu