کیمیکلز اور فرٹیلائزر کی وزارت

کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل شعبے کے لئے مثبت اور ترقی کی جانب مائل بجٹ

प्रविष्टि तिथि: 16 FEB 2021 1:57PM by PIB Delhi

دنیا کی  تیزی سے بڑھتی اقتصادیات میں یکساں حصہ داری کے لئے حکومت ہند نے ایک مضبوط کیمیکل اور پیٹروکیمیکل صنعت کا تصور کیا ہے۔ بھارت کیمیکل اور پیٹروکیمیکل کا مجموعی درآمد کار ہے، کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل کی گھریلو مانگ اور سپلائی کے فرق کو درآمد کے  ذریعہ پورا کیا جارہا ہے۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے کچے مال اور اوسط/ تیار مصنوعات کی اجرت  کے ڈھانچے میں تشہیر اور اصلاح کی ضرورت تھی۔اس مقصد سے گھریلو کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل صنعت کو عالمی سطح پر لاگت کے موافق مقابلہ آرائی اور خود کفیل بنانے کے لئے اسے اہم مالی مدد فراہم کی گئی ہے۔

کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل صنعت کی  کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل کی مصنوعات کے  معاملے میں عالمی سطح پر لاگت کے موافق مقابلہ آرائی کے لئے نیفتھا جیسے فیڈ اسٹاک پر درآمد ٹیکس میں کمی کا طویل عرصے  سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔حکومت نے بجٹ 2022-2021 میں طویل عرصے سے چلے آرہے  اس مطالبہ کا خیال رکھا ہے۔کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل صنعتی یونینوں نے اس مرکزی بجٹ کو مثبت اور ترقی کی جانب مائل بجٹ قرار دیا ہے۔

بنیادی ڈھانچے پر  بڑے پیمانے پر خرچ پر زور دینے سے  پالیمر اور مخصوص کیمیکل جیسے پیٹروکیمیکلز کی اضافی کھپت ہونے کا امکان بڑھا ہے، اس کے علاوہ زراعت پر مرکوز آبپاشی کے لئے اخراجات کو دوگنا کرتے ہوئے 10 ہزار کروڑ روپے جیسے طریقوں نے پالیمر پر مبنی سینچائی کی مصنوعات اور خدمات کے لئے ایندھن کی مانگ کو مزید بڑھا دیا۔

نئی موٹر اسکرپینگ پالیسی سے نئی اور اضافی گاڑیوں کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے پالیمر اور الیسٹومر کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔

طبی خدمات پر بڑھائے گئے اخراجات اور ٹیکہ کاری کے لئے اضافی فنڈ سے سرینج اور دیگر پالیمر پر مبنی طبی نگہداشت سے متعلق مصنوعات کی ضروریات کے ساتھ پالیمر کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔

عام طور پر پیٹرو کیمیکلز اور پالیمر کی ضرورت کو بڑھانے کے لئے سرکار کے ذریعہ اس شعبے کے بڑے پیمانے پر بڑھائے گئےاخراجات سے مقامی مانگ میں اضافہ ہوگا۔

کلیدی شعبوں کے لئے پی ایل آئی اسکیموں کے افتتاح سے ملک میں پیٹرو کیمیکل کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔ نشان زد کئے گئے شعبوں میں موبائل فون کی پیداوار، آٹو اور کل پرزے، طبی آلات، کپڑے کی مصنوعات وغیرہ جیسے 7 شعبے پیٹرو کیمیکل کا اہمیت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔اندازے کے مطابق1.41 لاکھ کروڑ روپے کے اخراجات سے پیٹرو کیمیکل صنعت کی ترقی کو بے حد مضبوطی ملے گی۔

سرکار نے کپڑا صنعت کے فروغ کے لئے ملک میں 7 بڑے ٹیکسٹائل پارک کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ دنیا اب بھارت کو کپڑے کی مصنوعات کے ذریعہ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔عالمی خریدار اب چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک سے ان مصنوعات پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے بھارت میں مصنوعات کا ذریعہ تلاش کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔ اس سے ان ٹیکسٹائل پارکوں میں مہیا کرائے گئے ہنر مند سپلائی سیریز اور بنیادی ڈھانچے کے ذریعہ قدروں کے سلسلے  کے ایک عنصر کے طور پر انسانوں کے ذریعہ تیار کردہ فائبر سمیت کپڑے کی قدر کے مکمل سلسلے کو تعاون حاصل ہوگا۔

سنتھیٹک صنعت نے کچے کپاس پر درآمد ٹیکس میں اضافے کا خیر مقدم  کیا ہے۔ جس سے کسانوں کو کپاس کی پیداوار پر بہتر اجرت حاصل ہوگی اور پڑوسی ممالک سے سستی درآمد کو بھی ختم کیاجاسکے گا۔چونکہ بھارت میں کپاس کا سرپلس ہے اور کپاس برآمد کرنے کے لئے اس کااستعمال گھریلو سطح پر کیاجاسکے گا۔

صنعتی دنیا نے ریشم اور ریشم کی مصنوعات پر بی سی ڈی اضافے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔سنتھیٹک صنعت ریشم کی مصنوعات کو سنتھیٹک فائبر سے باہر کی مصنوعات کی   طرح ریشم کی سپلائی کرکے ریشم مصنوعات کا متبادل تیار کرسکے گا۔

نیفتھا ٹیکس کو 4 فیصد سے گھٹا کر 2.5 فیصد کیا گیا؛ نیفتھا پر کسٹم ڈیوٹی کم ہونے کے نتیجے میں لاگت سے متعلق مقابلہ آرا اولیفن اور ایرو میٹکس کی دستیابی سے پٹاخوں کے استعمال میں بہتری آئے گی۔ کم لاگت والے نیفتھا سے بھی قیمتوں کے سلسلے میں پیٹرو کیمیکل ثالثی کے لئے ایتھلین اور پروپلین کی دستیابی کا ایک نیا راستہ کھلے گا اور اہم بنیادی پیٹرو کیمیکلز مصنوعات کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔

کاربن بلیک ڈیوٹی کو 5 فیصد سے بڑھا کر 7.5 فیصد کیا گیا؛ٹائر بنانے میں کاربن بلیک کا استعمال کیاجاتا ہے۔ آٹو موبائل صنعت کے فروغ سے کاربن بلیک کی نئی استعداد تیار ہوگی اور گھریلو صنعت کاروں کی صلاحیت میں بھی بہتری آئے گی۔

پالی کاربونیٹس ڈیوٹی پر 5 سے7.5 فیصد کااضافہ ہوا؛ اس کا استعمال شیٹر پروف ونڈو، ہلکے وزن کے چشمے کے لینس وغیرہ بنانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ترمیم شدہ محصول سے بھارت میں سرمایہ کاری کو متوجہ کیاجاسکے گا اور اس سے پالی ارتھینس اور مقامی صنعت کاروں کو مدد ملے گی۔

میتھلن  ڈیپنہل ڈائیسو سائنٹ(ایم ڈی آئی) پر ٹیکس کو صفر سے بڑھا کر 7.5 فیصد کیاگیا؛ اس کا استعمال کئی تجربوں، اسپان ڈیکس یارن وغیرہ کے لئے پالی یرتھین کی پیداوار میں کیاجارہا ہے۔ بھارت میں پالی یرتھین کی بڑھتی مانگ اور کوئی مقامی صنعت کار کی موجودگی نہ ہونے کی وجہ سے یہ ترمیم شدہ ٹیکس بھارت میں سرمایہ کاری کو متوجہ کرے گا اور اس شعبے میں سپلائی کو یقینی بنائے گا۔

اس شعبے سے وابستہ صنعتوں اور یونینوں نے ایک مثبت اور ترقی کی جانب مائل بجٹ کے لئے مرکزی وزیر خزانہ اور کیمیکل اور کھاد کے مرکزی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔

******

 

ش  ح ۔ق ت ۔ ر ض

U-NO.1644


(रिलीज़ आईडी: 1698615) आगंतुक पटल : 226
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Tamil , English , हिन्दी , Manipuri