سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

بھارت نقشہ-21ویں صدی

Posted On: 15 FEB 2021 12:48PM by PIB Delhi

نقشہ اور درست مقامی جغرافیائی اعداد و شمار  ندیوں کو جوڑنے، صنعتی کاریڈور بنانے اور اسمارٹ بجلی نظام کو نافذ کرنے جیسے قومی بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ ڈیجیٹل انڈیا، اسمارٹ سٹی، ای-کامرس خود کار ڈرون، سپلائی لاجسٹکس اور شہری ٹرانسپورٹ جیسی نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے لئے زیادہ گہری، انتہائی درست اور ٹھیک ٹھیک نقشہ کشی کی  کافی ضرورت ہے۔ زراعت سے لے کرمالیات، تعمیرات، کانکنی اور مقامی انٹرپرائز جیسی ہر اقتصادی سرگرمی کے لئے ان کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کے کسان، چھوٹے کاروباری اور کارپوریشن، جدید مقامی جغرافیائی اعداد و شمار ٹیکنالوجی اور میپنگ سروس  سے کافی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

 

جناب وزیراعظم نے اس بات پر غور کیا کہ ملک کے موجودہ اداروں نے میپنگ صنعت پر بہت سی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ نقشوں کی تیاری سے لے کران کی اشاعت تک کے کام میں ہندوستانی کمپنیوں کو نہ صرف لائسنس لینا پڑتا تھا، بلکہ پیشگی اجازت لینے کے پیچیدہ نظام پر عمل کرنا پڑتا تھا۔ ان انضباطی پابندیوں پر عمل کرنے میں اسٹارٹ اپس کو غیر ضروری پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس سےکئی دہائیوں سےاس شعبے میں  اختراعی عمل متاثر رہا۔

 

بھارت کے‘آتم نربھر بھارت’ نظریہ کو عملی جامہ پہنانے اور ملک کو 5 کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کےہدف کو حاصل کرنے کےلئے مقامی جغرافیائی اعداد و شمار اور میپنگ ضابطوں کو پوری طرح سے نرم بنانے کی ضرورت ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی محکمہ بھارت کی میپنگ پالیسی میں بڑے پیمانےخاص طور سےبھارتی کمپنیوں کےلئے اصلاحات  کو نافذ کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ عالمی سطح پر جو چیزیں فوری طور پر دستیاب ہیں، ان پر بھارت میں پابندی لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے پہلے  سے بندش شدہ مقامی جغرافیائی اعداد وشمار اب بھارت میں پوری طرح دستیاب رہیں گے۔ اس کے علاوہ اب سے ہمارے کارپوریشن اور جدت طراز نہ تو کسی پابندی کے تحت آئیں گے اور نہ ہی انہیں بھارت کی سرحد کے اندر کوئی بھی ڈاٹا  جمع کرنے، بنانے، تیار کرنے، اس کی اشاعت، اس کا ذخیرہ کرنے، پبلیکیشن اور ڈیجیٹل مقامی جغرافیائی اعدا د وشمار اور میپ اپڈیٹ کرنےسے پہلے کوئی پیشگی اجازت لینی ہوگی۔

 

ہمارے اسٹارٹ اپ اور میپنگ جدت طراز ازخود تصدیق کے ذریعے اپنی عقل کا استعمال کرکے اور ہدایات پرعمل کرتے ہوئے کام کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ یہ بھی تجویز کی جاتی ہے کہ جدید نقشہ سازی کی ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاکر کام کرنے والے مقامی جغرافیائی جدت طرازوں کے فروغ کی تدابیر کی جائیں گے۔ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں میپنگ ٹیکنالوجی کی اگلی جنریشن آنے کےلئے تیار ہے۔ اس پالیسی سے  ہندوستانی جدت طرازوں کو میپنگ کے شعبے میں خاطر خواہ ترقی کرنے اور بالآخر زندگی کو آسان بنانے نیز چھوٹے کاروباریوں کو بااختیار بنانے میں مدد ملے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں بھارت نقشہ سازی کی طاقت کے طور پر ابھرے، بھارت میں ملک میں ہی تیار اگلی پیڑھی کے نقشے تیار ہوں اور ہم اس نئی ٹیکنالوجی کو باقی دنیا  تک پہنچائیں۔

*************

( ش ح ۔ف ا۔  ک ا)

U. No. 1598



(Release ID: 1698327) Visitor Counter : 460