قبائیلی امور کی وزارت

قبائلی امور کی وزارت اور خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کی وزارت کے درمیان ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے گئے ہیں جس میں خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی چھوٹی صنعتوں کے لیے پی ایم ایف ایم ای اسکیم پر عملدرآمد کے سلسلے میں امتزاجی طریقہ کار کی تشریح کی گئی ہے

प्रविष्टि तिथि: 18 DEC 2020 7:48PM by PIB Delhi

نئی دہلی،18؍ دسمبر ،        قبائلی امور کی وزارت کے سکریٹری جناب دیپک کھنڈیلکر اور خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کی وزارت کی سکریٹری محترمہ پشپا سبرامینم نے آج ایک ’’مشترکہ اعلامیے ‘‘ پر دستخط کیے۔ خوراک کو ڈبہ بند کرنے کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر اور قبائلی امور کےمرکزی وزیر جناب ارجن منڈا اور خوراک کو ڈبہ بند کرنے کے وزیر مملکت جناب رامیشور تیلی کی موجودگی میں یہ دستخط کیے گئے۔مشترکہ اعلامیے میں خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کی وزارت کی  پردھان منتری فارمیلائیزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز (پی ایم ایف ایم ای)اسکیم پر عملدرآمد کے سلسلے میں ریاستوں کے امتزاجی طریقہ کار کی تشریح کی گئی ہے اور مرکزی وزارتوں اور ریاستی سطح پر ان کے متعلقہ محکموں کے رول  کی وضاحت کی گئی ہے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جناب نریندر سنگھ تومر نے ہا کہ حکومت متوازن اور شاندار ترقی کے اصول میں یقین رکھتی ہے۔ ایک طرف بہت چھوٹی اور چھوٹی صنعتوں کو اپنی ترقی کے لیے سرکاری امداد کی ضرورت ہوگی اور ساتھ  ہی ساتھ یہ حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ  سرکاری اسکیموں کے فائدے غریب ترین لوگوں تک پہنچیں۔ انھوں نے کہا کہ خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کی وزارت اس سمت میں بڑے اقدامات کر رہی ہے۔ آج جس مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے ہیں اس سے بہت چھوٹے خوراک کو ڈبہ بند کرنے کے کارخانے قائم کرنے کے لیے صلاحیت سازی میں مدد ملے گی اور ووکل فار لوکل کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔

اپنی تقریر میں جناب ارجن منڈا نے کہا کہ حکومت کی کوشش یہ ہے کہ وہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے اقدامات کرے۔ قبائلی علاقے خام مال اور قدرتی وسائل کے اعتبار سے  مالامال ہیں لیکن ان کے پاس کوئی پلیٹ فارم نہیں اور اپنی جنگلاتی مصنوعات کی پروسیسنگ کے لیے سلسلہ موجود نہیں ہے۔ اس مفاہمت نامے کی مدد سے اب یہ ممکن ہوسکے گا کہ قبائلی مصنوعات کی ڈبہ بندی ہو، انھیں ایک  منڈی والی شکل ملے اور وہ مناسب سلسلے کے ساتھ  جڑیں تاکہ مصنوعات ان لوگوں تک پہنچیں جنھیں ان کی ضرورت ہے۔ قبائلی امور کی وزارت سے وابستہ ٹریفیڈ اس پورے سلسلے میں اور قبائلی مصنوعات کی مارکیٹنگ کے سلسلے میں قریب سے وابستہ ہے۔ اور وہ  بہت چھوٹی خوراک کو ڈبہ کرنے کے کارخانوں کے قیام  کے لیے سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ دونوں وزارتوں کے درمیان مفاہمت نامے سے  ایس ٹی سی کے تحت مختلف مرکزی وزارتوں کو خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کی وزارت کی طرف سے جو فنڈ مختص کیے جاتے ہیں ان کے بہتر استعمال میں مدد ملے گی۔

خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کے وزیر مملکت جناب رامیشور تیلی نے کہا کہ اس مفاہمت نامے سے قبائلیوں کے لیے مارکیٹ پلیٹ فارموں کو مستحکم کیا جاسکے گا اور خوراک کی ڈبہ بندی کے عمل کو فروغ حاصل ہوگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001GMYA.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0029Y07.jpg

قبائلی امور کی وزارت  خوراک کو ڈبہ بند کرنے کے سیکٹر میں ، قبائلی کارخانوں  اور گروپوں کی (موجودہ اور بننے والے) کی نشاندہی کرے گی۔ اس میں  جنگل کی معمولی مصنوعات بھی شامل ہیں۔ قبائلی امور کی وزارت ریاست، ضلع اور فیلڈ سطح کے اسٹاف کے ذریعے نشان زد فیض یافتگان کی تربیت اور صلاحیت سازی کا کام انجام دے گی۔  جن کی تشریح پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے تحت کی گئی ہے۔

قبائلی امور کی وزارت قبائلیوں کی فلاح وبہبود کے لیے نوڈل وزارت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ دیگر 37 وزارتیں  اور بھی ہیں جنھیں اپنے بجٹ کی ایک مخصوص فیصد رقم قبائلیوں کی فلاح وبہبود کے لیے  قبائلی ذیلی منصوبے یا شیڈول ٹرائیب کمپونینٹ (ایس ٹی سی) کے تحت نیتی آیوگ کے ذریعے ڈیزائن کردہ طریقہ کار کے تحت خرچ کرنی پڑتی ہے۔ نیتی آیوگ اور قبائلی امور کی وزارت اس طرح کی وزارتوں کے ایس ٹی سی حصے کا باقاعدہ جائزہ لیتی رہتی  ہیں۔ یہ جائزہ اس اختیار کے تحت لیا جاتا ہے جو قبائلی امور کی وزارت کو 2017 میں دیا گیا تھا۔ خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کی وزارت اور قبائلی امور کی وزارت کے درمیان موجودہ تال میل سے پورے ملک میں درج فہرست قبیلوں کی سماجی اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی اور ایس ٹی سی طریقہ کار کو استحکام حاصل ہوگا۔

***************

م ن۔ اج ۔ ر ا   

U:8222      


(रिलीज़ आईडी: 1681941) आगंतुक पटल : 148
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Punjabi