امور داخلہ کی وزارت

ایس ڈی جی پر چوتھا جنوبی ایشیا فورم

جنوبی ایشیا میں آفات اور موسمیاتی لچیلے پن پر خصوصی اعلیٰ سطحی تقریب

امور داخلہ کے وزیر مملکت جناب نتیانند رائے نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو آفات اور عوامی صحت کو درپیش چیلنجوں پر قابو پانے میں تعاون کے لئے ایک مضبوط شراکت داری پر مبنی لائحۂ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے

اس خطے میں ہماری ذمے داری ہے کہ ہم نہ صرف اپنے آفات کے متعلق خطرات کو کم کریں بلکہ اس میں علاقائی تعاون اور باہمی مدد کو بھی فروغ دیں: جناب نتیانند رائے

Posted On: 04 DEC 2020 6:21PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  4/دسمبر 2020 ۔ پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کے چوتھے جنوب ایشیائی فورم کے پس منظر میں یو این ای ایس سی اے پی جنوبی ایشیا اور بحر الکاہل نے آج جنوبی ایشیا میں آفات اور موسمیاتی لچیلے پن کے موضوع پر ایک خصوصی مذاکرے کا ورچول طریقے سے انعقاد کیا۔ اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کا اصل مقصد آفات اور عوامی حفظان صحت سے متعلق خطرات کے بندوبست کے لئے مربوط نقطہ نظر کے نفاذ میں درپیش چیلنجوں کو دور کرنے کے لئے مواقع اور لزوم کی نشان دہی کرنا تھا۔  اس کے علاوہ دوسرے مقاصد میں، مستقبل کی بڑھتی ہوئی آفات کے لئے کثیر خطراتی اور کثیر شعبہ جاتی تیاری نظامات وضع کرنے کے لئے ایس ڈی جی سے متعلق جنوب ایشیائی فورم سمیت موجودہ علاقائی اور ذیلی – علاقائی تعاون نظام کا فائدہ اٹھانے کے لئے حکمت عملی تیار کرنا شامل تھا۔

امور داخلہ کے وزیر مملکت جناب نتیانند رائے نے حاضرین سے خطاب کیا۔ میٹنگ سے خطاب کرنے والے دیگر پینالسٹ میں جناب قاسم حیدری، نائب وزیر، اسلامی جمہوریۂ افغانستان؛ محمد انعام الرحمان، وزیر مملکت، بنگلہ دیش؛ محترمہ خدیجہ نسیم، نائب وزیر، مالدیپ؛ جناب ملک امین اسلم خان، حکومت پاکستان کے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر کے نام شامل ہیں۔ پروگرام میں افتتاحی خطبہ اقوام متحدہ کی اَنڈر سکریٹری – جنرل اور ای ایس سی اے پی کی ایگزیکٹیو سکریٹری محترمہ ارمیدہ سالسیہ الیس جہبانا نے دیا۔

اپنی تقریر میں امور داخلہ کے وزیر مملکت جناب نتیانند رائے نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک سیلاب، گردابی طوفان، گرم لہروں، سرد لہروں، تودے کھسکنے اور خشک سالی کے ساتھ ساتھ کووڈ-19 کی وبا اور اس سے صحت یاب ہونے کی کوششوں جیسے انتہائی درجے کے موسمیاتی چیلنجوں کا سامنا کررہے ہیں۔ عوامی حفظان صحت سے متعلق امور جنوبی ایشیا کے سبھی ممالک کے لئے ایک اضافی چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہمیں ایک دوسرے کی مدد کے لئے ایک مضبوط معاونتی ڈھانچہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا سنگل - یوز پلاسٹک (ایک ہی بار استعمال آنے والے پلاسٹک) کے مسئلے کے تدارک کے تئیں سوچ، 2030 تک انحطاط زدہ زمین کے 26 ملین ہیکٹیئر میں جنگلاتی علاقے کی توسیع کرنے، اس میں بہتری لانے اور اس کی بازیابی سے متعلق تفصیلی پروگرام پہلے سے ہی مثبت نتائج دینے لگا ہے اور بھارت ایک ہمہ رخی معیشت کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔

جناب رائے نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم نے لچیلے بنیادی ڈھانچے کے لئے اتحاد کی پہل کی اور 23 ستمبر 2019 کو نیو یارک شہر میں منعقدہ اقوام متحدہ کلائمیٹ ایکشن سمٹ 2019 میں آفات مخالف بنیادی ڈھانچے کے لئے عالمی اتحاد (سی ڈی آر آئی) کا اعلان کیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ بھارت سارک آفات بندوبست مرکز کی میزبانی بھی کررہا ہے اور یہ سارک (ایس اے اے آر سی) نیز بمسٹیک (بی آئی ایم ایس ٹی ای سی) کے رکن ممالک کی یونیورسٹیوں کے ساتھ اشتراک سے کام کرتا ہے۔ موجودہ کووڈ-19 کی وبا دن دونی رات چوگنی کی رفتار سے علاقے کی نازک صورت حال کو مزید بڑھا رہی ہے۔ لہٰذا اس خطے میں ہم سب کی یہ ذمے داری ہے کہ ہم نہ صرف خود کو درپیش خطرات میں کمی لائیں بلکہ آفات کے پہلے، اس کے دوران اور اس کے بعد کے حالات سے نمٹنے کے لئے علاقائی تعاون اور باہمی معاونت کو فروغ دیں۔

جناب رائے نے جنوبی ایشیا کو ایک لچیلا خطہ اور بود و باش کے لئے ایک پرامن مقام بنانے میں علاقائی تعاون کے تئیں بھارت کی عہد بستگی کی توثیق کی۔ انھوں نے ستمبر – اکتوبر 2020 میں سارک اور بمسٹیک کے ساتھ تیزی سے بڑھتے آفات کے خطرات کے بندوبست کے لئے ایک مشترکہ ورکشاپ کے انعقاد کے لئے این آئی ڈی ایم اور ای ایس سی اے پی علاقائی دفتر کو بھی مبارک باد دی۔

 

******

م ن۔ م م۔ م ر

U-NO. 7830

04.12.2020



(Release ID: 1678481) Visitor Counter : 16