بجلی کی وزارت

گرین چار کول ہیکاتھون کے آغاز کے موقع پر جناب آر کے سنگھ نے کہا: یہ ہیکاتھون ہمارے کاربن کے نقوش کو کم کرنے کی جستجو میں ایک اختراع ہے

این ٹی پی سی لمیٹیڈ اور این وی این این فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے خدشات اور تشویشات کے لئے سبز حل تلاش کرنے کی سمت کام کرتے ہیں

Posted On: 01 DEC 2020 7:13PM by PIB Delhi

نئی دہلی،1دسمبر 2020/بجلی اورنئی قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر مملکت  (آزادانہ چارج)جناب آر کے سنگھ نے  اپنے خطاب میں کہا کہ  ہندستان کاربن کے اخراج کوکم کرنے  اور ساز گار ماحول کو فروغ دینے کے لئے  ٹکنالوجی کےنظریے کے ساتھ کام کرتا ہے۔  این ٹی پی سی لمیٹیڈ کی مکمل  ملکیت والے  معاون کمپنیوں  این وی وی این (این ٹی پی سی ودیوت ویپار نگم ) نے آج گرین چارکول ہیکاتھون لانچ کیا۔

ٹکنالوجی کی ترقی کو تیز رفتار   ٹریک کرنے کے لئے ، ای ا ای ایس ایل کے ساتھ شراکت داری میں  این وی وی این، نے ٹکنالوجی چیلنج کو گرین چارکول ہیکاتھون  کا نام   دیا ہے۔ اس کے انعقادکا مقصد تکنیکی خلا کو  پُر کرنے کے لئے جدید ہندستانی  دماغ کا  فائدہ اٹھانا ہے، کھیتی  کی آگ کو ختم کرنے ہوا کو صاف کرنے، زرعی باقیات سے  قابل تجدید توانائی پیدا کرنا، مقامی صنعتوں کو فروغ دینا اور کسانوں کی  آمدنی میں اضافہ کرنا اہم مقصد ہے۔

 اس موقع پر اپنے خطاب میں جناب آر پی سنگھ نے کہا کہ، ’’ہیکاتھون اختراع کے جذبے کو ظاہر کرتا ہے، جو این ٹی پی سی نے سمایا ہواہے۔  کسی بھی تنظیم کے پاس  فروغ اور خوشحالی  کے لئے جدیدیت اور اختراع کا جذبہ  ہونا ہی چاہئے، نہیں تو وہ معدوم ہوجائے گا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا  کہ این ٹی پی سی انتظامیہ نے  اپنے تمام  نوجوان انجینئروں کو بتایا کہ ہے  اختراع اور نئے خیالات اور سوچ کی یہاں  حوصلہ افزائی کی جاتی ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہاکہ، ’’ یہ (ہیکاتھون) ہمارے کاربن  قدموں کے نشان  کو کم کرنے میں بھی ایک اختراع ہے۔ اس نظریے سے ہیکاتھون حصہ لے رہے تمام شراکت داروں مقابلہ کرنے والوں یہ بات  ذہن میں رکھنی چاہئے کہ  زرعی باقیات  کو چارکول یا  لکڑی کے کوئلے میں  بدلنے کے عمل میں   اخراج نہیں ہونا چاہئے۔ دوسری بات  جب بہت اہم ہے ، وہ یہ ہے کہ  یہ ایک  کمرشیل ماڈل  ہے، جو  مشین اور لکڑی کا کوئلہ  پیدا کرنے ، دونوں کی لاگت پر منحصر کرے گا۔ مجھے یقین ہے کہ  ہم ایک ایسی مشین لے کر آئیں گے   جو کفایتی ہوگی ۔ کاربن فوڈپرنٹس کو کم کرنے کی سمت میں  این ٹی پی سی کو  اوررینٹیشن کو دیکھ کر میں بہت خوش ہوں‘‘۔

 بجلی کے ایڈیشنل سکریٹری  اشیش اپادھیائے نے کہا،  این ٹی پی سی گروپ کو  کاربن  سے علیحدہ  معیشت کے انتظام کے لئے مربوط اور اسمارٹ  حلوں پر  توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ  این ٹی پی سی ٹکنالوجی کو کامیابی کے ساتھ نافذ کرنے  اور اس کو کمرشیلائز کرنےمیں اہل ہوگی وہ کسانوں، ماحول کے ساتھ  سماج کو بھی  فائدہ پہنچائے گی۔

این ٹی پی سی لمیٹیڈ کے  سی ایم  ڈی جناب گردیپ سنگھ، نے کہا  ’’بجلی پلانٹ کوئلے کو سب سے بڑے  صارف ہیں۔ عام طور پر  ایک ہزار میگاواٹ کا پلانٹ  سالانہ  تقریباً 5ملین ٹن کوئلے کی کھپت کر تا ہے۔ ہندستان میں کوئلے پر مبنی  کل بجلی  پیداواری صلاحیت تقریباً دو لاکھ میگاواٹ ہے جو اصولی طور سے    سالانہ تقریباً ایک ہزار ملین ٹن   کوئلہ کی کھپت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر دس فی صد   سبز چارکول لکڑی کے کوئلے سے تبدیل کردیاجائے  تو اس ایندھن کے  سو ملین ٹن کی مقدار  ہوگی، جس کے لئے تقریباً  160 ملین ٹن زرعی باقیات اور  میونسپل   کچرے  (60 فی صد پیداوار پر غور کرنا) کی ضرورت ہوگی،  جو ملک میں تمام  بیکار زرعی باقیات  کو نمٹانے  کے لئے  کافی ہے اور اس طرح  کھیت  کی آگ کو ختم  کرنے میں  اور تقریباً 20 ہزار میگاواٹ  قابل تجدید توانائی   سالانہ  پیدا کرنے میں   مددملے گی اور  سالانہ   50 ہزار کروڑروپے  کا محصول حاصل کیاجاسکتا ہے۔

اس ہیکاتھون کا افتتاح  بجلی کے محکمے کے  ایڈیشنل ڈائریکٹر  جناب  اشیش اپادھیائے،   این ٹی پی سی لمیٹیڈ کے سی ایم ڈی  جناب گردیپ سنگھ ، این وی وی این بجلی کی وزارت، این ٹی پی سی لمیٹیڈ سی ای او جناب  مہت بھارگھو اور  ای ای ایس ایل لمیٹیڈکے دیگر سینئر افسران  نے  مشترکہ طور پر کیا۔

مقامی کسانوں کے ذاریعہ فصل کٹائی کے بعد بچی ہوئی جڑوں اور زرعی باقیات کو  جلانے کی وجہ سے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی  ملک کے لئے  ایک بہت بڑی  تشویش کا موضوع بن گیا ہے۔ نتیجتاً ، این وی وی این  زرعی کچرے کو ایک ایسی شکل میں تبدیل کرنے کے لئے ٹکنالوجی  کی تلاش کررہا ہے  جو کہ گرین چارکول ہیکاتھون کی شکل میں بجلی پلانٹس میں  استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایسا ہی ایک متبادل ہے جو زرعی باقیات کو  سبزچار کول میں  تبدیل کرتا ہے۔

زرعی باقیات کا استعمال کرکے ٹورفیڈ ایندھن  بنایا جاتاہے۔جس کی تکنیک  درآمد مشینوں کی اونچی لاگت ہونا  مینوفیکچرر کی کمی  کے سبب  زیاد ہ ہوجاتی ہے۔ اور یہ  چھوٹے صنعت سازوں کے لئے  آسانی سے دستیاب نہیں ہیں۔ ہندستان میں  ایک بار  زرعی باقیات  بائیو ماس کا استعمال کرکے  ٹوریفیڈ ایندھن  پیدا کرنے  کی تکنیک  کے فروغ سے  چھوٹے صنعت سازوں کو مشینی ایندھن آسانی سے   دستیاب کیا جاسکے گا۔

حصہ داروں کو ترغیب دینے کے لئے تین زمروں میں آئی این آر 24 لاکھ تک کے   کے نقد انعاموں کا  پرویژن  رکھا گیا ہے، یعنی   یہ  اس طرح ہیں:

  1. زمرہ-1، ٹوریفیڈ بائیو ماس چھروں کے  یومیہ  سو کلو گرام کی  پیداوار  کے لئے ٹکنالوجی
  2. زمرہ-2، ، ٹوریفیڈ بائیو ماس چھروں کے  یومیہ  ایک ہزار  کلو گرام  کی پیداوار  کے لئے ٹکنالوجی
  3. زمرہ-3 ، ٹوریفیڈ بائیو ماس چھروں کے  یومیہ  دس ٹن کی پیداوار پیداوار  کے لئے ٹکنالوجی

 

م ن۔ ش ت۔ج

Uno-7721



(Release ID: 1677567) Visitor Counter : 4