سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت

یوم آئین تقریبات آج سے شروع؛ صدر جمہوریہ نے گجرات کے کیوڑیا میں دو روزہ ’آل انڈیا پریزائیڈنگ آفیسرز‘ کانفرنس کا افتتاح کیا


صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ اور لوک سبھا کے اسپیکر نے تقریب کے پہلے دن خطاب کیا

Posted On: 25 NOV 2020 5:47PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 25 نومبر 2020: بھارت کے آئین کو اختیار کرنے کے موقع پر ہر برس 26 نومبر کو ’یوم آئین‘ منایا جاتا ہے، جسے ہم سنویدھان دیوس بھی کہتے ہیں۔ اس موقع پر ہر برس منعقد ہونے والی تقریب کے حصے کے طور پر، آئین میں پنہاں اقدار اور اصولوں کو اجاگر کرنے اور اعادہ کرنے کے مقصد سے متعدد تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

سال 2020 کی یوم آئین تقریبات کے ایک حصے کے طور پر گجرات کے کیوڑیا میں دو دوزہ ’آل انڈیا پریزائیڈنگ آفیسرز‘ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس کانفرنس کا افتتاح آج صدرجمہوریہ جناب رام ناتھ کووِند کے ذریعہ کیا گیا۔ نائب صدر جناب ایم وینکیا نائیڈو اور لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے بھی آج منعقد ہوئی کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس سال کی کانفرنس کا موضوع ہے ۔ ’’مقننہ، اگزیکیوٹیو اور عدلیہ کے درمیان ہم آہنگی کا قیام ۔ فعال جمہوریت کے لیے اہم‘‘

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووِند نے کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ایک پارلیمانی جمہوریت میں، برسراقتدار پارٹی کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ، اچھی جمہوریت میں دونوں کے درمیان، ہم آہنگی، تال میل اور صحت مند بحث و مباحثہ ازحد ضروری ہوتا ہے۔ ایوان میں عوامی نمائندگان کو صحت مند بحث کرنے اور نرم لہجے میں بات چیت اور بحث کو فروغ دینے کے لئے ذمہ داران کو ماحول فراہم کرنے کی ذمہ داری پرازائیڈنگ افسران کی ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں میں عوام الناس کی امیدوں، آرزؤں اور بیداری میں اضافہ رونما ہوا ہے، اس لیے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کا کردار اور ذمہ داریوں کی جانب اور زیادہ توجہ مرکوز ہوئی ہے۔ عوام الناس کے نمائندگان سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ جمہوریت کے اصولوں کے تئیں ہمیشہ ایماندار رہیں۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ جمہوری اداروں اور عوامی نمائندگان کے سامنے سب سے بڑی چنوتی عوام کی امیدوں پر کھرا اترنا ہے۔

نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جناب ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ تینوں اعضاء یعنی مقننہ، اگزیکیوٹو اور عدلیہ کو ایک دوسرے کے حقوق کی حدود کا خیال کرتے ہوئے ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہئے۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ’’میں پریزائیڈنگ افسران کو جمہوریت کے مندر کا سب سے بڑا پجاری کہنا پسند کرتا ہوں۔ آپ سبھی حضرات جمہوریت کے اس مندر کے اندر پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لئے از حد اہم ہیں۔‘‘

لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے کہا کہ ’’یوم آئین ہمارے آئین میں شامل فرائض کی عکاسی کرنے اور ہمارے عظیم قائدین کے ذریعہ دکھائے گئے راستے پر چلنے کا عزم لینے کا دن ہے۔ ہم سبھی ملک کے شہریوں کی فلاح و بہبود، افکار، امیدوں اور آرزؤں کے لئے کھڑے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگان کو آئین میں پنہاں اقدار کے تئیں ایماندار رہتے ہوئے ہی اپنے فرائض کو انجام دینا چاہئے۔

اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب وجے روپانی نے متحد بھارت کی تعمیر میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے ذریعہ ادا کیے گئے کرشمائی کردار کو یاد کیا۔ انہوں نے گجرات سے آئین ساز اسمبلی رکن کے طور پر کنیہا لال منشی کا اور ہنسا مہتا کے ذریعہ آئین کی تیاری میں ادا کی گئی ذمہ داری کا بھی ذکر کیا۔

وزارت برائے اطلاعات و نشریات، میڈیا بیورو آؤٹ ریچ کمیونی کیشن اور پارلیمنٹری میوزیم اور آرکائیوز کے تعاون سے پریزائیڈنگ افسران کی کانفرنس میں ایک ملٹی میڈیا نمائش قائم کی گئی ہے۔ اس نمائش میں ہمارے ملک میں جمہوری روایات کے سفر کے بارے میں بتایا گیا ہے، جو ویدک دور سے ہوتی ہوئی لچھوی دور سے لے کر جدید جمہوری اقدار کے حامل بھارت کی تعمیر تک ہے۔

اس سے قبل آج سماجی انصاف اور اختیارکاری  کے وزیر ڈاکٹر تھاور چند گہلوت نے نئی دہلی میں یوم آئین کے موقع پر ایک منفرد ڈوکیومنٹری ’’السٹریشن اینڈ کالیگرافی اِن دی کانسٹی ٹیوشن آف انڈیا‘‘ جاری کی۔ یہ آئین میں درج متعلقہ حصوں کے ساتھ استعمال شدہ مختلف تصاویر کی معنویت کا حوالہ دیتے ہوئے تیار کی گئی ایک ڈوکیومنٹری ہے۔ سماجی انصاف اور اختیارکاری کا شعبہ ان تقریبات کے درمیان تال میل بنانے کے لئے نوڈل شعبہ کے طور پر کام کر رہا ہے۔

یوم آئین تقریب کا ایک اہم حصہ آئین کی تمہید کو پڑھنا بھی ہے جس سے جمہوری نظریہ کو بنائے رکھنے کے ہمارے عزم کا اعادہ ہوتا ہے اور اس کی قیادت صدر جمہوریہ 26 نومبر کو صبح 11 بجے کریں گے۔ سبھی وزارتوں اور شعبہ ہائے جات، حکومت ہند اور خودمختار انجمنوں، ضمنی دفاتر، تعلیمی اداروں سمیت متعلقہ تنظیموں اور اداروں کو ایک ساتھ اس تمہید کو پڑھنا ہوگا۔

67 وزارتوں، شعبوں اور تنظیموں نے ویبنار، نمائشوں، مضامین مقابلہ، پوسٹر مقابلہ ، سوالات مقابلہ ، نعرہ مقابلہ ، علاقائی ویبنار، ای ۔ بینر، ڈجیٹل نمائش اور بات چیت کے پروگرام، ویڈیو اور آڈیو اسپاٹ، اخبارات میں مضامین کی اشاعت سمیت 200 سے زائد سرگرمیوں کا انعقاد کیا۔ شہریوں کے بنیادی فرائض پر بات چیت بھی ان میں شامل ہے۔

**********

م ن۔ا ب ن

U-7557


(Release ID: 1676041) Visitor Counter : 261


Read this release in: English , Hindi , Punjabi , Tamil