مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت

پردھان منتری آواس یوجنا ۔ اربن  (پی ایم اے وائی۔ یو) کے تحت  ایک ضمنی اسکیم سستے کرائے کے مکانات  کے کمپلیکسز  (اے آر ایچ سی ایس) سرکاری / پرائیویٹ اداروں کے ذریعہ نافذ کی جائے گی

प्रविष्टि तिथि: 22 SEP 2020 5:47PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،  22  ستمبر 2020،           مکانات اور شہری امور کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب ہردیپ سنگھ پوری نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری  جواب میں بتایا کہ پردھان منتری آواس یوجنا ۔ اربن  (پی ایم اے وائی۔ یو) کے تحت  ایک ضمنی اسکیم سستے کرائے کے مکانات  کے کمپلیکسز  (اے آر ایچ سی ایس) سرکاری / پرائیویٹ اداروں کے ذریعہ موجودہ  سرکاری فنڈ سے تعمیر ہونے والے خالی کمپلیکسز  اے آر ایچ سی میں تبدیل کرکے یا ان اکی اپنی دستیابی خالی زمین پر اے آر ایچ سی کی تعمیر کرتے، اس کو چلاتے اور رکھ رکھاؤ کرتے ہوئے نافذ کی جائے گی۔

یہ اسکیم آتم نربھر بھارت کے  وژن کے مطابق  شہری مہاجروں / غریبوں کے لئے سستے کرائے کے مکانات کے ایک پائیدار ایکو سسٹم  کی  تشکیل کے لئے  تیار کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت پبلک /پرائیویٹ پارٹنر شپ کو تحریک دینے کے مقصد سے  حکومت ہند اور  ریاست/ مرکز کے زیر انتظام خطے کی حکومتوں  کے ذریعہ درج ذیل تراغیب / فائدے پہنچانے کی تجویز ہے :

  1. اے آر ایچ سی چلانے سے حاصل شدہ منافع یا فائدے پر  انکم ٹیکس سے  اسی طرح کی چھوٹ  دی جائے گی جیسی کہ انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کی دفعہ 80 ۔ آئی بی  اے کے تحت  سستے مکانات کے لئے دی جاتی ہے؛
  2. اے آر ایچ سی چلانے سے حاصل شدہ منافع یا فائدے پر جی ایس ٹی سے  اسی طرح کی چھوٹ  دی جائے گی جس طرح نوٹی فکیشن نمبر 12/ 2017۔ سینٹرل ٹیکس (ریٹ)  بتاریخ 28 جون 2017 کے ذریعہ  رہائشی مکانات کی  کرائے کی خدمات پر دی جاتی ہے ؛
  3. پروجیکٹ کے لئے مالی بندوبست / قرض   ہاؤسنگ فائننس کمپنیوں (ایچ ایف سی) اور  کمرشیل بینکوں کےذریعہ پرایورریٹی سیکٹر لینڈنگ (پی ایس ایل) کے ذریعہ سستے  مکانات  کے فنڈ (اے یف) کے تحت رعایتی ونڈو کے ذریعہ سود کی کم شرح پر ؛
  4. ضرورت پڑنے پر خالی زمین پر مکانات کے لئے  ’’استعمال کی اجازت‘‘ میں تبدیلی کا التزام؛
  5. پچاس فیصد اضافی فلور ایریاتناسب (ایف اے آر) / فلور اسپیس انڈیکس (ایف ایس آئی) بلا معاوضہ؛
  6. ڈیزائن/  ڈرائنگ اور  دیگر قانونی  ضابطوں 30 دن کے اندر سنگل ونڈو منطوری؛
  7. ادارے کے لئے  بغیر کسی اضافی لاگت کے ضروری  ٹرنک بنیادی ڈھانچے کے سہولتیں مثلاً سڑک ، سنیٹیشن خدمات، پانی ، سیوریج/ سیفٹیج،  ڈرینیج، بجلی وغیرہ۔ پروجیکٹ سائٹ تک پہنچائی جائیں گی۔
  8. اے آر  ایچ سیز چلانے کے لئے  میونسپل خدمات مثلاً پانی کی سپلائی، بجلی، ہاؤس/ پروپرٹی ٹیکس، سیوریج/ سیفٹیج چارج وغیرہ رہائشی پروجیکٹوں کے برابر ہی لیا جائے گا۔
  9. اے آر ایچ سیز  کے لئے  کم قیمت والے  تیز رفتار اور معیاری تعمیر میں معاون بلڈنگ میٹیریل کے ساتھ ساتھ  اختراعی ، پائیدار ، گرین اور آفات کے   مقابلے کی صلاحیت والی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے لئے مکانات اور شہری امور کی وزارت کے ذریعہ  ٹیکنالوجی انوویشن گرانٹس (ٹی آئی جی) کی شکل میں  اضافی گرانٹس۔   اسکیم کے رہنما خطوط کے مطابق سنگلز بیڈ روم کے لئے فی مکان   60000 روپے،  ڈبل بیڈ روم کے لئے  فی مکان ایک لاکھ روپے اور ڈورمیٹری بیڈ  (فی بیڈ)کے لئے  20000 روپے  کی  ٹی آئی جی دی جائے گی۔

اے آر ایچ سی کے  استفادہ کنندگان  میں معاشی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس)/ کم آمدنی والے گروپ (ایل آئی جی) سے تعلق رکھنے والے  شہری مہاجر / غریب  شامل ہوں گے۔ ان میں  مزدور، شہری غریب (خوانچہ فروش، رکشا چلانے والے، دیگر خدمات فراہم کرانے والے وغیرہ)،  صنعتئ ورکر اور  بازار / تجارتی ایسو سی ایشنوں ، تعلیمی / صحت  اداروں، ہاسپٹیلیٹی سیکٹر میں کام کرنے والے مہاجر ، طویل مدتی سیاح/ وزیٹر، طلبا یا ایسے ہی زمرے کے دیگر افراد شامل ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

م ن۔  ا گ۔ن ا۔

U-5737

                          


(रिलीज़ आईडी: 1657910) आगंतुक पटल : 137
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , Telugu