دیہی ترقیات کی وزارت

گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں کے شروع کرنے کے لئے گاؤں کی غریبی کو کم سے کم کرنے کی اسکیم تیار کرنے کے لئے ملک بھر کے سیلف ہیلپ گروپس کو اہل بنایا جارہا ہے

Posted On: 09 SEP 2020 4:54PM by PIB Delhi

نئی دہلی،9ستمبر  2020/آئین کی دفعہ 243 جی کا مقصد معاشی ترقی اور سماجی  انصاف کے لئے  مقامی  منصوبہ بندی  کے نفاذ کے لئے  شیڈول  میں  درج تمام  29 موضوعات کے سلسلہ میں ریاستی حکومتوں کو  بااختیار اور حقوق منتقل کرنے کے لئے گرام پنچایتوں (جی پی ) کو مستحکم  کیا جارہا ہے۔ مقامی اداروں یاپنچایتوں (جی پی) دیہی ہندستان کی شکل کو تبدیل کرنے کے لئےقومی اہمیت  کےموضوعات پر  عمل منصوبوں کے  موثرنفاذ میں  عمل رول نبھاتے ہیں۔ 2015میں ، 14ویں مالی  کمیشن کی  گرانٹس جی پی کو منتقل کی گئیں جنہوں نے انہیں  خود اپنے فروغ کے لئے منصوبہ بنانے کے لئے  عظیم  مواقع  دستیاب کرائے۔  تب سے  ملک  بھر میں مقامی باڈیز  سے  خصوصی تناظر میں، ضرورت پر مبنی  گرام پنچایت  ترقیاتی منصوبے تیار کرنے کی امید کی جاتی ہے۔

گرام پنچایت  ترقیاتی منصوبے (جی پی ڈی پی) شہریوں اور ان کے منتخبہ  عوامی نمائندوں دونوں کو ہی  ڈی سینٹرلائزڈ عملوں میں ایک ساتھ لاتا ہے۔   جی پی ڈی پی  سے ترقیاتی  امور ، محسوس کی گئی ضرورتوں اور حاشیہ پر طبقے لوگوں سمیت معاشرہ کی ترجیحات کو حدوں  کو کہنے کی امید کی جاتی ہے۔ بنیادی ڈھانچوں اور خدمات ،  وسائل کے فروغ  اور محکمہ جاتی  منصوبوں کے  آخر کار  انتظام سے متعلق مانگ کے علاوہ،  جی ڈی پی میں سماجی امور کے  حل کرنے کی صلاحیت ہے۔  شہری منصوبہ  بینک  مہم (پی پی سی) کے تحت  ملک بھر میں  ہر سال دو اکتوبر سے 31 دسمبر تک جی پی ڈی پی) کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

گزشتہ دوبرسوں کے دوران ، پی پی سی  رہنما ہدایات  اور پنچایتی راج  وزارت نیز یہی ترقی کی وزارت کے ذریعہ مشترکہ طور سے جاری مشوروں میں سیلف ہیلپ گروپوں  اور دین دیال  انتودیے  یوجنا –قومی دیہی  گذر بسر  یعنی  روزگار مشن (ڈی اے وائی) ایم آر ایل ایم) کے تحت ان کو سالانہ  جی پی ڈی پی  منصوبہ بندی عمل میں  حصہ لینے اور دیہی غریبی کو کم سے کم  کرنے والی اسکیم ( جی پی آر پی) تیارکرنے کے لئے احکامات جاری کئے ہیں۔ وی  پی آر پی  سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی پی) نیٹ ور ک اور  ان کے  ایسوسی ایشنوں کے ذریعہ انکی مانگوں اور مقامی  علاقوں کی ترقی ، جن کا تصور کرنے کے لئے گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں (جی پی ڈی پی)  کے ساتھ شروع کئے جانے کی ضرورت ہے، کے ذریعہ تیار ایک وسیع  مطالبہ اسکیم  /منصوبہ ہے۔  وی پی آر پی کو ہرسال  اکتوبر سے دسمبر تک گرام سبھا  اجلاس میں پیش کیا جاتاہے۔

یہ منصوبہ بندی عمل  ڈی اے وائی –این آر ایل ایم اور مقامی خود مختار  اداروں (پنچایتی راج داروں) کے درمیان  تال میل  بنانے کی  کوشش کا  جزو ہے۔  پنچایتی راج وزارت اور دیہی ترقیاتی وزارت کے ذریعہ  19-2018 اور 20-2019 میں وی پی آر پی   اور جی پی جی پی  کے ساتھ   اسکے  شروع کرنے کے تیاری پر  سرکلر  /مشورے  جاری کئےگئے ہیں۔ یہ عمل  غریب کنبوں ، جو ڈی اے  وائی –این آر ایل ایم کے تحت   تشکیل دیئے گئے ایس ایچ جی کے ارکان ہوتےہیں، کو حصہ داری  عمل میں ان کی مانگوں کو  اٹھانے اور حتمی منصوبوں پر  غور کرنےکے لئے گرام پنچایتوں کو  پیش کرنے میں  اہل بناتی ہے۔ یہ ایس ایچ جی  کے ذریعہ  تیار  وی او کے ذریعہ  منظم  اور حتمی طور سے گرام پنچایت سطح پر تیار ایک وسیع منصوبے ےکے ساتھ شروع ہوتی ہے۔حتمی وی آر پی  جی ڈی پی ڈی  کے لئے  منعقدہ  گرام سبھا میں  پیش کیا جائے گا۔

وی پی آر پی کےمقاصد  تین گنا ہیں۔

  1. مقامی ترقی کے لئے ایک وسیع معاشرتی  ایک امتزاجی مانگ  منصوبہ   تیار کرنا۔
  2. مانگ منصوبے کے  فروغ کے لئے  ایس ایچ جی ایسوسی ایشن اور پنچایتی راج  اداروں کے درمیان  ایک انٹر فیس کو سہل بنانا۔
  3. غریبی کو کم از کم کرنے سے متعلق  سرگرمیوں میں  سرگرم حصہ داری کے لئے معاشرے پر مبنی  تنظیموں اور ان  کی قیادت کو مضبوط بنانا۔

وی پی آر پی کے اجزا

وی پی آر پی  کے تحت مانگوں کو  پانچ اہم اجزا میں تقسیم کیا جاتاہے:

  1. سماجی شمولیت-این آر ایل ایم کے تحت ایس ایچ جی میں کمزور لوگوں/کنبوں کی شمولیت کا  منصوبہ۔
  2. حقداری: منریگا ، ایس بی ایم ، این ایس اے پی ، پی ایم  اے وائی، اوجولا،  راشن کارڈ وغیرہ جیسی مختلف  اسکیموں کے لئے مانگ۔
  3. گذر بسر یا روزگار :زراعت ، مویشی پروری  کے فروغ ،  پیداوار  اور خدمات صنعتوں اور پلیس منٹ وغیرہ کےلئے  ہنر کی  تربیت کے ذریعہ  روزگار میں اضافہ کے لئے  خصوصی مانگ۔
  4. سرکاری اشیا  اور خدمات:موجودہ  بنیادی ڈھانچہ  کے  تعمیر نو فروغ اور بہتر خدمات کی فراہمی کے لئے ضروری بنیادی  انفراسٹرکچر کی مانگ۔
  5. وسائل کی ترقی –زمین ، پانی ، جنگلات  اور مقامی طور سے  دستیاب دیگر وسائل  جیسے قدرتی وسائل  کے تحفظ  اور فروغ کی مانگ
  6. سماجی ترقی-جی پی ڈی پی  کے کم لاگت ، بغیر لاگت  اجزا کے تحت گاؤں  کی خصوصی سماجی ترقی پر دھیان دینے کے لئے  منصوبے تیار کئے گئے۔

ریاستی مشنوں کے لئے وی پی آر پی  پر تربیت

موجودہ کووڈ19 صورتحال کے ساتھ ڈی اے وائی –ایم آر ایل ایم نے کدمبا شری (قومی  وسائل تنظیم)،قومی دیہی ترقی اور پنچایتی راج  اداروں (این آئی آر ڈی پی آر)، حیدرآباد اور پنچایتی راج وزارت کی   شراکت داری نے وی پی آر پی پر  ملک بھرمیں تمام ریاستی مشنوں کو  تربیت دینے کے لئے ایک آن لائن  تربیتی پروگرام کا خاکہ بنایا ہے۔   پانچ ریاستوں-آسام،  منی پور، میزورم، تریپورہ اور اترپردیش میں دیہی غریبی کو کم سے کم کرنے سے متعلق  منصوبوں کی تیاری میں کدمبا شری این آر او کے  تجربے  پر مبنی  آن لائن وی پی آر پی تربیت کے لئے  وسائل  سامان کے طو رپر  استعمال کے لئے تیار   آلات /اوزاروں، تربیتی ماڈل ، آڈیو  ویڈیو اور تجربات  مشترک کرنے والے    ویڈیو وغیرہ کو فروغ دیا گیا ہے جہاں ان کی مدد سے پی آر آئی-سی ڈی او   پر  پروجیکٹس عمل درآمد کیا گیا ہے۔وسائل سامان کو  ریاستوں کے ساتھ مشترک  کیاگیا  جنہیں ریاستوں کی  ضرورت کے مطابق تیار کیا گیا اور ان میں ترمیم کی گئی نیز  مقامی زبانوں میں  ترجمہ کیا گیا۔  ریاستی مشنوں کےذریعہ    تربیت کی ترقی کی نگرانی کے لئے  ایک ویب پر مبنی ایپلی کیشن کو بھی تیار کیا گیا ہے۔

34 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں  ملازمین اور دیگر وسائل  لوگوں کے لئے دو مرحلوں میں تربیت  کو آپریٹ کیا گیا۔  دیہی فروغ کی ریاستی  تنظیموں  (ایس آئی آر ڈی) اور دیگر شراکت دار ایجنسیوں نے   ورچوئل  تربیتی پروگرام میں  حصہ لیا۔  پہلے مرحلے کی تربیت   کا انتظام  13 سے 25 اگست ، 2020 تک  کیاگیا۔  جس میں  11 ہزار 687 حصہ داروں کو تربیت دی گئی۔ تربیت کے پہلے مرحلے میں وی پی آر پی اور  جی پی ڈی پی   نظریات کی سمجھ کو  فروغ دینےکی  اور ہر جزو کی تیاری کے عمل ، آخری منصوبوں   کےجزو اور  گرام سبھا میں پیش کش اور ریاستی مشنوں کے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی۔  ورچوئل تربیتوں کی حدود کے باوجود ،  حصہ داروں کا مجموعی  ریسپانس  مثبت اور حوصلہ افزاتھا۔  پہلے مرحلے کے  اختتام کے بعد، شراکت داروں یا حصہ داروں نے  عمل کو سیکھنے کے لئے  ایس ایچ جی اور  ایک  دیہی تنظیم (وی اے) کےچھوٹے نمونے کے ساتھ   عمل پر  /طریقہ کار پر ایک  چھوٹی ایکسپریمنٹل   پریکٹس پر کام کیا۔

تربیت کا دوسرا مرحلہ (ہر ریاست کے لئے)ایک ایک دن ریاستی مشنوں  کے  لئے  3 سےپانچ ستمبر2020 تک چلایا گیا جس نے  10583 حصہ داروں نے   حصہ لیا ۔ دوسرےمرحلے میں تیار کی گئی   این آئی ایس کےذریعہ   وی پی آر پی کی   شروعات کی نگرانی پر  ایک اجلاس سمیت وی پی آر پی   شروع کرنے کا  عملی منصوبہ    کو  مشترک کرنےپر  فوکس کیا گیا۔

 یہ تربیت یافتہ  وسائل کے لوگ  اس کے بدلے  معاشرتی وسائل کے لوگوں کو تربیت دیں گے  اور وہ وی پی آر پی  تیار کرنے میں ایس ایچ جی اور ویو کو سہل بنائیں گے۔  جنہیں  اس کے بعد  جی پی ڈی پی  کے ساتھ ضم کرنے کے لئے گرام سبھا میٹنگوں میں  منظم  اور  پیش کیا جائے گا۔  

 

م ن۔   ش ت  ۔ ج

Uno-5318

 



(Release ID: 1653726) Visitor Counter : 28


Read this release in: English , Hindi , Punjabi