وزارتِ تعلیم

مرکزی وزیر تعلیم نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل)کے ذریعے منعقد عالمی اردو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے ورچوول طورپر خطاب کیا


اردو بھارت کے ثقافتی ورثہ کا مجموعہ ہے:رمیش پوکھریال نشنک

اردو کے قلمکاروں اور ادیبوں کو اگلے سال سے اردو کی اہم شخصیات کے نام پر انعامات و اعزازات سے نوازا جائے گا:وزیر تعلیم

Posted On: 27 AUG 2020 11:15PM by PIB Delhi

نئی دہلی ،27اگست2020: مرکزی وزیر تعلیم جناب رمیش پوکھریال‘نشنک’نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان(این سی پی یو ایل)  کے ذریعے آج نئی دہلی میں منعقد دو رزہ عالمی اردو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے ورچوول طورپر خطاب کیا۔

اس موقع پر بولتے ہوئے جناب پوکھریال نے اس بات پر زور دیا کہ اردو نہ صرف گنگا جمنی تہذیب کی زبان ہے، بلکہ یہ انسانیت ، دل اور روح کی بھی زبان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس ویبی نار کا انعقاد اردو کی آفاقیت ، اس کے شمولیتی اقدار اور تخلیقی کردار کا جشن منانے کے لئے کیا گیا ہے۔انہوں نے فخریہ انداز میں اعلان کیا کہ این سی پی یو ایل دنیا کا سب سے بڑا اردو نیٹ ورک بن چکا ہے۔جناب نشنک نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی بذات خود ہندوستانی ثقافتی ورثے سے محبت کرتے ہیں اورمانتے ہیں کہ دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور ایسے میں کوئی بھی زبان جدید ٹیکنالوجی کی مدد کے بغیر  اپنے قارئین کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم نہیں کرسکتی اور اسی لئے این سی پی یو ایل ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی نئی بلندیوں کو چھُو رہا ہے۔اردو ویب سائٹ اس کی بڑھتی مقبولیت کا گواہ ہے۔

 

وزیر تعلیم نے ایک اہم اعلان کیا اور کہا کہ اردو کے قلمکاروں اور ادیبوں کو ان کی ادبی اور تکنیکی خدمات کے لئے اگلے سال سے این سی پی یو ایل کی طرف سے امیر خسرو، مرزا غالب ، آغا حشر، رام بابو سکسینہ اور دیا شنکر نسیم جیسی اردو کی اہم شخصیات کے نام پر انعامات و عزازات سے نوازا جائے گا۔

این سی پی یو ایل کے نائب چیئر مین پروفیسر شاہد اختر نے کہا کہ آج کا دور ویبی ناروں اور وائی فائی ٹیکنالوجی کا  دورہے، جہاں تمام چیزوں کو سوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعے اسمارٹ فون میں ڈال دیا گیا ہے۔ لہٰذا اردو کو بھی دیگر زبانوں کی طرح ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہوگا۔

این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ وہ وزیر اعظم مودی کی قیادت والی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ اس نے  این سی پی یو ایل کا بجٹ بڑھا کر دوگنا کردیا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور دنیا کی تمام زبانوں کا مقصد باہمی اتحادو  ہم آہنگی حاصل کرنا ہے۔انہوں نے ہندوستان کے شمالی خطے میں پیدا ہونے والی اردو زبان کو اس کا واجب حق اور مدد فراہم کرنے کےلئے وزیر اعظم اور وزارت تعلیم کا بھی شکریہ ادا کیا۔

اردو کے نامور پروفیسر زما ن آزردہ نے کہا کہ قلمکار، شاعر اور مصنف سیاسی ، مذہبی اور سماجی نظام کی آنکھ ہوتے ہیں اور زبان و ادب کے شائقین کے تئیں ان کی ایک بڑی ذمہ داری ہے، لہٰذا انہیں مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔

شرکاء نے اس حقیقت کا بھی اظہار کیا کہ اردو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی علامت رہی ہے، جو خانقاہوں ، تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر کے بعد بازار کی زبان بن گئی۔

این سی پی یو ایل کی طرف سے تحسین منور، اجمل سعید  اور ڈاکٹر کلیم اللہ نے  بہترین اندا ز اور پیشہ ورانہ طریقہ سے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔این سی پی یو ایل کے اکیڈمک انچارج نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو نہ صرف دل کی، بلکہ مستقبل کی بھی زبان ہے۔

 

********

 

م ن۔ق ت۔ن ع

 (U: 4863)



(Release ID: 1649153) Visitor Counter : 310


Read this release in: English , Manipuri , Tamil