کابینہ

کابینہ نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو منظوری دی، ملک میں اسکول اور اعلیٰ تعلیم کے نظام میں تغیراتی تبدیلیوں کا راستہ ہموار کیا

نئی پالیسی کا مقصد 2030 تک اسکولی تعلیم میں 100فیصد جی ای آر کے ساتھ ما قبل اسکول سے لے کر ثانوی سطح تک یکسانیت متعارف کرانا ہے

این ای پی 2020 اسکول چھوڑ چکے 2کروڑ بچوں کو دوبارہ مرکزی دھارے میں لائے گی

نیا 4+3+3+5اسکولی نصاب 12 سال کی اسکولنگ اور 3سال کی آنگن واڑی ؍ ما قبل اسکولنگ پر مشتمل ہوگا

بنیادی خواندگی اور حساب کتاب سیکھنے پر زور، تعلیمی شعبوں میں علیحدگی کا فرسودہ نظام رائج نہیں ہوگا، علاوہ تعلیم دیگر سرگرمیاں اور پیشہ ورانہ شعبے میں اسکولوں میں متعارف کرائی جائیں گی، پیشہ ورانہ تعلیم درجہ 6 سے انٹرن شپ کےساتھ شروع ہوگی

کم از کم گریڈ 5تک کی تدریس مادری ؍ علاقائی زبان میں ہوگی

360ڈگری کے مجموعی پیش رفت کارڈ کے ساتھ احتساب اصلاحات تدریس کے نتائج کے حصول کے لئے طالب علم کی پیش رفت پر نظر رکھی جائے گی

اعلیٰ تعلیم میں جی ای آر 2035 تک بڑھا کر 50فیصد کیا جائے گا، اعلیٰ تعلیم میں 3.5کروڑ نشستوں کا اضافہ ہوگا

اعلیٰ تعلیمی نصاب میں مضامین کے سلسلے میں لچیلا پن ہوگا

معقول اسناد بندی کے ساتھ کثیر النوع داخلہ ؍ انخلا کی اجازت ہوگی

قرض  کے ٹرانسفر کے عمل ک

Posted On: 29 JUL 2020 5:20PM by PIB Delhi

نئی دہلی،29جولائی ، 2020،مرکزی کابینہ نے وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں آج قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو اپنی منظوری دے دی ہے۔ اس کے ذریعے اسکول اور اعلیٰ تعلیم دونوں شعبوں میں بڑے پیمانے پر تغیراتی اصلاحات کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔ یہ اکیسویں صدی کی پہلی تعلیمی پالیسی ہے اور اس نے 34سالہ پرانی قومی پالیسی برائے تعلیم (این پی ای)، 1986 کی جگہ لی ہے۔ اس کی تعمیر یا تشکیل رسائی، مساوات، کوالٹی، لائق استطاعت ہونے اور احتساب کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے۔ یہ پالیسی ہمہ گیر ترقیات کے 2030 کے ایجنڈے سے مربوط ہے اور اس کا مقصد بھارت کو ایک فعا ل مبنی بر علم معاشرہ اور اسکول اور کالج کی تعلیم ، دونوں کو زیادہ سے زیادہ مجموعی اور جامع ، لچیلی، کثیر النوع، جو 21ویں صدی کی ضروریات کے مطابق کھری اترتی ہو، کے مطابق ڈھال کر بھارت کی تصویر کویکسربدلنا ہے۔ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہر ایک طالب علم کے اندر مضمر منفرد صلاحیتوں کو پروان چڑھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

اہم جھلکیاں

اسکولی تعلیم

اسکولی تعلیم کی ہر سطح پر عام رسائی کو یقینی بنانا

این ای پی 2020 اس بات پر زور دیتی ہے کہ اسکولی تعلیم ہر سطح پر یعنی ماقبل اسکول سے لے کر ثانوی درجے تک عام رسائی کی سہولت کی حامل ہو۔ بنیادی ڈھانچہ کے ذریعے تقویت بہم پہنچا کر، اختراع پر مبنی تعلیم کے مراکز قائم کر کے اسکول چھوڑنے والوں کو اہم دھارے میں لانا، طلبہ کے اندر مضمر صلاحیتوں اور ان کی تدریس کی سطحوں کی شناخت، رسمی اور غیر رسمی تعلیم کے طریقوں کو استعمال کر کے تدریس کے مختلف النوع پہلوؤں کو اجاگر کرنا، مشیروں یا  ماہر تربیت یافتہ سماجی کارکنان کو اسکولوں کے ساتھ مربوط کرنا، درجہ3، درجہ 5 اور درجہ 8 کے درجات کےلئے اوپن لرننگ، جو این آئی او ایس اور ریاستی اوپن اسکولوں کےذریعے فراہم کی جائے گی، ثانوی تعلیمی پروگرام 10اور12گریڈ س کے حامل ہوں گے، پیشہ ورانہ کورسیز دستیاب ہوں گے، بالغ خواندگی اور زندگی کو مالا مال کرنے والے پروگرام جیسے چند پہلو اس مقصد کے حصول کے لئے شامل کرنے کی تجویز ہے۔ اسکول چھوڑ چکے تقریبا 2کروڑ بچوں کو این ای پی 2020 کے تحت واپس اہم دھارے میں لایا جائے گا۔

بچپن کی نگہداشت اورنصابی اور تعلیمی نفسیات ڈھانچے کے ساتھ نیا نصاب

بچپن کی نگہداشت اور تعلیم پر زور دیتے ہوئے 2+10اسکولی نصاب کی جگہ 4+3+3+5نصاب کا ڈھانچہ  بالترتیب 8-3، 11-8، 14-11، اور 18-14 عمروں کے لئے متعارف کرایا جانا ہے۔ اس سے اب تک اسکولی نصاب کے تحت 3 سے 6برس کے عمر کے گروپ پر جو احاطہ نہیں کیا گیا ہے، وہ زیراحاطہ لایا جا سکے گا۔ واضح رہے کہ اس عمر کو ایک بچے کی ذہنی صلاحیتوں کی نشو نما کےلئے عالمی پیمانے پر اہم مرحلہ تسلیم کیا گیا ہے۔ نیا نظام ایسا ہوگا، جس میں 12 سال کی اسکولی تعلیم کے ساتھ 3سال کی آنگن واڑی  ؍ ماقبل اسکول تعلیم شامل ہوگی۔

این سی ای آر ٹی، بچپن کی نگہداشت اور تعلیم کے لئے ایک قومی نصاب اور تعلیمی نفسیات پر مبنی فریم ورک (این سی پی ایف ای سی سی ای)، تیار کرے گی، جو 8برس کی عمر تک کے بچوں کے لئے ہوگا۔ ای سی سی ای کی بہم رسانی خاطر خواہ طور پر توسیع شدہ اور مستحکم نظام کے حامل اداروں کے ذریعے کی جائے گی، جس میں آنگن واڑی ادارے اور ماقبل اسکول کے ادارے شامل ہوں گے، جہاں ای سی سی ای تعلیمی نفسیات اورنصاب میں تربیت یافتہ آنگن واڑی کارکنان تعینات کئے جائیں گے۔ ای سی سی ای کی منصوبہ بندی اور نفاذ کا عمل انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت، خواتین اور اطفال ترقیات  (ڈبلیو سی ڈی)، صحت اور کنبہ بہبود کی وزارت(ایچ ایف ڈبلیو) اور قبائلی امور کی وزارت  کے ذریعے مشترکہ طور پر انجام دیا جائے گا۔

بنیادی خواندگی اور حساب کتاب سیکھنے کا عمل

تدریس کے شعبے میں بنیادی خواندگی اور حساب کتاب سیکھنے کے عمل کو فوری اور ضروری پیشگی شرط تسلیم کرتے ہوئے،  این ای پی 2020 نے انسانی وسائل کی ترقی اورفروغ کی جانب سے ایک قومی مشن برائے بنیادی خواندگی اور حساب کتاب کی تشکیل کی ضرورت کا پہلو اجاگر کیا ہے۔ ریاستیں آفاقی بنیادی خواندگی اور حساب کتاب سکھانے کے لئے نفاذ کا ایک منصوبہ تمام پرائمری اسکولوں کےلئے سبھی زیر تدریس بچوں کےلئے تیار کریں گی اور اس میں 3گریڈ ہوں گے اور یہ منصوبہ 2025تک وضع کر لیا جائے گا۔ایک قومی کتب فروغ پالیسی بھی وضع کی جانی ہے۔

اسکولی نصاب اور تعلیمی نفسیات میں اصلاحات

اسکولی نصاب اور تعلیمی نفسیات کا مقصد، زیر تدریس بچوں کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔اس سلسلے میں انہیں 21ویں صدی کی کلیدی ہنرمندیوں سے آگاہ کیا جائے گا۔ ضروری تدریس میں اضافے کے لئے نصابی مواد میں تخفیف کی جائے گی۔ ان کے اندر تنقیدی فکر کو فروغ دیا جائے گااور تجرباتی تدریس پر افزوں توجہ مرکوز کی جائے گی۔ طلبہ کے پاس  مضامین کے انتخاب کےلئے افزوں متبادل دستیاب ہوں گے۔ آرٹس اور سائنسز کے شعبوں میں سخت علیحدگی یا تفریق نہیں ہوگی۔ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں اور پیشہ ورانہ اور تعلیمی اسٹریم میں بھی فرسودہ تفریق نہیں ہوگی۔

پیشہ ورانہ تعلیم اسکولوں میں درجہ 6 سے شروع ہو جائے گی اور اس میں انٹرن شپ بھی شامل ہوگی۔ایک نیا اور جامع قومی نصابی فریم ورک برائے اسکولی تعلیم، این سی ایف ایس ای 21-2020، این سی آر ٹی کےذریعے وضع کیا جائے گا۔

کثیر لسانی طریقہ کار کو اپنانا اور زبان کی قوت

پالیسی میں مادری زبان ؍ مقامی زبان ؍ علاقائی زبان کو کم از کم درجہ 5 تک تعلیم دینے کے نظام کے طورپر لازمی طور پر اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔ ترجیحاتی طورپر درجہ 8 تک اور اس کے بعد بھی اسے جاری رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ سنسکرت زبان اسکول اور اعلیٰ تعلیم کی ہر سطح پر طلبہ کے لئے متبادل کے طور پر دستیاب ہوگی۔ اس میں سہ لسانی فارمولہ شامل ہوگا۔ بھارت کی دیگر کلاسیکی زبانیں اور ادب بھی متبادل کے طورپر دستیاب ہوں گے۔ طلبہ بھارت کی زبانیں کے موضوع پر ایک تفریحی پروجیکٹ ؍ سرگرمی میں شامل ہوں گے۔ کبھی کبھی درجہ 6سے درجہ 8 کے دوران مثلا ایک بھارت شریشٹھ بھارت پہل قدمی کے تحت وہ ایسا کریں گے۔ متعدد غیر ملکی زبانیں بھی ثانوی سطح پر متعارف کرائی جائیں گی۔ بھارت کی علامتی زبان (آئی ایس ایل)، کو ملک بھر میں معیار بند کیا جائے گااور قومی اور ریاستی نصابی مواد وضع کیاجائے گا تاکہ کمزور قوت سماعت والے طلبہ ان کا استعمال کر سکیں۔

احتساب سے متعلق اصلاحات

این ای پی 2020میں کہا گیا ہے کہ مجموعی احتساب سے درگزر کرتے ہوئے باقاعدہ اور سلسلے وار تخلیقی احتساب پر زور دیاجائے گا، جو افزوں طور پر اثر انگیزی پر  مبنی ہوگا اور تدریس اور ترقیات کو فروغ دیگا اور اعلیٰ سطح کی ہنرمندیوں کی جانچ کرے گا۔ ان میں تجزیہ، تنقیدی انداز فکر اور نظریات کی وضاحت شامل ہیں۔تمام طلبہ اسکول کے امتحان درجہ3، درجہ 5اور درجہ 8 کے تحت دیں گے، جس کا اہتمام معقول اتھارٹی کے ذریعے کیا جائے گا۔ 10ویں اور 12ویں درجات کےلئے بورڈ امتحانات جاری رکھے جائیں گے۔ تاہم مجموعی ترقیات کوایک مقصد بنا کر انہیں ازسرنو ڈیزائن کیا جائے گا۔ ایک قومی احتساب مرکز، پی اے آر اے کے ایچ (کارکردگی کا تجزیہ، نظرثانی اور مجموعی ترقی کے لئے علم کا تجزیہ )،  کا قیام معیاری سیٹنگ باڈی کے طور پر  عمل میں لایا جائےگا۔

مساوی اور مبنی بر شمولیت تعلیم

این ای پی 2020 کا مقصد، اس امر کویقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی بچہ محض اپنے پیدائش یا پس منظر کے حالات کی وجہ سے علم حاصل کرنے یا اس میں عمدگی حاصل کرنےکے کسی بھی موقع سے محروم نہ رہے۔ سماجی اور اقتصادی طور پر محروم گروپوں(ایس ای ڈی جی، سماجی، ثقافتی اور جغرافیائی شناخت اورمعذوری)،  پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔اس کے تحت ایک صنفی شمولیت فنڈ تشکیل دیاجائے گااور ساتھ ہی ساتھ مراعات سے محروم خطوں اور گروپوں کے لئے خصوصی تعلیمی زون تشکیل دیئے جائیں گے۔ معذور ی کے شکار بچوں کو بنیادی سطح سے اعلیٰ تعلیم کے تمام مراحل تک ریگولر اسکولنگ کے عمل میں شامل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے اور انہیں ان کی معذوری پر قابو پانے کی تربیت ان کے اساتذہ کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ وسائل کے مراکز، رہائش گاہیں، امدادی آلات، معقول ٹیکنالوجی پر مبنی آلات اور دیگر امدادی میکانزم اس انداز وضع کیا جائے گا اور فراہم کیا جائے گا، جو ان کی ضروریات کے عین مطابق ہو۔ہر ایک ریاست ؍ ضلعے کو حوصلہ افزائی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ خصوصی دن بھر کے بورڈنگ اسکول کے طور پر بال بھون قائم کرے تاکہ آرٹ سے متعلق، کریئر سے متعلق اور کھیل کود سے متعلق سرگرمیوں میں شمولیت ہو۔ساماجک چیتنا کیندر کے طور پر  اسکول کے بنیادی ڈھانچے کو مفت استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بڑے پیمانے پر اساتذہ کی بھرتی اورکریئر کا راستہ

اساتذہ کی بھرتی بڑے پیمانے پر شفاف عمل کے ذریعے کی جائے گی،  ترقیاں  کثیر ذرائع کے لئے  مقررہ  مدت  میں  کارکردگی  کی تفصیلات کے ایک نظام  کے ذریعے خصوصیات کی بنیاد پر ،ایجوکیشنل  ایڈمنسٹریٹرس  یا ٹیچر  بننے کے لئے ترقی کے دستیاب راستوں  کے ذریعے ہوگی۔  اساتذہ کے لئے پیشہ ورانہ قومی  معیارات (این پی ایس ٹی)  جو  مشترکہ ہوگا، 2022 تک نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن کی طرف سے تیار کیا جائے گا۔ این پی ایس ٹی ، این سی ای آر ٹی ، ایس  سی ای آر ٹی  ٹیچروں اور ماہرین کی تنظیموں کے ساتھ ہر سطح اور  خطے  میں صلاح ومشورے کے بعد تیار کیا جائے گا۔

اسکول گورننس

اسکولوں کا انعقاد، کمپلیکس یا کلسٹر  کی شکل میں کیا جاسکتا ہے، جو گورننس کی  بنیادی اکائی ہوگا اور اس سے بنیادی ڈھانچے، تعلیمی لائبریریوں اور ایک مضبوط پیشہ ورانہ اساتذہ برادری سمیت  تمام وسائل کی دستیابی کو  یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

اسکولی تعلیم کے لئے معیاری بندوبست اور  منظوری

این ای پی – 2020  میں  پالیسی سازی ، ضابطہ بندی ، کام کاج اور تعلیمی معاملات  کے لئے  واضح اور علیحدہ نظام  کی بات کہی گئی ہے۔ ریاستیں ؍ مرکز  کے زیر انتظام علاقے ، ریاستی اسکول اسٹینڈرڈس کی آزاد اتھارٹی  (ایس ایس   ایس اے)  قائم کرے گی۔ سبھی بنیادی  ضابطہ جاتی معلومات  کا سرکاری طور پر شفاف طریقے سے خود انکشاف  کا طریقہ اپنایا  جائے گا، جو  ایس ایس ایس اے  نے تیار کیا ہے۔ یہ طریقہ  لوگوں کے دیکھنے اور  جواب دہی کے لئے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جائے گا۔ ایس  سی ای آر ٹی ، سبھی متعلقہ فریقوں کے ساتھ  صلاح ومشورے کے  ذریعے اسکول کی کوالٹی کے جائزے اور  منظوری  کا فریم ورک (ایس کیو اے اے ایف)  تیار کرے گا۔

اعلیٰ تعلیم

جی  ای آرمیں   2035 تک 50 فیصد اضافہ کیا جائے

این ای پی 2020 کا مقصد اعلیٰ تعلیم میں  بڑے پیمانے پر رجسٹریشن کے تناسب میں اضافہ کرنا ہے، جس میں 2035 تک پیشہ ورانہ تعلیم کو  26.3 فیصد (2018)  سے  50 فیصد  کرنا ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 3.5 کروڑ  نئی سیٹیں قائم کرنا ہے۔

مجموعی کثیر مضمون والی تعلیم

پالیسی میں  وسیع بنیاد والی کثیر  مضمون والی مجموعی لچک دار نصاب والی، مضمونوں کے تخلیقی امتزاج، پیشہ ورانہ تعلیم کے ارتباط ، مناسب سرٹیفکٹ کے ساتھ  داخلے اور نکاس کی کئی جگہوں کے ساتھ انڈر گریجویٹ تعلیم کی بات کہی گئی ہے۔ انڈر گریجویٹ تعلیم  تین یا چار  سال کی ہوسکتی ہے، جس میں  نکاسی کے کئی متبادل اور اس مدت کے اندر اندر موزوں سرٹیفکیشن ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سال کے بعد سرٹیفکٹ، دو سال کے بعد ایڈوانس ڈپلومہ، تین سال کے بعد بیچلرس ڈگری، 4 سال کے بعد تحقیق والا بیچلر۔

تعلیمی قرض دینے والا ایک  بینک قائم کیا جائے گا، جو  مختلف ایچ ای آئی سے  حاصل کئے گئے تعلیمی قرضوں کے اعداد وشمار ڈیجیٹل طریقے سے اپنے پاس رکھے گا تاکہ انہیں فائنل ڈگری کے موقع پر منتقل کیا  جاسکے اور ان کی گنتی کی جاسکے۔

کثیر مضامین کی تعلیم اور تحقیقی یونیورسٹیاں (ایم ای آر یو) ، جو  آئی آئی ٹی  اور آئی آئی ایم کی سطح پر ہوں گی، قائم کی جائیں گی۔ یہ یونیورسٹیاں ملک میں عالمی معیارات کی کثیر مضامین والی بہترین تعلیم کی مثال ہوں گی۔

قومی تحقیق کی فاؤنڈیشن تشکیل دی جائے گی، جو  تحقیق کا ایک مضبوط کلچر فروغ دینے اور  اعلیٰ تعلیم میں تحقیق کی صلاحیت سازی کے لئے ایک  اعلیٰ ترین ادارہ ہوگا۔

ضابطہ بندی

بھارت کا اعلیٰ تعلیم سے متعلق کمیشن (ایچ ای سی آئی)  طبی اور قانونی تعلیم کو چھوڑ کر  تمام اعلیٰ تعلیم کے لئے ایک واحد مرکزی ادارے کے طور پر قائم کیا جائے گا۔ ایچ ای سی آئی میں چار  زمرے ہوں گے- ضابطہ بندی کے لئے اعلیٰ  تعلیم سے متعلق قومی ضابطہ جاتی کونسل ( این ایچ ای آر سی)، معیاری بندو بست کے لئے عام تعلیمی کونسل (جی ای سی)،  فنڈنگ کے لئے اعلیٰ تعلیم کی  امداد سے متعلق کونسل (ایچ ای جی سی) اور منظوری کے لئے قومی منظوری کونسل (این اے سی)۔ ایچ ای سی آئی  ٹیکنالوجی کے ذریعے بنا چہرہ دکھائے مداخلتی انداز میں کام کرے گا اور  اس کے بعد ایسے ایچ ای آئی کو سزا دینے کے اختیارات ہوں گے، جو اصولوں اور معیارات  پر عمل نہ کرر ہے ہوں، سرکاری اور پرائیویٹ اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو ضابطہ بندی ، منظوری اور تعلیمی معیارات کے لئے انہیں اصولوں کے ساتھ چلایا جائے گا۔

معقول بنایا  گیا ادارہ جاتی آرکیٹکچر

اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بڑے ، وسائل سے مالا مال ،فعال، کثیر مضامین والے اداروں میں تبدیل کیا جائے گا، جن کے تحت اعلیٰ کوالٹی کی تعلیم ، تحقیق اور عوام کی شمولیت کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ یونیورسٹی  کی تعریف میں  ایسے  اداروں کو اجازت دی جائے گی جن کا تعلق زبردست طریقے سے کی جانے والی تحقیق کی یونیورسٹیوں سے لے کر زبردست طریقے سے ٹیچنگ کرنے والی یونیورسٹیوں تک اور  ڈگری  دینے والے خود مختار کالجوں سے ہوگا۔

 کالجوں کی منظوری  15 سال کے عرصے میں مرحلے وار ختم کی جائے گی اور کالجوں کو بتدریج خود مختاری دینے کے لئے مرحلے وار طریقے سے ایک نظام قائم کیا جائے گا۔ یہ بھی  کہا گیا ہے کہ ایک خاص مدت میں ہر کالج کو یا تو   ڈگری دینے والے ایک خود مختار کالج میں یا  کسی یونیورسٹی کے ایک ضمنی  کالج میں تبدیل کیا جائے گا۔

فعال، توانائی سے بھرپور اور اہل اساتذہ

این ای پی نے   اساتذہ کو فعال بنانے، توانائی سے بھرپور بنانے اور ان کی صلاحیت سازی کے لئے سفارشات پیش کی ہیں۔ یہ  کارکردگی  واضح، آزاد، شفاف تقرر ، نصاب  تیار کرنے کی آزادی ، مہارت کے لئے ترغیب دے کر انجام دی جائے گی۔ جو اساتذہ بنیادی ضابطوں پر عمل نہیں کریں گے، ان سے جواب  طلبی کی جائے گی۔

تعلیم اساتذہ

اساتذہ کی تعلیم کے لئے ایک نیااورجامع قومی نصابی خاکہ این سی ایف ٹی ای 2021، این سی ای آرٹی کے مشورے سے این سی ٹی ای تیارکرے گی ۔ سال2030تک اساتذہ کے لئے کم از کم تعلیمی لیاقت 4سال کی مربوط بی ایڈڈگری ہوگی ۔الگ تھلک کام کرنے والے گھٹیامعیاروالے تعلیم اساتذہ کے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔

مینٹرنگ  مشن

مینٹرنگ کے لئے ایک قومی مشن قائم کیاجائے گا جس میں نمایاں کارگذاری والے سینیئر/سبکدوش اساتذہ کے ایک بڑے پول کو لیاجائے گا جس میں ہندوستانی زبانوں کی تعلیم دینے کی صلاحیت رکھنے والے بھی شامل ہو ں گے ۔ اس میں ایسے لوگوں کو شامل کیاجائے گا جو یونیورسٹی /کالج کے اساتذہ  کو قلیل  اورطویل مدتی مینٹرنگ مددفراہم کرانے کے خواہش مندہوں گے ۔

طلباء کی مالی امداد

درج فہرست ذاتوں ، درج فہرست قبائل ، دیگرپسماندہ طبقات اور دیگر ایس ای ڈی جی سے تعلق رکھنے والے طلباء کی صلاحیت کو فروغ دینے کے لئے کوششیں کی جائیں گی ۔ نیشنل اسکالرشپ پورٹل کو اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلباء  کی  مددکرنے ، انھیں فروغ دینے اور ان کی ترقی کا پتہ لگانے کے لئے وسعت دی جائے گی ۔ پرائیویٹ اعلیٰ  تعلیمی اداروں کی اپنے طلباء کو بڑی تعداد میں مفت تعلیم فراہم کرانے اور اسکالرشپ دینے کے لئے حوصلہ افزائی کی جائیگی ۔

کھلی اورفاصلاتی آموزش

جی ای آرمیں اضافے کے لئے اہم رول اداکرنے کے لئے اس کو وسعت دی جائیگی ۔ اعلیٰ ترین معیارکے پروگراموں کے برابرلانے کے لئے آن لائن کورسیز اورڈیجیٹل ریپوزٹری تحقیق کے لئے فنڈ فراہم کرانے ، طلباء کے لئے بہترخدمات فراہم کرانے ، ایم اواوسی کو کریڈٹ کی بنیاد پرتسلیم کرنے جیسے اقدامات کئے جائیں گے ۔

آن لائن تعلیم اور ڈیجیٹل تعلیم

حال ہی میں پیداہونے والی وباء اور عالمی وباء کی صورت حال کے پیش نظر جہاں کہیں روایتی اور ذاتی طورپر تعلیم وتدریس کے طریقے ممکن نہ ہوں وہاں پر معیاری تعلیم کے متبادل طریقو ں کے لئے تیاری کو یقینی بنانے کے مقصد سے آن لائن تعلیم کو فروغ دینے کے لئے جامع سفارشات کی گئی ہیں ۔ اسکول اوراعلیٰ تعلیم دونوں کی ای ۔تعلیمی ضرورتوں کا خیال رکھنے کے لئے فروغ انسانی وسائل کی وزارت میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ ، ڈیجیٹل مواد تیارکرنے اور صلاحیت سازی کے لئے ماحول تیارکرنے کے مقصد سے ایک علیحدہ یونٹ تشکیل دی جائے گی ۔

تعلیم میں ٹکنالوجی

آموزش ، اندازہ قدر، منصوبہ بندی ، انتظام کو فروغ دینے کے لئے ٹکنالوجی کے استعمال سے متعلق خیالات کے آزادانہ تبادلے کے لئے پلیٹ فارم فراہم کرانے کے مقصد سے  ایک خود مختارادارے نیشنل ایجوکیشنل ٹکنالوجی فورم ( این ای ٹی ایف )کی تشکیل کی جائے گی ۔کلاس روم کے عمل کو بہتربنانے ، اساتذہ کے پروفیشنل فروغ ، معاشرے کے محروم گروپوں کے لئے تعلیمی رسائی میں اضافے اور تعلیمی منصوبہ بندی انتظام اور بندوبست کو معقول بنانے کے لئے تعلیم کی تمام سطحوں پر ٹکنالوجی کی مناسب شمولیت کا کام کیاجائے گا۔

ہندوستانی زبانوں کا فروغ

تمام ہندوستانی زبانوں کے تحفظ ، ترقی اور پھلنے پھولنے کو یقینی بنانے کے لئے این ای پی نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹرانسلیشن اینڈ انٹرپریٹیشن ( آئی آئی ٹی آئی ) ، پالی زبان ، فارسی اورپراکرت کے لئے قومی ادارے (یااداروں ) کے قیام ، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سنسکرت اور تمام زبانوں کے محکموں کو مضبوط بنانے ، اعلیٰ تعلیمی اداروں کے پروگراموں میں تعلیمی ذریعہ کے طورپر مادری زبان  /مقامی زبان کے استعمال کی  سفارش کی ہے ۔

ادارہ جاتی تعاون طلباء اور اساتذہ کو تحریک دیکر اورعالمی اعلیٰ درجے کی یونیورسٹیوں کوہمارے ملک میں کھلے کیمپسوں میں داخل ہونے کی اجازت دیکر تعلیم کو بین الاقوامی بنانے کی آسانی فراہم کرائی جائیگی ۔

پروفیشنل تعلیم

تمام طرح کی پروفیشنل تعلیم اعلیٰ تعلیمی نظام کا ایک لازمی حصہ ہوگی ۔ منفرد ٹیکنیکل یونیورسٹیوں ، ہیلتھ سائنس یونیورسٹیوں ، قانونی اورزرعی یونیورسٹیوں وغیرہ کو کثیرمضامین والے اداروں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائیگی ۔

تعلیم بالغان

اس پالیسی کا مقصد نوجوانوں کو بالغوں کی 100فیصد خواندگی ہے۔

تعلیم کے لئے مالیاتی بندوبست

تعلیم کے شعبے میں جلد از جلد سرکاری سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کے 6فیصد تک پہنچانے کے لئے مرکز اورریاستیں مل کرکام کریں گے ۔

 غیرمعمولی مشاورت

2.5لاکھ گرام پنچایتوں ،6600بلاکوں ، 6000یوایل بی ، 676اضلاع ، سے موصولہ تقریباً2لاکھ تجاویز پرمشتمل مشاورت کے غیرمعمولی عمل کے بعد این ای پی 2020تیارکیاگیاہے ۔فروغ انسانی وسائل کی وزارت نے جنوری ، 2025سے ایک غیرمعمولی نوعیت کے تعاون والا ، شمولیت والا اور بہت زیادہ شرکت والا مشاورت کا عمل شروع کیاتھا۔ نئی تعلیمی پالیسی تیارکرنے  کے لئے کمیٹی سابق کابینہ سکریٹری آنجہانی ای ایس آرسبرامنین کی صدارت میں قائم کی گئی تھی جس نے مئی ، 2016میں  اپنی رپورٹ جمع کرائی ۔ اس کی بنیاد پروزارت نے ‘مسودہ قومی تعلیمی پالیسی 2016کے لئے کچھ مادخل ’تیارکئے ۔جون 2017میں ‘کمیٹی برائے  مسودہ قومی تعلیمی پالیسی ’ممتاز سائنسداں پدم وبھوشن ڈاکٹرکے کستوری رنجن کی صدارت میں قائم کی گئی تھی ۔ جس نے 31مئی ، 2019کو فروغ انسانی وسائل کے وزیر کے پاس مسودہ قومی تعلیمی پالیسی ،2019جمع کرایا۔مسودہ قومی تعلیمی پالیسی ۔2019کو متعلقین اورعوام کے نظریات /تجاویز /تبصرے حاصل کرنے کے لئے فروغ انسانی کی ویب سائٹ اور MyGov Innovate مائی جی او وی انوویٹ  پورٹل پراپ لوڈ کیاگیا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ( م ن  ۔اس ۔ اگ ۔ق ر۔ ک ا۔  ع آ)

U- 4213

                      



(Release ID: 1642084) Visitor Counter : 315