سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

جسم کے سیال مادّے کولون کینسر کا ابتدا میں ہی پتہ لگانے کے لئے اشارے دے سکتے ہیں

ڈاکٹر تاتینی رکشت نے کہا ’’ہم نے جن تجرباتی آلات کا استعمال کیا، وہ استعمال میں آسان، آسانی سے قابل رسائی، کفایتی اور کفایتی ہیں اور ان تجربات کو چند گھنٹوں کے اندر ہی انجام دیا جاسکتا ہے۔ ہماری سوچ ہے کہ اس بایو فزیکل نقطہ نظر کا استعمال مؤثر طریقے سے لکویڈ بایوپسی کے ای وی کینسر بایو مارکرس کے کلینکل ٹرانسلیشن کے لئے کیا جاسکتا ہے

Posted On: 20 JUL 2020 6:42PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  20/جولائی 2020 ۔ کولوریکٹل کینسر جو بڑی آنت (کولون) اور ریکٹم یعنی بڑی آنت کے تیسرے و آخری حصے کو متاثر کرتا ہے، ہندوستان میں کینسر سے ہونے والی اموات کی پانچویں سب سے بڑی وجہ ہے۔ بالخصوص اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا دیر سے پتہ چلنے کے سبب صحت مند ہونے کا امکان بہت کم ہوجاتا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران ملک میں خورد و نوش کے متعلق خراب اعداد، جسمانی سرگرمیوں کے فقدان، موٹاپا، الکحل کے بڑھتے استعمال اور طویل مدتی تمباکو نوشی کے سبب نوجوانوں میں کولوریکٹل کینسر کی شرح میں تیز اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بیماری کا پتہ لگانے کے موجودہ طور طریقوں کے لئے جارحانہ بایوپسی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بعد تجزیے کے لئے خصوصی مہارت درکار ہوتی ہے۔ مرض کی بروقت تشخیص میں تاخیر کے سبب فوری اور کفایتی علاج کی سہولت محدود ہوجاتی ہے۔

ڈاکٹر تاتینی رکشت ایس این بوس نیشنل سینٹر فار بیسک سائنسز سے وابستہ ہیں اور حکومت ہند کے سائنس و ٹیکنالوجی محکمہ (ڈی ایس ٹی) کے ذریعے قائم کردہ انسپائر فیکلٹی فیلوشپ ایوارڈ سے نوازی جاچکی ہیں۔ انھوں نے اپنے ریسرچ گروپ کے ساتھ مل کر ایک ایسا حساس ٹول  ڈیولپ کیا ہے جو خون، پیشاب اور پاخانہ جیسے جسم کے سیال مادوں سے بہت ہی ابتدائی مرحلے میں ہی کولون کینسر کی نشان دہی کرنے میں معاون ہوسکتا ہے۔ یہ طریقہ کار جو درستگی کے معاملے میں پولی میریس چین ریکشن (پی سی آر)، انزائم- لنکڈ ایمونوسوربینٹ ایسے (assay- پرکھ جانچ) (ای ایل آئی ایس اے)، الیکٹروفوریسس، سرفیس پلازمون ریزونینس (ایس پی آر)، سرفیس – اِنہانسڈ رمن اسپیکٹرواسکوپی (ایس ای آر ایس)، مائیکروکینٹی لیورس، کولوری میٹرک ایسے، الیکٹروکیمیکل ایسے اور فلوریس سینس طریقہ کار سے زیادہ کامیاب ہے، جو حال ہی میں ’جرنل آف فزیکل کیمسٹری لیٹرس‘ میں شائع ہوئی ہے۔

ڈاکٹر تاتینی کا ریسرچ گروپ  غیر جارحانہ طریقے سے بایو مارکرس کی پہچان کرنے کے لئے سنگل ویسیکل سطح پر ایکسٹرا سیلولر ویسیکلس (ای وی) کے ساتھ کام کررہا ہے۔ ابتدا میں ان ای وی کو سیل کے ذریعے غیر مطلوبہ سامانوں کو ہٹانے کے لئے گاربیج بیگ کی شکل میں سمجھا گیا۔ ان کے ریسرچ گروپ نے ایک ممکنہ کولون کینسر بایو مارکر مولے کیول، ہائی لوروران (ایچ اے) کو سلجھایا، جو کینسر سیلس کے ذریعے بہائے جانے والے لیپڈ تھیلوں کی سطح پر موجود رہتا ہے۔

ایکسٹرا سیلولر ویسیکلس (ای وی) اصل مضر  ٹیشو کے بارے میں مولیکولر انفارمیشن شامل کرتا ہے اور آسان کینسر تشخیص کے لئے ایک وسیع امکان پیدا کردیتا ہے۔ اس ٹیم نے یہ ثابت کیا ہے کہ جسم کے سیال مادے (مثال کے طور پر خون، پیشاب، پاخانہ وغیرہ) سے کینسر سیل سے نکلنے والی ای وی کا تجزیہ اور ٹیومر کا بایوپسی کئے بغیر کلینکل انفارمیشن حاصل کرنا کینسر کا پتہ لگانے کی ایک مؤثر اور غیرجارحانہ متبادل طریقہ کار ثابت ہوسکتا ہے۔

انھوں نے ایٹومک فورس مائیکرواسکوپ کا استعمال کیا، جو کولون کینسر سیلس سے ای وی کی سطح پر ہائیلورونان کی جانچ کرنے کے لئے نینو اسکیل فنگر کو استعمال میں لاتا ہے۔ انھوں نے ایچ اے کے کیریکٹرسٹک سگنیچر کا پتہ لگانے کے لئے اسپیکٹترو اسکوپی تجربات (ایف ٹی – آئی آر، سی ڈی اور آر اے ایم اے این) کو بھی انجام دیا اور دونوں ڈیٹا سیٹ ایک دوسرے سے انتہائی مربوط ہیں۔

ڈاکٹر تاتینی نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہماری ورک اسٹریٹیجی بیماری کے بہت ہی ابتدائی مرحلے میں کولون، بچے دانی، بلیڈر اور پروسٹیٹ کینسر کا پتہ لگانے کے لئے مریضوں سے ای وی نمونوں جیسے کہ خون، پیشاب اور پاخانہ جیسے جسم کے سیال مادے سے اخذ کردہ ای وی نمونے معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہم نے جن تجرباتی ٹولس کا استعمال کیا وہ استعمال میں آسان، آسانی سے قابل رسائی اور کفایتی ہیں اور ان تجربات کو چند گھنٹوں کے اندر ہی انجام دیا جاسکتا ہے۔ ہماری سوچ ہے کہ اس بایوفزیکل نقطہ نظر کا استعمال مؤثر طریقے سے لکویڈ بایوپسی سے ای وی کینسر بایومارکرس کے کلینکل ٹرانسلیشن کے لئے کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے اپنے کولیبوریٹرس، کولکاتہ کے ایس این بوس نیشنل سینٹر فار بیسک سائنسز کے پروفیسر سمیر کمار  پال اور کولکاتہ کے ساہا انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر فزکس کے پروفیسر دولال سیناپتی کے تئیں ان کے مسلسل تعاون کے لئے اور ڈی ایس ٹی کی فیاضانہ ریسرچ فنڈنگ اور فیلوشپ کے لئے گہری احسان مندی کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر تاتینی کا منصوبہ کسی اسپتال کے ساتھ اشتراک کرنے اور بایو فلوڈ نمونوں سے اخذ کردہ ای وی کے ساتھ کام کرنے کی ہے۔ ان کا گروپ بھی بہتر باہمی تعلق کے لئے ان ای وی کا ماس اسپیکٹرو میٹری پر مبنی پروٹیومکس کی انجام دہی کا خواہش مند ہے۔

http://pibphoto.nic.in/documents/rlink/2020/jul/i202072001.gif

اشاعت کا لنک: https://doi.org/10.1021/acs.jpclett.0c01018

مزید معلومات کے لئے رابطہ کریں: ڈاکٹر تاتینی رکشت tatinirakshit@yahoo.com, tatini.rakshit@bose.res.in

 

******

م ن۔ م م۔ م ر

U-NO. 4040

20.07.2020



(Release ID: 1640117) Visitor Counter : 33


Read this release in: English , Hindi , Manipuri , Tamil